Daily Mashriq


اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لیڈر کی پہچان

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لیڈر کی پہچان

2018 ء میں وطن عزیز کے 19کروڑ عوام قانون ساز اسمبلیوں کے امیدواروں کا چنائو کریں گے۔ بد قسمتی سے جب ہم کسی اچھے ، دیانت دار اور ایماندار امیدوار کو ووٹ دینے کی بات کر تے ہیں اورکسی کواس بات پر آمادہ کرنے کی کو شش کرتے ہیں تووہ آگے سے Sorryکرکے کہتا ہے کہ ہمارے خاندان یاقبیلے کا فلاں امیدوار الیکشن میں حصہ لے گا اور ہم نے اپنا ووٹ اُسی کو دینا ہے۔ 19 کروڑپاکستانی بجلی ، گیس لو ڈ شیڈنگ ، مہنگائی، بے روز گاری اور لاقانونیت کا رونا روتے ہیں اور ہمارے یہ مسائل ، بد عنوان لیڈران کی وجہ سے ہے۔ جن کوہم خود اپنے ووٹ سے منتخب کرکے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچا کر اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں ۔قرآن مجید فُر قان حمید اور اسلام میں ذات پات اور قبیلے کی کوئی اہمیت نہیں۔ سورة الحجرات میں ار شاد ہے'' اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تُم میں سب سے زیادہ متقی اور پر ہیزگار ہے''۔ ارشاد خداوندی ہے، لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قبیلوں اور قوموں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچا نو'' ۔زیادہ تر لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرا دادا یا والد فلاں پا رٹی میں تھے،یا ہے، لہٰذا ہم بھی اپنے باپ دادا کی پا رٹی نہیں چھوڑ سکتے ۔سورة البقرہ میں ارشاد ہے'' اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فر مائی ہے اسکی پیروی کرو،تو وہ کہتے ہیں۔۔ نہیں۔۔ بلکہ ہم تو ایسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔

بھلا اگرچہ انکے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں۔ تب بھی انکی تقلید کئے جاتے ہیں''۔پاکستان کے غریبوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ان وڈیروں نے انکی قسمت نہیں بدلنی، بلکہ انہیں اپنی قسمت خود بدلنی ہوگی۔سورة الرعد میں ارشاد ہے اللہ کسی قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنی حالت خود نہ بدلیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں آئیڈیل جمہوری اور اسلامی نظام موجود نہیں مگر اسکے باوجود بھی ہم نے اپنی بساط کے مطابق اچھائی کا ساتھ دیااور ظلم اور جبر کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ سورة انعام آیت نمبر 165 میں ارشاد ہے اور وہی تو ہے جس نے زمین پر تُم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے''۔ رسولۖ اللہ کا ارشاد ہے ''خبر دار رہو تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اُنکی رعیت کے بارے میں پو چھا جائے'' گا ۔ جہاں تک اچھی لیڈر شپ کا تعلق ہے تو ہمیں اُ ن لوگوں کو منتخب کرنا چاہئے جو قُر آن ، احادیث اور اسلامی اصولوں پر کسی حد تک عمل پیرا ہوںاور مذہبی اور دنیاوی علوم دونوں میںزیادہ حد تک با خبر ہو ۔ تاکہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں انصاف اور عدل پر مبنی فیصلے کرسکیں۔ سورة المائدہ میں ارشاد ہے'' بے شک تمہارے پاس اللہ کی طر ف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے''۔ سورة الاحزاب میں ارشاد ہے'' اور آپکے لئے حضور ۖ کی زندگی ایک بہترین نمو نہ ہے''۔ ایک منتخب نمائندے کا علم، عقل اور تجربہ عام لوگوں سے زیادہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ اُنکے منصب کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عام لوگوں سے عقل ، فہم اور دانش کا زیادہ مالک ہو۔سورہ الزمر آیت نمبر 9 میں ارشادہے کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے ،کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نصیحت تو وہی حا صل کرتے ہیں جو عقل مند ہوتے ہیں۔ مولانا مو دودی اور دوسرے بڑے سکالروں کے مطابق ایک اچھے مسلمان لیڈر میں 12 خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ ان خصوصیات میں کسی لیڈرکا اسلامی عقائد کا ہونا، صا دق امین کی خصو صیت، علم اور دانائی، حو صلہ اور مصمم ارادہ، باہمی مشا ورت کا جذبہ ہونا، اتحاد اور اتفاق کا ہونا، اخلاقیات اور پر ہیز گاری ،دوسروں کو دلائل کے ذریعے قائل کرنا، انصاف عدل اور خدا ترسی،صبر بر داشت اور تحمل،ارادے کاپکا ہونا اور مذہب کے لئے کسی قسم کی قُر بانی سے دریغ نہ کرنا،زندگی بھر اسلامی اقدارکے لئے کو شاں ہونا، اللہ کا شکر بجالانااوراسی سے دعا مانگنا اور عصری علوم کا جاننا۔ جہاں تک عقیدے کی بات ہے اللہ تعا لیٰ سورةالبقرہ میں ارشاد فرماتے ہیں جو لو گ ایمان لائے ہیں اُنکا دوست اللہ ہے۔ کوئی بھی لیڈر راسخ ا لعقیدہ ہونا چاہئے اور دنیاوی ، مذہبی اور عصری علوم کے بارے میں جانتا ہو۔رسول اللہ ۖ کا ارشاد ہے کوئی حا کم جو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی منصب سنبھالے پھر اس کی ذمہ داریاں اداکرنے کے لئے جان نہ لڑائے اور خلوص کے ساتھ کام نہ کرے وہ مسلمانوں کے ساتھ جنت میں قطعاً داخل نہیں ہوگا۔سورة النساء میں ارشاد ہے اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیںاہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کروتو عدل کے ساتھ کرو۔نبی ۖ نے حضرت ابوذر سے فر مایا اے ابو ذر تم کمزور آدمی ہو اور حکومت کا منصب ایک امانت ہے۔ قیامت کے روز وہ رسوائی اور ندامت کا موجب ہوگا سوااس شخص کے جو اسکے حق کا پورا پورا لحا ظ کرے اور جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ حضرت علی فرماتے ہیں حکام کا رعیت سے پر دہ کرنا نظر کی تنگی اور علم کی کمی کا شاخسانہ ہے اس پردے کی وجہ سے انکو صحیح حالات معلوم نہیں ہوتے ، چھوٹی باتیں انکے لئے بڑی بن جاتی ہیں اور بڑی باتیں چھوٹی ہوتی ہیں، اچھائی انکے سامنے بُرائی بن کر آجاتی ہے اور بُرائی اچھائی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور حق باطل کے ساتھ غلط ملط ہو جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں