Daily Mashriq


یاں وہ نہیں ہے جو اعتبار کیا

یاں وہ نہیں ہے جو اعتبار کیا

کیا ملک ہے ہمارا بھی۔ ہم میڈیا کی آزادی پر بڑی ڈینگیں مارتے ہیں لیکن جب کوئی با اثر شخص اشارہ کردے تو پورا میڈیا گونگا اور بہرہ بن جاتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ہر خبر پر نظر کا جھومر اپنے ماتھے پر سجا رکھا ہے' ہر پرائیویٹ چینل کی خبر تک رسائی کے لئے دوڑ لگی رہتی ہے۔ پاتال میں بھی کوئی وقوعہ ہو جائے تو اسے دوسرے لمحے بریکنگ نیوز بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ دو گدھا گاڑیوں کے درمیان ٹکر ہونے پر چینل کا رپورٹر پورے لائو لشکر کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ جاتا ہے۔ وزیر اعظم کے کسی جلسے کی رپورٹنگ نشر ہو رہی ہو اسے روک کر فوری خبر آتی ہے میاں چنوں میں گدھا گاڑیوں کی ٹکر کا خوفناک حادثہ رونما ہوا۔ گاڑی بان محفوظ رہے البتہ ایک گاڑی کا گدھا معمولی طور پر زخمی ہوا۔ موقع پر موجود لوگوں کے تاثرات پوچھے جاتے ہیں' گاڑی بانوں کے انٹرویو لئے جاتے ہیں۔ کیمرہ بار بار زخمی گدھے پر فوکس ہوتا ہے۔ وہ مگر گرد و پیش سے بے خبر بڑے اطمینان کے ساتھ زمین پر پڑے تربوز کے چھلکے کھا رہا ہوتا ہے۔ ممکن ہوتا تو رپورٹر گدھے کے تاثرات لینے کی بھی کوشش کرتا، بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ ہر دم بیدار میڈیا کسی بھی عام وقوعے میں بھی سنسنی پیدا کرنے کی ایسی مہارت رکھتا ہے جسے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن گزشتہ ہفتے پاکستان کے کم و بیش دو سو سے زیادہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے راولپنڈی کے ایک سانحے کو جس طرح نظر انداز کیا اس سے تو یوں لگتا ہے کہ وہ سب ناظرین کی آگاہی سے زیادہ اپنی مصلحت کو شیوں کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ جیسے کہ ہم نے عرض کیا گزشتہ ہفتے ملک کی ایک مشہور و معروف نجی ہائوسنگ سوسائٹی نے ایک پرائیویٹ چینل کے تعاون سے راولپنڈی میں ایک سٹیج شو کا اہتمام کیا جو غالباً اس ہائوسنگ سوسائٹی کی کارکردگی کو نمایاں کرنے کاایک حصہ تھا۔ ہمیں اس نجی ہائوسنگ سوسائٹی کے فلاحی کاموں سے کوئی انکار نہیں یہ سٹیج شو بھی بالیقین ایک اچھی کوشش ہوگی مگر کرنا خدا کا ہوا کہ وہ سٹیج جس پر پروگرام پیش کیا جا رہا تھا۔ اس کی تیاری میں کچھ ایسا ناقص میٹریل استعمال کیا گیا تھا جو اس پر بیٹھنے والوں کا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور زمین بوس ہوگیا۔ وہاں موجود لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی ۔ اس افراتفری میں دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس میں مبینہ طور پر ایوان صدر کے ایک ملازم کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت کے ہاتھ پائوں ٹوٹ گئے اور کچھ لوگوں کی کمر کے مہرے ٹوٹنے کی وجہ سے ان کے زندگی بھر کے لئے معذور ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس سانحے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا کہ حادثے کے فوراً بعد انتظامیہ نے لائٹس آف کردیں تاکہ لوگ اس کی ویڈیوز نہ بنا سکیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کے زیادہ ملازمین زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی بجائے موقع سے فرار ہوگئے۔ اندھیرے اور شدید گرمی کی وجہ سے لواحقین کے لئے اپنے زخمیوں کو تلاش کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ گزشتہ رات ایک پرائیویٹ چینل پر ایک شخص روتے ہوئے حادثے کی تفصیلات بیان کر رہا تھا کہ ہمیں تو یوں لگ رہا تھا جیسے کسی بھی امدادی ادارے کو جائے حادثہ پر پہنچنے سے منع کردیاگیا ہو۔ میں نے اپنی اہلیہ کو جو نیم بے ہوشی کے عالم میں ہلنے جلنے کی بھی قابل نہیں رہی تھی پیٹھ پر لاد کر بمشکل اپنی گاڑی تک پہنچایا۔ میری طرح دیگر لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مصروف تھے۔ وہاں اسلام آباد کے ایک نامی گرامی ہسپتال میں ڈاکٹر نے میری اہلیہ کا معائنہ کرکے بعد اس کی پیٹھ کے زخم کو معمولی قرار دے کر درد کی کچھ دوائیاں تجویز کیں اور رخصت کردیا۔ یوں لگتا تھا جیسے ہسپتالوں والوں کو بھی حادثے کے متاثرین کو قبول کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ میری اہلیہ دو روز تک دردوں سے چیختی رہی۔ دوبارہ اسے ہسپتال لے گیا۔ ایکسرے لینے پر معلوم ہوا کہ اس کی کمر کا ایک مہرہ بری طرح متاثر ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اب اس کا عمر بھر کے لئے معذور ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ایک وفاقی وزیر طارق چودھری صاحب جو خود بھی ڈاکٹر ہیں انہوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بتلایا کہ خبر ملتے ہی وہ پندرہ منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ وہاں کوئی طبی امدادی ٹیم موجود نہ تھی۔ ایک قیامت کا سا عالم تھا۔ گھپ اندھیرے میں ہر طرف سے زخمیوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔ وفاقی وزیر نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ حیرت مجھے اس بات پر ہوئی کہ منتظمین نے اپنے بے پناہ اثر و رسوخ کی وجہ سے میڈیا کو کچھ اس انداز سے Manage کیا کہ اس المناک حادثے کی دو سو سے زیادہ پرائیویٹ چینلز پر اس المناک حادثے کی بریکنگ نیوز تو دور کی بات ہے عمومی خبروں میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں آیا۔ اس سے الیکٹرانک میڈیا کی ترجیحات اور کسی بھی با اثر شخص کا اپنے اثر و رسوخ سے انہیں Manage کرنے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کسی کی ایک جنبش ابرو سے نہ تو پھر ان کی کسی خبر پر نظر رہتی ہے اور نہ ہماری خبر اور آپ کا بھروسہ جیسے دعوے قابل اعتبار رہتے ہیں۔ حادثے کے تین چار روز بعد سوشل میڈیا پر اس کی باز گشت سنائی دی تو آہستہ آہستہ پرائیویٹ چینلز کو بھی بادل ناخواستہ اس پر بات کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ اس واقعے پر اسلام آباد کی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنی رہی اور کسی بھی قانونی کارروائی سے گریز کیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سے 48گھنٹوں میں واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ دیکھتے ہیں اب اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات ہمارے لئے اس میں یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا اس بہت بڑے واقعے پر خاموش رہنے کی وجہ کیا تھی جبکہ وہ میاں چنوں میں گدھا گاڑی کی ٹکر کو بھی بریکنگ نیوز بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ میر نے کیا خوب کہا ہے

یہ توہم کا کارخانہ ہے

یاں وہ نہیں ہے جو اعتبار کیا

متعلقہ خبریں