بدلتی دنیا

بدلتی دنیا

اب یہ بحث بہت پرانی ہو چکی ہے کہ ہمارے یہاں کتاب نہیں پڑھی جاتی جسے دیکھیے اپنے سیل فون کے ساتھ مصروف ہے گھروں میں لیپ ٹاپ کی حکمرانی ہے کمپیوٹر کا دور دورہ ہے ٹی وی نے سب کو جکڑ رکھا ہے ریموٹ ہاتھ میں لیے چینلز بدلے جارہے ہیں یہ سب کچھ تو ہونا تھا زمانہ ہمیشہ ایک جیسا تو نہیں رہتا وقت کے ساتھ ساتھ چیزوں نے بدلنا ہوتا ہے اور حضرت انسان کو ان تبدیلیوں کے ساتھ ہی جینا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں لوگ حج کا سفر بحری جہازوں کے ذریعے کیا کرتے تھے اور ایک زمانہ وہ بھی تھا جب فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے پیدل قافلے جایا کرتے تھے آج ہوائی سفر کی وجہ سے فاصلے سمٹتے چلے جارہے ہیںپی ٹی وی پر رات نو بجے کا خبرنامہ تو سب کو یاد ہوگا۔ قرآن کریم کی تلاوت ہوتی قومی ترانہ بجتا اور اس طرح ٹی وی کی نشریات اپنے اختتام کو پہنچتیں۔ اب چوبیس گھنٹے ٹی وی سرگرم عمل ہے بھانت بھانت کے پروگرام، دنیا بھر کی خبریں ، بریکنگ نیوز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ! یہ سب کیا ہے ؟ یہ وہ تبدیلی ہے جو ناگزیر ہے سانئس کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ تو ہونا تھا چند دن پہلے ہمیں ایک کتاب کی ضرورت تھی لائبریرین سے پوچھا انہوں نے کہا کتا ب تو لائبریری میں موجود نہیں ہے پھر انہوں نے کتاب آن لائن تلاش کی اسے ڈائون لوڈ کیا اور ہمیں میل کردی اب کتا ب سافٹ فارم میں ہمارے پاس موجود ہے۔جب ہم چھوٹے تھے تو گلیوں میں گلی ڈنڈا، پٹو گرم، آنکھ مچولی وغیرہ کھیلتے تھے ۔آج کل بچے گلی میں کرکٹ کھیلتے رہتے ہیںکرکٹ نے ایسا اودھم مچا رکھا ہے کہ ہم اپنا قومی کھیل ہاکی بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ فٹ بال جو کم خرچ بالا نشیں قسم کا کھیل ہے بہترین ورزش ہے جو جسمانی لحاظ سے کھلاڑی کوتھوڑے سے وقت میں بہت کچھ دے دیتی ہے لیکن ہماری نوجوان نسل کا پہلا پیار کرکٹ ہے یا پھر گھر آتے ہی کمپیوٹر کھول کر مختلف کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ہم نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے پوچھا بیٹا آپ لیپ ٹاپ پرکیا کھیلتے رہتے ہو تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا بابا آپ نہیں جانتے مختلف قسم کے کھیل ہیں جن میں جی ٹی اے، کریزی ٹیکسی، مڈ ٹائون میڈنیس اور کریمینل کیس وغیرہ ہیں۔ ہمارے پلے تو کچھ نہیں پڑا البتہ کریمینل کیس کا نام سن کر ہمارے کان کھڑے ہوگئے اس لیے جلدی سے پوچھا کریمینل کیس کس قسم کی گیم ہے ؟وہ ہمارا مدعا بھانپتے ہوئے ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ یہ تو بڑی اچھی گیم ہے اس میں مجر م واردات کرتے ہیں اور ہم مجرموں کا کھوج لگاتے ہیں سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہیںکڑی سے کڑی ملاتے ہیں اور بالآخر مجرموں کی گردن پر ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ ہمارے دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ کاش ہمارے پولیس آفیسرز بھی کریمینل کیس کھیلنا شروع کردیں تاکہ یہ بھی جلد از جلد مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں !وقت بدلتا ہے تو زندگی کا رہن سہن اور دوسری دلچسپیاں بھی بدلتی چلی جاتی ہیں۔آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حیرت ختم ہوگئی ہے اب کوئی حیران نہیں ہوتا انفارمیشن کا ایک سیلاب ہے جو بہتا چلا آرہا ہے۔ پہلے بچے جب کہانیاں سنتے تھے تو ان کی آنکھوں میں حیرانیاں جھلکتی تھیں وہ بڑے شوق سے کہانی سننے کی فرمائش کرتے تھے ہماری نانی دادی ہمیں ایک ہی کہانی کے مختلف ورژن سناتی رہتی تھیں اس کے باوجود ہمارا کہانی سننے کا اشتیاق کم نہیں ہوتا تھا۔ ہماری دلچسپی بڑھتی ہی رہتی اب پہلے تو بچے کہانی سننے کی فرمائش ہی نہیں کرتے اور اگر کبھی ہمارے اصرار پر کہانی سننے کے لیے بیٹھ بھی جائیں تو کہانی کی پہلی چند سطریں سنتے ہی ہنستے ہوئے کہتے ہیں بابا ہم یہ کہانی تو پڑھ چکے ہیں کچھ انگریزی اور کچھ اردو میں پڑھی ہوتی ہیں ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اب ہمارے پاس ان کو دینے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا یہ سب کچھ دیکھ کر ہماری سمجھ میں تو یہی بات آتی ہے کہ اب والدین نے بھی اپنے آپ کو بدلنا ہوگا ایسی بہت سی باتیں ہیں جو والدین نہیں جانتے اور بچوں کے علم میں ہوتی ہیں ہمارے بچے آج بہت سی بدلتی ہوئی اقدار کے حوالے سے اپنی الگ رائے رکھتے ہیں رائے کا یہ اختلاف ہی جنریشن گیپ کہلاتا ہے ہمیں اپنی رائے ان پر ٹھونسنے کی بجائے ان کے نکتہ نظر کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے اگر کسی جگہ شدید اختلاف کی صورت بھی پیدا ہوجائے تو انہیں اپنی بات دلائل کے ساتھ سمجھانی چاہیے۔ ان کے ساتھ مکالمہ ہونا چاہیے اور یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہے کہ والدین بھی صاحب مطالعہ ہوں سارے والدین تو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے انہیں زمانے کی کتاب کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے اپنے رویوں میں لچک ضرور رکھنی چاہیے۔ اگر بچوں کی بات میں وزن ہے وہ دلائل سے بات کررہے ہیں تو پھر ان کی بات تسلیم کر لینے میں کیا حرج ہے اس قسم کی صورتحال کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ۔

اداریہ