تکریم پروفیسر کا جنازہ ۔۔

تکریم پروفیسر کا جنازہ ۔۔

پاکستان میں بس چند ادارے ہی اہم ہیں اور چند لوگ ہی ''استحقاق ''رکھتے ہیں کہ وہ اگر مجروح ہوجائے تو اس پر شور کیا جاسکے ۔باقی سب تو سستا مال ہیں ۔استحقاق سے عاری ،جن کی عزت نفس کوئی بھی کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت میں مجروح کرسکتا ہے ۔ہمارے ملک خدادادمیں کچھ ادارے اور طبقے بھی ہیں کہ خاندانی ''رئیس ''تو نہیں ہوتے لیکن ''پڑھ لکھ ''کر وہ چوہدری بن جاتے ہیں اور طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر کسی کی بھی پگڑی اچھالنے کا اختیار حاصل کرلیتے ہیں ۔میرے سخت الفاط گزشتہ دنوں سرگودھا کے علاقے مومن کوٹ کے ایک بوائز کالج میں ہونے والے اس واقعے کے پس منظر میں ہیں کہ جس میں ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر عفت النساء نے ایک کالج پروفیسر کی بے عزتی کرڈالی ۔ 17گریڈ کی وہ ''بیوروکریٹی ''کالج میں جاری امتحان کی انسپکشن کے سلسلے میں ''تشریف ''لے گئیں اور پرنسپل کے آفس جاکر پرنسپل کی خالی کرسی پر بیٹھ کر حاضری رجسٹر طلب کرنے لگیں ۔ ایک نوجوان لیکچرر اطہر شاہ نے ان سے دست بدستہ درخواست کی کہ ''ملکہ عالیہ '' آپ کی شان عظیم الشان کے باوجود آپ اخلاقاً اور قانوناً اس کرسی پر بیٹھ نہیں سکتیں ۔بس پھر کیا تھا محترمہ آگ بگولہ ہوگئیں اور اپنے پولیس افسر شوہر سے شکایت کردی ۔ خود اسسٹنٹ کمشنر اور شوہر تھانیدار یعنی کریلہ اوپر سے نیم چڑھا۔جھٹ پٹ سے لیکچرار کو اٹھاکر تھانے لے گئے ۔ دو گھنٹے تک لیکچرار کو تھانے میںروک کر اس کی اوقات دکھانے اور بیوروکریسی کی ملکہ کی انا کی تسکین کے بعد چھوڑ دیا گیا ۔ نہ ہی اس واقعے کی ایف آر درج ہوئی نہ ہی اس پر کوئی ایکشن ہوا ۔مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں کہ ایک بیوروکریٹ نے ایک استاد کی بے عزتی کی۔ حیرت مجھے اس سول سوسائٹی پر ہے کہ کسی بھی اوٹ پٹانگ مسئلے پر احتجاج کے ڈونگرے بجانا شروع کردیتی ہے لیکن ایک پروفیسر کی بے عزتی پر کسی جانب سے کچھ بھی نہیں ہوا۔کوئی ڈرامے بازی نہیں ہوئی ۔کوئی ہنگامہ نہیں ہوا ۔ کسی نے ٹاک شو پر آکر اس مسئلے پر اپنی بقراطیاں نہیں چھوڑیں ۔اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں علم والوں کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ میںکالج پروفیسرکو بڑے وثوق کے ساتھ عالم کہہ رہا ہوں کہ اس کی کم از کم تعلیم ماسٹر لیول کی ہوتی ہے ۔جبکہ انہی پروفیسروں میں اکثر کی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اضافی ہوتی ہیں ۔کالج کا استاد اس لیے بھی عالم ہے کہ ان کے سٹاف روموں میں سماجیات ، نفسیات ، سائنس ، اخلاقیات ، ادبیات ، سیاسیات ، اور تبدیلیوں کے حوالے سے بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ یہ کالج موجودہ علم کی تدریس کے ساتھ نئے علوم کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ اور جس سماج میں عالم کی بے عزتی ہواس سماج کا زوال کوئی نہیں روک سکتا۔کمال کی بات ہے کہ جس طاقت کے زعم پر محترمہ عفت النساء نے ایک کالج پروفیسرکی بے توقیر ی کی ہے وہ اس کی سول سروس ہے ۔سول سروس کے امتحان تک موصوفہ اسی پروفیسر کی رہین منت رہی ہوں گی ، انسان چونکہ خود غرض ہے ماں باپ اور اپنے خالق کا احسان مند نہیں رہتا تو استاد بھلا کس کھیت کی مولی ہے۔میرا دعویٰ ہے عفت النساء یا انہی کے گریڈ کا کوئی دوسرا کسی محلے کی مسجد میں جاکر امام صاحب کے منبر پر بیٹھ کر دکھا دے ۔یا کسی نیبر ہڈ کے کونسلر کے دفتر میں جاکر ایسی حرکت کردے ۔لیکن جو عرض کیا ہے ناں کہ کالج استاد کی سماج میں عزت نہیں کی جاتی اور یہی سوچ موصوفہ کے ذہن میں رہی ہوگی ۔ جب استاد مردم شماریوں اور الیکشن ڈیوٹیوں کے لیے وافر مقدار میں میسر ہوں اور عوام سترہ اٹھارہ اور انیس گریڈ کے پروفیسروں کو الیکشن مٹیریل کندھے پر اٹھائے ادھر ادھر بھٹکتا دیکھیں تو وہ اسے پرانے ٹین ڈبہ بیچنے والوں سے کیا کم سمجھیں گے ۔ کالج کے استاد اسی پر خوش رہتے ہیں کہ انہیں اپنے ہوم سٹیشن سے کوئی دور نہ بھیج دے ۔ وہ سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے احتجاج نہیں کرتے کہ انہیں اپنے رتبے کا احساس رہتاہے ۔ میں اپنے صوبے کی بات کروں تو خود عوام فیصلہ کریں گے کہ والدین سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کروانے سے ہچکچاتے ہیں لیکن میٹرک کے بعد ان کی ترجیح سرکاری کالج ہی ہوتے ہیں ۔ آج تک پرائیویٹ کالجز سرکاری کالجوں کے رزلٹس کو بِیٹ نہیں کرسکے ۔ لیکن تکریم پروفیسر کا یہ حال ہے کہ ایک بیوروکریٹ خاتون اپنی کمشنری کا دبدبہ انہی عالموں پر بیچ رہی ہیں ۔ کالج استاد کو ہر دور میں لالی پوپس دیے گئے ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ 2005ئمیں سلام ٹیچرز ڈے پر اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے اعلان میں یونیورسٹی اور کالج اساتذہ کو اگلا گریڈ دینے کا اعلان کردیا تھا ۔ یونیورسٹیوں نے اپنے اٹانومس حیثیت استعمال کرتے ہوئے اگلے چند دنوں میں اپنے اساتذہ کے گریڈوں میں اضافہ کردیا تھا لیکن صوبوں میں ایسا نہ ہو ا کہ اس میں پروفیسر کو 21گریڈ دینا تھا۔ اب بھلا بیوروکریسی کیسے برداشت کرے کہ پروفیسر کو 21گریڈ دے دے ۔ صوبائی حکومتوں کے چاہنے کے باوجود بیو ر و کریسی نے اس کے راستے میں روڑے اٹکائے ۔ جب حکومتی سطح پر کالجوں کو کمتر سمجھا جائے گا ،تو یونہی چھوٹے موٹے افسر قابل قدر پروفیسروں کی بے عزتی کرتے رہیں گے ۔ اگر ہم کسی مہذب سماج کے رکن ہوتے تو یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں ہنگامی طور پر ڈسکس ہوتا ۔لیکن یہاں تو کسی کو پانامہ اور ڈان لیکس سے فرصت نہیں ہے ۔چونکہ یہ واقع صوبہ پنجاب میں ہوا ہے اس لیے اس واقعہ پر ہم خواجہ آصف کا اسمبلی میں کہا ہوا یک جملہ ہی کہیں گے کہ ''کوئی شرم ، کوئی حیاہوتی ہے ''۔

اداریہ