مشرقیات

مشرقیات

ام البنین خلیفہ ولید بن عبدالملک کی زوجہ کی زندگی کے بہت سے روشن پہلو ہیں ، یہ بڑی ہی دلا ویز عادات سے آراستہ خاتون تھیں ، جس کی وجہ سے یہ اپنے دور کی تمام خواتین میں ممتاز مقام پرفائز تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلا غت کے انداز میں گفتگو کرنے کا سلیقہ تھا ۔ ایک دفعہ انہوں نے حجاج بن یوسف ثقفی کو اپنی جرأت و شجاعت اور فصاحت و بلاغت سے خاموش کرادیا ، تاریخی کتابوں میں حضرت ام لبنین کا یہ روشن خوش کن ، دلفریب اور دل آویز مئوقف منقول ہے ۔ ہوا یہ کہ ایک دفعہ حجاج بن یوسف ثقفی ، ولید بن عبدالملک کے پاس آیا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی ، اندر داخل ہوا تو اس نے سیاہ پگڑی ، عربی کمان اور ترکش پہن رکھی تھی ۔ حضرت ام البنین نے اپنے خاوند ولید بن عبدالملک سے پوچھا : یہ مسلح آدمی کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ حجاج بن یوسف ثقفی ہے ۔ وہ یہ سن کر ڈر گئیں اور اپنے تئیں خوف محسوس کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ آپ کے پاس اکیلے میں اگر ملک الموت آجائے تو میرے نزدیک حجاج بن یوسف کی آمد سے کہیں بہتر ہے ۔ اس نے بے شمار نیک اوربے گناہ لوگوں کو ظلم وستم کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا ہے ۔ حجاج اپنے بارے میں حضرت البنین کی رائے کو جانتا تھا ۔ اس نے ولید بن عبدالملک سے کہا: ''امیر المومنین عورتوں کی میٹھی اور رنگین باتوں کو اپنے سے دور رکھنا ، عورت تو صرف ایک خوشبو ہے ، کوئی مضبوط چیز نہیں ۔ ولید بن عبدالملک اپنی بیگم حضرت ام البنین کے پاس گئے ، انہیں حجاج کی گفتگو اور رائے بتائی تو انہوں نے کہا : امیر المومنین میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے حکم دیں کہ کل میرے پاس حاضر ہو ۔ دوسرے روز جب حجاج ، ولید بن عبدالملک کے پاس آیا تو انہوں نے حجاج سے کہا : حضرت ام البنین کے پاس جائو اور اسے سلام کہو ۔ یہ سن کر حجاج کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے ۔ وہ بادل نخواستہ حضرت ام البنین کے پاس گیا ، اسے دیر تک دروازے پر ٹھہر ایا گیا ، پھر اجازت ملی۔ بڑی دیر بعد حضرت ام البنین نے اس کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا اور غضب ناک انداز میں کہا : اچھا تم ہو ، جو امیر المومنین پر حضرت ابن زبیر اور حضرت ابن شعت کے قتل کا احسان جتلاتے ہو ۔ پھر اسے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ جو ایسی باتیں کرتا ہے ، خدا اسے تباہ و بر د باد کرے اور غزالہ حروریہ کانیزہ اس کے کندھوں کے درمیان پیوست ہو ۔ نیزے سے مراد شعر ہے :ترجمہ : '' تو میرے لئے شیر اور جنگلوں میں شتر مرغ ثابت ہوتا ہے ۔ مصیبت کے وقت جسے سیٹی بجانے والے کی سیٹی سے ڈر کر بھاگ جاتا ہے ۔ تو لڑائی کے وقت غزالہ کے مقابلے میں کیوں نہ نکلاکیا تیرا دل پرندے کے دو پروں کے درمیان واقع تھا ۔ غزالہ نے شہسواروں سے اس کے دل کو ڈرا دیا اور اس کے سپاہیوں نے اسے گزری ہوئی شام کی طرح کر چھوڑا ۔ ''پھر حضرت ام البنین نے اپنی ایک کنیز کو حکم دیا ، اس نے حجاج بن یوسف کو دھتکار تے ہوئے محل سے نکال دیا جب وہ ولید بن عبدالملک کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا : سنائو کیسا رہا ؟ کسی آئو بھگت ہوئی ۔ (تاریخی واقعات)

اداریہ