اس پر مزید بحث قومی مفاد میں نہیں

اس پر مزید بحث قومی مفاد میں نہیں

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے 12مئی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے لگائے گئے الزامات کے بارے میں کہا گیا کہ یہ بیان بالکل غلط اور گمراہ کن ہے جو ذاتی مفروضوں کی بنیاد پر حقائق اور شواہد کو نظر انداز کرکے دیا گیا جس سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور افسوس اور بدقسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے انداز میں غلط بیان کیا گیا، اس اخباری بیان میں ٹھوس شواہد اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا جوکہ سچ سے میلوں دور ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ وہ یہ وضاحت نہ تو آرمی چیف اور نہ ہی نواز شریف کی ایما پر دے رہے ہیں کہ ممبئی حملوں سے متعلق ان کی جماعت کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے اس غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے۔ قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا نے سابق وزیراعظم کے بیان کا فوج اور غیر ریاستی عناصر سے متعلق حصہ توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ خیال رہے کہ فوج کی درخواست پر بلائے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے ہی جاری کئے جانیوالے بیان میں کہا گیا تھا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار میں شائع ہونیوالا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے یہ کبھی بھی نہیں کہا کہ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پوری حکمراں جماعت اپنے قائد نواز شریف کیساتھ کھڑی ہے۔ دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا ممبئی حملوں سے متعلق ان کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے جاری اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوسناک، تکلیف دہ ہے جبکہ یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ نواز شریف نے اس معاملے پر قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ کمیشن بننا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے۔ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد جاری ہونیوالے اعلامیہ کے حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ردعمل کو تو گنجائش ہے لیکن اجلاس کی صدارت کرنیوالے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس میں جن خیالات اور موقف کا اظہار کیا گیا ہے اس سے معاملہ سلجھتا نہیں اُلجھتا نظر آرہا ہے اور دم رخصت مسلم لیگ ن کی حکومت ملکی سلامتی اور اداروں کیساتھ ہم آہنگی برتنے کے اپنی صدارت سے عدالتی فیصلے سے نااہل ہونیوالے سابق قائد سے نیاز برتا جا رہا ہے اولاً تو نواز شریف اب قانونی اور اخلاقی طور پر مسلم لیگ ن کے قائد نہیں رہے بلکہ انہی کے بھائی شہباز شریف مسلم لیگ ن کے آئینی اور قانونی صدر ہیں اور بالفرض محال اگر ا سے ہی مسلم لیگ ن کا اصل قائد گردانا ہی جائے تو بھی معاملہ لیڈر کی ذات اور سیاست کا نہ تھا بلکہ ملک کے بین الاقوامی وقار کا سوال تھا جسے مقدم رکھنا وزیراعظم کے حلف کا بینادی حصہ ہے۔ بہرحال اس معاملے پر اس سے زیادہ بحث مناسب نہیں مسلم لیگ ن اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات ہیں یا نہیں اگر ہیں تو ان کی نوعیت اور حقیقت کیا ہے کیا یہ مناسب بات ہے کہ حکومتی جماعت اور مقتدر ادارے کے درمیان تعلقات ناخوشگوار ہوں علاوہ ازیں بھی کئی سوال ہو سکتے ہیں جن سے قطع نظر تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت دم رخصت ایک ایسی روایت چھوڑ ے جا رہی ہے جس کا داغ دھونا خود ان کیلئے ناممکن ہو جائے گا۔ فریقین کے ایک دوسرے پر تحفظات اپنی جگہ لیکن گھر کے میلے کپڑے گلی میں دھونے والوں کو کبھی زمانہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان سے چھیڑ جانیوالی بحث ان کے بیان سے زیادہ تکلیف دہ اس لئے ہے کہ ہر اس کی تشریح اور تبصرہ معاملے کو ہوا دینے کا باعث بن رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اور بھارت کے تبصرہ کاروں کا انداز فکر اور انداز بیان اسلئے زیادہ تکلیف دہ نہیں کہ وہ اعلانیہ دشمنوں کی زبان بول رہے ہیں اور ان سے یہی توقع ہے اگر ہم قومی سلامتی کونسل کے اعلامیہ کا جائزہ لیں تو اعلامیہ میں معاملے کی کسی قسم کی تشریح اور تبصرہ شامل نہیں بلکہ صریح الفاظ میں اس کی مذمت اور اس پر افسوس کا اظہار کرنے کو کافی گردانا گیا ہے۔ بایں تناظر ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو زیر بحث لانے کی بجائے قصہ پارینہ بنا دیا جائے۔ جہاں تک نواز شریف کی جانب سے پیشکش کا تعلق ہے اس بارے یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاناما لیکس پر عدالت سے رجوع بھی انہی کا انتخاب تھا اس حوالے سے بھی ان کی خواہش کا انجام ان کے حق میں ہونے کا امکان نہیں لیکن چونکہ بہرحال یہ ایک سنگین معاملہ ہے جسے طے کرنے کیلئے، تحقیقات کیلئے کسی فورم کی تشکیل سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا تاکہ آئندہ کیلئے بھی یہ باب بند ہو۔

اداریہ