القدس میں امریکی سفارتخانے کا خون آشام افتتاح

القدس میں امریکی سفارتخانے کا خون آشام افتتاح

مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کیخلاف مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کیخلاف فلسطینیوں کا شدید احتجاج فطری امر ہے۔ امریکی صدر نے تقریب سے ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں امن کے عزم پر قائم ہے۔ دوسری طرف القاعدہ لیڈر ایمن الظواھری نے کہا ہے کہ یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرکے اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے پر امریکا کیخلاف جہاد کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی پر دنیا کے رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور فلسطینیوں پر بے رحمانہ تشدد اور ان کے قتل عام کی عالمی سطح پر مذمت ہو رہی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا مشرق وسطی میں امن کے قیام کیلئے بطور ثالث کا کردار کھو چکا ہے۔ حالیہ فیصلے سے امریکا نے مسائل کو اپنے گلے لگایا اور ممکنہ حل کوتنہا چھوڑ دیا۔ امریکی فیصلہ خطے میں کشیدگی پیدا کرے گا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ ہم مکمل یقین رکھتے ہیں کہ امریکی اقدام عالمی برادری کے فیصلے کے منافی ہے۔ مراکش کے بادشاہ محمد پنجم اور مصر کے وزیر خارجہ نے ایک اعلامیہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر بہیمانہ عسکری قوت کے استعمال پر سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلسطین شہریوں کے بنیادی اور جائز حقوق کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور صرف مشرقی بیت المقدس کو ہی دارالحکومت کا درجہ دیتے ہیں۔ گزشتہ روز اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ غزہ پٹی میں اسرائیل فورسز کی ظالمانہ کارروائی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ برطانیہ میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل گروپ نے ٹوئٹ کیا کہ ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جہاں اسرائیل غزہ پٹی میں عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے جسے فوری بند ہونا چاہئے۔ یہ عالمی معیارات کی خلاف ورزی ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نزدیک اسرائیل کی جانب سے سوچے سمجھے انداز میں فلسطینی شہریوں پر گولیاں برسانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ مشرق وسطی میں ہیومن رائٹس واچ نے غزہ پٹی پر فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کو خون کا تالاب قرار دیا ہے۔ عرب لیگ کے چیف نے کہا ہے کہ ان ممالک کیلئے شرمناک بات ہے جو امریکا اور اسرائیل کی خوشیوں میں شریک ہیں، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اپنے فیصلے کے مختصر اور طویل المیعاد ثمرات کا اندازہ نہیں ہے۔ دنیا بھر کی مخالفت مول لیکر امریکہ نے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کر کے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں امریکہ کو کسی دلیل اور بین الاقوامی برادری کی کوئی پرواہ نہیں ان کے اس عمل سے پہلے سے کشیدگی کا شکار بلادالعرب مزید عدم استحکام سے دوچار ہوگا اور دنیا بھر میں ان کا یہ اقدام انتشار کا باعث بنے گا۔ جس شدت پسندی کو امریکہ افغانستان میں دبا نہیں سکا تھا اب القاعدہ کے رہنما کے تازہ ویڈیو بیان کے بعد ان کی دعوت جہاد کی طرف لاچار مسلم نوجوانوں کا راغب ہونا ایک نئے اور خطرناک رجحان کی صورت میں سامنے کا خطرہ ہے جس کی ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت پر عاید ہوگی۔ اسرائیل کیخلاف فلسطینیوں کا نئے جذبے سے استفادہ شروع کرنے کے علاوہ اب کوئی دوسرا امکان باقی نہیں رہا، دنیا بھر کے ممالک اور بالخصوص عالم اسلام کو امریکہ کی دھونس اور ہٹ دھرمی کیخلاف سفارتی اور دیگر ذرائع سے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے متحد ہوکر اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور امریکہ کو یہ باور کرا دیا جائے کہ وہ واحد عالمی تھانیدار نہیں۔
حادثے کا ذمہ دار امریکی سفارتکار کی واپسی
اسلام آباد میں گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کو ہلاک کرنے کا ذمہ دار امریکی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی کی امریکہ روانگی دو روز قبل تو مکمل نہ ہو سکی تھی اور ان کو لینے کیلئے آنے والا سی ون تھرٹی طیارہ واپس چلا گیا تھا مگر بعد ازاں ان کی واپسی ممکن بنائی گئی اور اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان چھوڑ گئے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ اور بعض حلقوں نے اس معاملے پر جو جذباتی فضا پیدا کی تھی وہ سفارتی آداب اور قوانین سے ناواقفیت کا نتیجہ تھا۔ ملٹری اتاشی کو سفارتی استشنیٰ حاصل تھا اسلئے ان کیخلاف کارروائی کا نہ ہونا ہی قانون کا تقاضا تھا ان کیخلاف دستاویزات امریکی حکام کے حوالے ہونے کے بعد اب ان کیخلاف امریکہ میں امریکی قوانین کے مطابق کارروائی امریکی حکام کی ذمہ داری ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مقتول کے خاندان کیساتھ دیت پر معاملات طے کر لئے گئے جس کے بعد اس معاملے کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے۔ ملکی وبین الاقوامی معاملات میں قانون کے تقاضوں کو دیکھنا ہوتا ہے اور اسی کے مطابق کارروائی ہوتی ہے جہاں قوانین سے متصادم فیصلے کئے جائیں اس پر احتجاج اور آسمان سر پر اُٹھانے کی تو سمجھ آتی ہے لیکن جہاں ایسا نہیں وہاں جذباتیت کا مظاہرہ درست رویہ نہیں۔

اداریہ