Daily Mashriq


نواز شریف اور خاقان عباسی کا مؤقف

نواز شریف اور خاقان عباسی کا مؤقف

حکمران مسلم لیگ کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے حکمران مسلم لیگ کے سابق وزیر اعظم اور اب قائد میاں نواز شریف کے مبئی حملے کے بارے میں موضوع بحث بیان کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عباسی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیان کی پارلیمنٹ میں وضاحت کریں۔

اجلاس کے بعد وزیر اعظم عباسی نے میاں نواز شریف سے ملاقات کی ۔ اس کے بعد وزیر اعظم عباسی نے کہا کہ میاں نواز شریف کے بیان کے کچھ حصے توڑ مروڑ کر پیش کیے گئے ۔ حکمران مسلم لیگ کے موجودہ صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ میاں نواز شریف کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عباسی نے کہا ہے کہ وہ میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ ن اپنے قائد نوازشریف کے ساتھ ہیں۔ اس صورت حال میں آگے بڑھنے سے پہلے میاں صاحب کے انٹرویو کامتعلقہ حصہ دہرانا ضروری ہے۔

’’انہوں (میاں صاحب) نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند تنظیمیں فعال ہیں۔ انہیں غیر ملکی عناصر (نان سٹیٹ ایکٹرز) کہہ لیجئے۔‘‘ (خود میاں صاحب نے انہیں غیر ریاستی عناصر نہیں کہا) تو کیا ہمیں ان کو یہ اجازت دینی چاہیے کہ وہ سرحد عبور کریں اور ممبئی میں ایک سو پچاس افراد کو قتل کر دیں۔ مجھ سے اس کی وضاحت کیجئے ہم (ممبئی حملہ کے ) مقدمہ کی سماعت کیوں مکمل نہیں کر سکے۔‘‘

اس میں دو باتیں قابلِ غور ہیں ۔ ایک یہ کہ آیا پاکستان میں فعال عسکریت پسند تنظیموں کے ارکان کو پاکستان نے سرحد پار کر کے ممبئی پر حملہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ اور دوسرے یہ کہ آیا پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ممبئی حملے کے بارے میں مقدمہ کی سماعت میں تاخیر کی جا رہی ہے؟ غیر ریاستی عناصر آج کے زمانے میں ایک حقیقت ہیں۔ داعش‘ تحریک طالبان پاکستان کے نام سے موسوم متعدد شدت پسند گروپ ‘ الشہاب‘ بوکو حرام اور وہ بھی جن کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تشویش ظاہر کی تھی کہ ہر ہفتے یورپی ممالک سے آٹھ دس افراد شام اور عراق میں جنگ میں شریک ہونے کیلئے جاتے ہیں۔ آج ففتھ جنریشن وار کے زمانے میں مختلف ممالک کی خفیہ تنظیمیں ان عناصر سے کام لیتی ہیں۔ میاں نواز شریف نے انٹرویو میں سوال کیا کہ کیا ہمیں ان کو یہ اجازت دینی چاہیے (۔۔تھی۔۔ کیونکہ یہ واردات 2008ء میں ہوئی تھی) کہ وہ سرحد عبور کریں اور ممبئی میں ایک سو پچاس افرادکو قتل کردیں؟ اس سوال میں صاف یہ مضمر ہے کہ ہم (پاکستان) نے ان کو سرحد عبور کرنے اور ممبئی میں قتل عام کی اجازت دی۔ اس طرح انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ پاکستان نے ان غیر ریاستی عناصر کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی تاکہ وہ ممبئی میں ایک سو پچاس لوگوں کو قتل کر دیں۔ (اگر یہ عناصر پاکستان کی اجازت سے گئے تو پھر غیر ریاستی عناصر کیسے ہوئے) بھارتی میڈیا نے اس کی تشریح یہ کی کہ پاکستان نے ممبئی حملے کا اعتراف کر لیا ۔ اگر یہ بیان توڑ مروڑ کر پیش کیاگیا ہے تو اس کا ذمہ دار روزنامہ ڈان کا سرل المیڈا ہے ۔ حکومت پاکستان اور میاں شہباز شریف کو اس سے وضاحت طلب کرنی چاہیے لیکن خود میاں صاحب نے یہ نہیں کہا کہ ان کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

درج بالا اقتباس میں دوسری قابلِ غور بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ممبئی حملہ کیس کی سماعت میں (جان بوجھ کر) تاخیر کی جا رہی ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس کی وضاحت ہوئی ہے کہ یہ بھارت ہے جو اس کارروائی کے آگے بڑھنے میں مزاحم ہے۔ راولپنڈی کی عدالت کو اب بھی ان چوبیس بھارتی گواہوں کا انتظار ہے جنہیں عدالت نے طلب کیا ہے اور بھارت انہیں نہیں بھیج رہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا میاں نواز شریف کو جو چند ماہ پہلے تک پاکستان کے وزیر اعظم تھے یہ نہیں معلوم تھا کہ بھارت کس کس طرح ممبئی حملے کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے 24گواہوں کو بھیجنے میں لیت ولعل کی سماعت مقدمے کی کارروائی مکمل نہیں ہو سکتی۔ کیا میاں نواز شریف کے علم میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ بھارت ممبئی واردات کے واحد زندہ بچ رہنے والے ملزم اجمل قصاب کو خفیہ مقدمہ چلا کر عجلت میں پھانسی دے کر اس واحد گواہی کو تلف کر دیا جس سے معلوم ہو سکتا تھا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو کس نے بھرتی کیا تھا۔ کس نے ان کے ممبئی کے سفر کا بندوبست کیا تھا ۔ اور یہ کہ بھارت نے پاکستانی تفتیشی ٹیم کو اجمل قصاب سے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی تاکہ اجمل قصاب کچھ حقائق نہ اُگل دے۔ راولپنڈی کی انسداد د ہشت گردی کی عدالت میں ممبئی واردات کے زیر التواء ہونے کی وجوہ کے بارے میں سابق وزیر اعظم کی لاعلمی معنی خیز ہے۔

میاں صاحب کہہ رہے ہیں کہ دیگر کئی لیڈروں نے بھی وہی بات کی ہے جو انہوں نے کی ہے۔ یہ بیانات غیر ریاستی عناصر کے وجود کے بارے میں ہیں لیکن خود میاں صاحب نے پاکستان کی طرف سے انہیں سرحد عبور کرنے کی ’’اجازت‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ میاں صاحب نے کہا ہے کہ کمیشن بنا دیا جائے ۔ اس مطالبہ سے یاد آیا ہے کہ پاکستان میں کئی کمیشن بن چکے ہیں جن کی رپورٹیں نہیں آئی ہیں۔ ایک کمیشن اسی صحافی کی ڈان لیکس کے نام سے مشہور ایک خبر کے بارے میں بھی بنا تھا کہ یہ خبر یا من گھڑت کہانی کہاں سے افشاء ہوئی۔ رپورٹ وزیر اعظم ہاؤس گئی جب میاں صاحب وزیر اعظم تھے۔ لیکن رپورٹ آج تک منظرعام پر نہیں آئی۔

متعلقہ خبریں