Daily Mashriq


کیا جانئے کیا ہوگا آخر کو خدا جانے

کیا جانئے کیا ہوگا آخر کو خدا جانے

خدا خوفی بھی کوئی چیز ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو لوگ اس شہر کو جگہ جگہ سے ادھیڑ کر اسے کھنڈرات میں تبدیل کرنے کے ذمہ دار ہیں انہیں اس وصف سے اللہ تعالیٰ نے محروم کر رکھا ہے۔ بی آر ٹی کی بات کو بھی جانے دیجئے جس پر سیاسی قائدین بڑے لے دے کر رہے ہیں اور منصوبے کی تکمیل کیلئے بڑے بڑے طمطراق سے پہلے تواتر سے 15اپریل کی تاریخ کا مسلسل اعلان کیا جاتا رہا۔ بعد میں اس حتمی تاریخ کو مزید مہلت سے آگے بڑھا دیا گیا۔ ادھر دوسری جانب کئی ایک مقامات سے جو بھاری مشینری کام کیلئے لائی گئی تھی ان کے وہاں سے غائب ہونے کی اطلاعات نے شہریوں کو پریشان کر دیا کہ اب وہ اس کھنڈر شہر میں مزید نہ جانے کتنے مہینے عذاب سے دوچار رہنے اور ٹریفک جام کی صورتحال کا سامنا کرتے رہیں گے، لیکن ہم تو ایک اور عذاب پر ایک بار پھر قلم اُٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں جس کیلئے کالم کے آغاز ہی میں ہم نے خدا خوفی کے الفاظ استعمال کئے تھے اور توجہ دلاتے ہوئے بطور تمہید کئی سطریں گھسیٹ لیں، اور وہ عذاب شہر کے دوسرے علاقوں کے باشندوں کے علاوہ گل بہار والوں پر گزشتہ ایک سال سے نازل کیا گیا ہے، یعنی گزشتہ سال رمضان المبارک سے پہلے گل بہار کے بیچوں بیچ گزرنے والے گندے پانی کے بڑے نالے کی ایک بار پھر تعمیر کی وجہ سے سڑک کو ادھیڑ کر یہاں کے مکینوں کو بار دیگر (بلکہ شاید چوتھی بار) مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، یہ مسلسل عذاب اسلئے گل بہاریوں کی جان نہیں چھوڑ رہا کہ شہر کے دیگر علاقوں سے آنے والے پانیوں کے نالوں کا رخ اسی جانب موڑ دیا گیا ہے اور گزشتہ کئی ادوار کی حکومتوں میں اسے کئی بار ادھیڑکر پانی کا رخ متعین کرنے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوسکیں، البتہ علاقے کے عوام ہر دو تین سال بعد مہینوں تک عذاب مسلسل کا شکار ضرور ہو جاتے ہیں، مگر اب کی بار تو یہ امتحان ایک سال سے بھی طول اختیار کر گیا ہے، شنید ہے کہ اس دوران میں ٹھیکیدار بھی بھاگ گئے اور ٹھیکہ نئے لوگوں کو دیا جاتا رہا، تاہم ناقص کارکردگی کی وجہ سے مسئلے کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے، یعنی بقول غالب

کوئی اُمید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

اصولی طور پر ہر منصوبے کی تکمیل کیلئے ایک مدت کا تعین کیا جاتا ہے اور متعلقہ محکمہ اس مدت کے اندر منصوبے کی تکمیل کر کے دوسرے منصوبوں کی جانب توجہ دیتا ہے لیکن ابھی تو اس نالے کی تعمیر پر ہی کئی سوالیہ نشان اُٹھ رہے ہیں، یعنی ایک جگہ پر تعمیر مکمل ہوتی ہے تو کچھ پر عرصے بعد وہاں نئے مسائل جنم لیتے دکھائی دیتے ہیں، چند روز پہلے جب نظر پڑی تو ایک جگہ سے گندہ پانی باہر نکل کر سڑک پر بہتا نظر آیا، یوں ہمارا ماتھا ادھر ہی ٹھنکا کہ ابھی تو نالہ پوری طرح تکمیل تک بھی نہیں پہنچا تو پھر یہ کیا ہے اور یہ خدشہ گزشتہ روز ہی پورا نظر یوں آیا کہ بیکری کیساتھ والی گلی سے بڑے پائپ کے ذریعے نالے میں آکر شامل ہونے والے پانی کا راستہ بند ہونے کی وجہ سے سڑک کو بیچ میں سے ایک بار پھر ادھیڑ کر نئے پائپ ڈالنے کی کوشش سے گاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہوگئی، نتیجہ یہ نکلا کہ ٹریفک جام نے ایک بار پھر گمبھیر صورت اختیار کرلی (اگرچہ ٹریفک پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے) سکولوں کی بسوں، سوزوکیوں، موٹرکاروں، رکشوں، موٹر سائیکلوں کا بے پناہ ہجوم تھا جس نے مسائل کھڑے کر دیئے تھے، بدقسمتی سے ہم من حیث المجموع اتاؤلے ہو چکے ہیں، صبر کا دامن نہ جانے کب سے ہم چھوڑ چکے ہیں اور ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے جہنم میں جائیں صرف اسے راستہ ملے، اس کوشش میں غلط سائیڈ سے اوور ٹیک کرنے کی وجہ سے ٹریفک مکمل طور پر رک جاتی ہے، تاہم اس ساری صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ محکمے پر ہی عاید ہوتی ہے جو ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس منصوبے کی تکمیل میں ناکام ہے، کوئی شخص یہ بتانے کو تیار نہیں کہ آخر یہ نالہ کب تک مکمل کیا جائے گا اور اس کے بعد سڑک کی تعمیر مکمل کر کے ٹریفک بحال کرنے کی ذمہ داری پوری کی جائے گی۔ اس مسئلے پر گزشتہ ایک سال کے دوران انہی کالموں میں کئی بار توجہ دلا چکا ہوں مگر بے حسی کی انتہاء کا اندازہ لگایئے کہ کوئی بھی سامنے نہیں آرہا جس کے منہ سے کوئی خیر کی خبر برآمد ہو، کالم لکھنے سے پہلے میں نے گل بہار کے ایک بلدیاتی نمائندے سے رابطہ کرکے پوچھا کہ آخر اس کی ذمہ داری ہے کس کی، بے چارہ پہلے ہی پریشان تھا، کہنے لگا یہ منصوبہ حلقے کے ایم پی اے کے فنڈز سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور بقول اس کے اس حوالے سے گل بہار کے بلدیاتی نمائندوں نے کئی بار پارٹی اجلاسوں میں متعلقہ ایم پی اے کیساتھ تلخ کلامی بھی کی ہے کہ عوام کا سامنا تو ان بلدیاتی نمائندوں کو کرنا پڑتا ہے اسلئے یہ مسئلہ حل کیا جائے مگر ایم پی اے صاحب کو ’’فرصت‘‘ ہی نہیں کہ وہ کوئی توجہ دے۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے کیونکہ جب سے موصوف اس حلقے کے نمائندہ چنے گئے ہیں ان کی توجہ اپنے پیدائشی علاقے شانگلہ پر زیادہ اور حلقہ نیابت پر کم ہے، اسی وجہ سے ایک بار ان کیخلاف علاقے کے لوگوں نے گمشدگی کے بینرز بھی آویزاں کر دیئے تھے کہ ان کی حالت غالب کے بقول یہ ہے کہ

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

لگتا ہے اب کی بار اخبار میں ان کی گمشدگی کے بارے میں اشتہار دینا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں