کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی

کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، بجٹ آچکا ہے، سیاسی حکومت رخصت ہونے کو ہے اور نگران حکومت آنے کو ہے۔ وطن عزیز میں سب کچھ تبدیل ہوتا ہے، وقت بدل جاتا ہے، مہینے گزر جاتے ہیں، سال بیت جاتے ہیں مگر سالہا سال بعد بھی عوام کے مسائل جوں کے توں ہوتے ہیں۔ کسی تبدیلی کا، کسی تغیر کا عوامی مسائل پر اثر نہیں پڑتا۔ تغیرات وتبدل زمانے کا ہو، سیاست کا ہو یا حالات کا عوام کی حالت نہیں بدلتی۔ اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ شاید سب سے بڑی وجہ یہ ہو کہ عوام خود کو بدلنے کو تیار نہیں، مالک کائنات کا بھی یہی اعلان ہے کہ جو قوم خود کو بدلنے کی آپ سعی نہیں کرتی اس کی حالت آسمان والا بھی تبدیل نہیں کرتا۔ تبدیلی چاہئے تو ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا، اپنی سوچ تبدیل کرنی ہوگی۔ ہر شخص خود کو تبدیل کرے تو حالات خود بخود تبدیل ہوں گے۔ معاشرہ اپنے آپ کو تبدیل نہ کرے تو کسی شخصیت، کسی سیاستدان، کسی حکمران کے پاس الہ دین کا کوئی چراغ نہیں جسے وہ رگڑے، جن حاضر ہو اور برے حالات اچھے ہو جائیں۔ اس ہفتے بھی لاتعداد ایس ایم ایس حسب دستور آچکے ہیں۔ ایک اور برقی پیغام بھی حکمرانوں کی مذمت ہی میں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکمران اپنے مفاد کو تو سوچتے ہیں اور غریب عوام اور ملازمین کیلئے اچھا نہیں سوچتے۔ ان کو تنخواہوں اور پنشن میں حالیہ بجٹ میں کئے گئے اضافے پر اعتراض ہے۔ ان کا اعتراض درست مگر میں کہوں گی کہ مجھے اور آپ کو مہینے کے آخر میں تھوڑا بہت کم یا زیادہ کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے جس پر قناعت اور شکر کی ضرورت ہے، خواہشات بادشاہوں کی بھی پوری نہیں ہوتی، پیٹ فقیر کا بھی بھر جاتا ہے۔ میرا تو ان لوگوں کا سوچ کر ہی دل بیٹھا جاتا ہے جس کے پاس کوئی روزگار نہیں، جو دیہاڑی کرتے ہیں وہ بھی کبھی ملی کبھی نہ، پھر بھی پیٹ تو ان کا بھی مالک کائنات بھر ہی دیتا ہے۔ رزق اور روزگار بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو تو برکت، نہ کرو تو شکایت۔ تخت بھائی سے ہمارے قاری شہاب نے رمضان اور مہنگائی کا تذکرہ کرنے کو کہا ہے۔ تذکرہ تو ہوتا رہتا ہے مگر تدارک نہیں ہوتا۔ حکام کو تدارک کی تدبیرکرنی چاہئے۔ دیکھتے ہیں نگران حکومت کے زیر سایہ انتظامیہ کیا کارکردگی دکھاتی ہے، اُمید تو اچھی رکھنی چاہئے، ورکرز ویلفیئر بورڈ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر محکمے کے متعلق ایک قاری نے لکھا ہے کہ بہن جی! آپ اس ادارے میں میرٹ کے برعکس بھرتیوں اور بڑی بڑی تنخواہوں پر بھی کبھی غور کریں۔ بالکل مجھے یاد پڑتا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں خلاف میرٹ بھرتیوں اور گھپلوں پر معاملات عدالت تک گئے۔ بااثر افراد کیخلاف کارروائی کم ہی ہوتی ہے، مافیا سے ٹکرانے کا میرا بھی کچھ تجربہ ہے۔ بھرتیاں، مراعات، چوری، بدعنوانی، فرائض سے غفلت اور گھر بیٹھے تنخواہوں کی وصولی یہ سب اپنی جگہ مگر سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی حکومت اور ادارے کی قانونی ذمہ داری اور ملازمین کا حق ہوتا ہے اسلئے اس بارے فریاد پر آواز اُٹھانا میری ذمہ داری تھی۔ فیض اللہ شاہ نے بنوں سے لکھا ہے کہ خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں کی شاندار عمارت کو دیکھیں تو رشک آتا ہے مگر جب مریض لیجاؤ تو شدید مایوسی اور دکھ ہوتا ہے۔ اس شاندار عمارت میں مریض کیساتھ جانوروں کا سا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان ہے اور عملہ تو بالکل ہی تعاون نہیں کرتا۔ میرے خیال میں سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی نے اپنے دادا کے نام پر اس ہسپتال کی عمارت کو بنانے میں تو کوئی کسر نہیں چھوڑا ہوگا۔ تشخیصی آلات کی فراہمی بارے کوتاہی اگر ہوتی ہو تو ایسا نہیں ہوناچاہئے تھا۔ اس سے ملتا جلتا معاملہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا بھی ہے جس کے فرش اور دیواریں تو چمکا دی گئی ہیں مگر آئی سی یو میں بنیادی سہولیا ت نہ ہونے کے باعث مریضوں کی جان بچانے میں مشکلات کی ایک نہیں کئی واقعات خود میرے علم میں ہے۔ یہی تو المیہ ہے کہ سنگ وخشت کو تو برائے نمائش سجایا اور چمکایا جاتا ہے مگر جس مقصد کیلئے یہ ہسپتال قائم کئے جاتے ہیں ان کیلئے یہ شفاخانے نہیں قصاب خانے ہوتے ہیں۔ کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں۔ قارئین کے موصول برقی پیغامات کی تعداد اتنی ہوئی ہے کہ ان کو تنگ دامن کالم میں سمو دینے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ میرے لئے سارے قارئین یکساں احترام اور اہمیت کے قابل ہیں۔ میرے تئیں کسی قاری کا مسئلہ اس کا ذاتی نہیں ہوتا، ہر قاری کا مسئلہ اجتماعی مسائل کی نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔ اگر کسی قاری کا مسئلہ کسی ہسپتال کی شکایت کے حوالے سے ہے تو میرے نزدیک اس مسئلے کو شامل کالم کرنے کا مطلب پورے صوبے میں ہسپتالوں اور شفاخانوں کی صورتحال کو بیان کرنے اور اس کی طرف توجہ دلانے کا ہوتا ہے۔ آج کے کالم میں شامل قانون پر عدم عمل درآمد کے یک سطری پیغام اور اس کے تقاضوں کے حوالے سے بحث ہی کو لے لیں تو یہ ہمارے تقریباً تمام کے تمام مسائل کے حل کا خلاصہ اور سبب ثابت ہوگا۔ قانون ضابطہ دستور کی پابندی اور اس پر عملدرآمد ہونا شروع ہو جائے تو یقین جانیں اس کالم میں شامل اشاعت کرنے کو باقی کچھ بچے گا ہی نہیں۔ قانون کے مطابق معاملات طے پانے لگیں اور قانون کی حکمرانی ہو جائے تو عدالتوں کے دروازے کھٹکٹھانے اور حکمرانوں سے شکایات اور سیاستدانوں پر تبرا سب ختم نہ سہی تو نہ ہونے کے برابر ضرور ہوں گے۔ قانون کی پابندی کا اطلاق جہاں بھی ہوگا شکایات کا ازالہ ہی نہیں معیار بھی قائم ہوگا، اسی لئے تو اس مشکل کام کیلئے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ اس سہل پسند اور خلاف اصول معاشرے کو قانون پسند بنانا ہوگا، اشرافیہ کو پابند بنانا ہوگا تب جا کر ہم قوم کہلا نے کے قابل ہونگے۔

اداریہ