Daily Mashriq


ہر اک شے اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے

ہر اک شے اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے

یہ کوئی نئی بات نہیں وہ ہر سال رمضان المبارک سے پہلے آتی ہے اور آتے ہی چھا جاتی ہے۔ لوگ خوش نہیں ہوتے اس کے اس طرح بے دھڑک چلے آنے اور آکر چھا جانے سے، ناک بھوں چڑھاتے ہیں، اسے برا بھلا کہتے ہیں لیکن کیا مجال کہ اسے رتی بھر شرم محسوس ہوتی ہو۔ دھڑلے سے آجاتی ہے۔ کوئی منہ بسورے یا ناک بھوں چڑھائے، ان باتوں سے اس کا کیا لینا دینا۔ اپنے کام سے کام رکھتی ہے اور آتے ہی لوگوں کی جیبوں کو ہلکا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ دہائی ہے سرکار دہائی ہے۔ بڑی سخت مہنگائی ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں اور نہ کہیں کسی کی شنوائی ہے۔ بڑی سخت مہنگائی ہے، سرکار بڑی سخت مہنگائی ہے۔ ہم سب دہائی پہ دہائی دیتے رہتے ہیں، ہمیشہ گلہ مند رہتے ہیں اس نگوڑی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے لیکن جب اور جیسے ہی ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی، کوئی نہیں ہمارے آنسوں پونچھنے والا تو چپ کا روزہ سادھ لیتے ہیں۔ یہ جان کر کہ یہ صبر کا مہینہ ہے اور جو لوگ اس مہینے صبر اور شکر کا دامن تھامتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیتا ہے۔ ایک ایک نیکی کے بدلے ستر ستر یا اس سے بھی زیادہ نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، صبر کرنا بھی نیکی ہے اور جو بندہ صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کیساتھ رہتا ہے۔ گویا صبر کرنا ایسی نیکی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا ساتھی بنانے کا باعث بن جاتی ہے۔ اسلئے اللہ کے بندوں کو رمضان المبارک سے پہلے حملہ آور ہونے والی مہنگائی سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ اسے رب سوہنے کی طرف سے آزمائش سمجھ کر سینے سے لگا لینا چاہئے اور جو چیز جس بھاؤ ملے اسے خوشی خوشی خرید کر گھر لے آنا چاہئے، ویسے مجھے زیب نہیں دیتیں ملا فصیحت جیسی یہ باتیں۔ کیونکہ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے لوگ پہلے ہی سے ان باتوں پر عمل کر رہے ہیں، ان کو جو چیز جتنے کی بھی مل جاتی ہے وہ جیب میں سے پیسے نکال کر بیچنے والے کے ہاتھ پر رکھتے ہیں اور گھر کا راستہ ناپنے لگتے ہیں۔ اگر آپ کو میری اس بات پر یقین نہ آئے تو آپ خود بازاروں کا رخ کر کے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں خرید وفروخت کے مناظر۔ کون کہتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کم ہوگئی، ہر کس وناکس اشیائے صرف منہ مانگی قیمتوں پر خریدتا نظر آئے گا۔ کسی زمانے میں حبیب جالب نے بیچ چورا ہوں کے کھڑے ہوکر کہا تھا

بیس روپے کا من آٹا

اور اس پہ بھی ہے سناٹا

صدر ایوب زندہ باد

ہم دونوں بڑے صابر شاکر ہیں، ایک بیوی اپنی سہیلی سے کہہ رہی تھی۔ بھلا وہ کیسے؟ سہیلی نے پوچھا، جس کے جواب میں وہ بولی کہ میں اس کی طرف دیکھ دیکھ کر شکر کرتی رہتی ہوں اور وہ ہانڈی روٹی کا غم کرتے ہوئے صبر کرتا رہتا ہے، یوں ہم دونوں ہوگئے صابر اور شاکر۔ رمضان کا مہینہ ہمیں صابر اور شاکر ہونے کی تلقین کرتا ہے۔ اس مہینے شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے لیکن افسوس کہ اس کے چیلے نہ صرف روزے داروں کا خون چوستے رہتے ہیں بلکہ چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور امت مسلمہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے سارے گر استعمال میں لاتے ہیں۔ کتنا خوش ہوتا ہوگا وہ شیطان جو اس مہینے قید ہوکر بھی اپنے پٹھووں یا چیلوں کی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کرتا ہوگا۔ ابھی رمضان شروع نہیں ہوا اور مرغی 315روپے کلو فروخت ہونے لگی۔ یہ خبر ہمیں واٹس ایپ کرنیوالے دوست نے بتائی۔ انہوں نے جو باتیں لکھیں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وہ باتیں من وعن اپنے قارئین تک پہنچا کر مہنگائی کیخلاف اس مہم کا حصہ بن جاؤں جس کا آغاز سوشل میڈیا کے ساتھیوں نے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ رمضان کی آمد سے پہلے پولٹری مافیا نے مرغی کا گوشت 315روپے کلو کر دیا اور قیمتیں مزید بڑھائے جانے کی تیاری ہے۔ آئیے گزشتہ رمضان میں ٹماٹر کی طرح اس بار مرغی سستی کرواتے ہیں، 17تا19 مئی تک صرف تین دن مرغی کا گوشت نہ کھائیں، مرغی نہ خریدیں، پولٹری مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، یہ تین روز آپ سبزی اور دالیں کھائیں تاکہ آپ کی صحت بھی اچھی رہے اور پولٹری مافیا بھی مرغی سستی کرنے پر مجبور ہو جائے، اگر متفق ہیں تو اس مہم کا حصہ بنئے اور اسے کاپی کر کے فیس بک اور واٹس ایپ پر شیئر کر دیجئے۔ دیکھتے ہیں آزادکشمیر سے اٹھنے والی یہ مہم کراچی کتنی جلدی پہنچتی ہے۔ اذن عام ہے یاران نکتہ دان کیلئے اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر یہ جان لیجئے کہ مہنگائی پھیلانے والوں میں صرف مہنگ فروش دکاندار شامل نہیں، اللہ نہ کرے میں آپ سب شامل ہیں اس گناہ میں کہ ہم مہنگی اشیاء خریدنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں اُف آہ کرنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ کیا خوب کہا ہے علی سردار جعفری نے کہ

ہر اک شے اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے

بس اک خون بشر ہے جس کی ارزانی نہیں جاتی

متعلقہ خبریں