کُج سانوں مرن دا شوق وی سی

کُج سانوں مرن دا شوق وی سی

میاں نواز شریف اپنے خلاف جاری عدالتی عمل کو قانون اور آئین کے معاملے کو انا کی فیصلہ کا جنگ بنا چکے ہیں۔ اس جنگ میں ان کا رول ماڈل ترکی معلوم ہوتا ہے جہاں کچھ ہی عرصہ قبل فوج کے ایک چھوٹے سے حصے نے زیر زمین منصوبہ بندی کے بعد اچانک اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ فوج کا یہ گروہ ترکی کے جلاوطن لیڈر فتح اللہ گولن کے نظریات کے زیر اثر تھا اور ترکی میں جب سے دائیں بازو کی قوتوں نے اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھا ہے۔ فتح اللہ گولن ترکی چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو چکے ہیں۔ امریکہ ان کا ٹھکانہ اور مرکز ہے وہیں سے ترکی میں اپنے نظریات کی تبلیغ بھی کر رہے ہیں اور اپنے تعلیمی اور سماجی منصوبوں کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔ فتح اللہ گولن صوفی ازم پر یقین رکھتے ہیں مگر ترکی میں ان کی فکری سرپرستی میں ہونے والی بغاوت کو لبرل انتہا پسند طبقے کی حمایت حاصل رہی اور بعد میں یہ راز کھلا کہ اس کے اصل منصوبہ ساز سی آئی اے کے طاقتور اہلکار تھے اور رجب طیب اردوان نے اس کا برملا اظہار بھی کیا۔ ترکی میں فوج کے ایک معمولی سے حصے کی اس بغاوت کو ترک عوام نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر روکا تھا اور یوں اردگان اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد زیادہ طاقتور بن کر اُبھرے۔ میاں نواز شریف اس خوبصورت منظر کو آنکھوں میں اسی وقت سے سجائے ہوئے ہیں اور ان کے حامیوں نے اسی وقت ٹینکوں کے آگے لیٹے اور سدِراہ بنے لوگوں کی تصویروں کو ذومعنی بلکہ کیپشن کیساتھ سوشل میڈیا پر پھیلانا شروع کیا تھا حالانکہ استنبول اور اسلام آباد کے درمیان 2451میل کا فاصلہ ہے۔ میاں نوازشریف کا معاملہ اردوان سے قطعی مختلف ہے۔ یہاں فوج کیساتھ بطور ادارہ ان کی آج ہی نہیں برسوں سے ٹھنی ہوئی ہے اور تین بار وزیراعظم رہنے کے باوجود چند سڑکوں اور پلوں کے علاوہ ملک میں دیرپا اور حقیقی ترقی کا نشان انہوں نے زمین پر نہیں چھوڑا۔ نواز شریف اب کھل کر بات کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں اور پلوں اور سویلین بالادستی کی وجہ سے نہیں پاکستان کے اہم سٹریٹجک امور پر ایک الگ لائن پر اصرار کی وجہ سے اقتدار سے بے دخل ہوتے رہے ہیں، اب نوازشریف پاکستانی عوام کیساتھ ساتھ اپنے عالمی دوستوں سے بھی مخاطب اور طالب مدد ہیں۔ کشیدہ فضا میں انہوں نے ڈان لیکس کے کردار صحافی سرل المیڈا کو بااہتمام انٹرویو دیتے ہوئے ممبئی حملوں پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عسکری تنظیمیں اب بھی متحرک ہیںجنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، کہ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں اس بات کی اجازت دینی چاہئے کہ سرحد پار جا کر ڈیڑھ سو لوگوں کو قتل کریں۔ انہوں نے یہی کہنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ معنی خیز انداز میں سوال پوچھا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انسداد دہشت گردی عدالت میں چلنے والی کارروائی مکمل کیوں نہیں ہوئی؟۔ میاں نوازشریف کا انٹرویو شائع ہوتے ہی بھارتی میڈیا نے آسمان سر پر اُٹھا لیا اور تمام اخبارات نے شہ سرخیاں جمائیں کہ نوازشریف نے پاکستان کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔ بھارتی ٹی وی اینکرز بھی اس جملے کی جھاگ اُگلنے لگے۔ اسے پاکستان کا اعتراف جرم قرار دیا جانے لگا۔ اسے بھارت کے مؤقف کے حق میں ایک معتبر گواہی بنا کر پیش کیا جانے لگا جس کے بعد ملک میں میاں نوازشریف کے اس انٹرویو پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حزب اختلاف نے تو انہیں آڑے ہاتھوں لیا خود میاں شہباز شریف نے میڈیا پر ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عائد کرنے کے بعد کہا یہ خیالات مسلم لیگ ن کے نہیں۔اس کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ جس میں میاں نوازشریف کے بیان کو یکسر مسترد کر دیا گیا اور اسے گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت کلبھوشن یادیو اور سمجھوتہ ایکسپریس کے حوالے سے اپنا کردار واضح کرے، پاکستان امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ میاں نوازشریف نے اپنے بیان پر کاربند رہتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ اس سے پہلے جنرل مشرف، جنرل محمود درانی، رحمان ملک اور کئی دوسرے لوگ بھی اس طرح کے بیانات دے چکے ہیں۔ میاں نوازشریف کے بیان نے قومی سیاست میں موجودہ کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت پاکستان کو دہشتگرد ریاست قرار دلوانا، ا سے اقتصادی پابندیوں کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے بہانوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور افواج پاکستان کیخلاف مقدمہ اسی انداز میں گھڑا جا رہا ہے جس طرح نام نہاد کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے نام پر صدام حسین کی پہلے کلائی اور بعد میں گردن مروڑ ڈالی گئی تھی۔ یہ کیمیائی ہتھیار دریافت ہونے تھے نہ ہوئے۔ اب اسی طرح پاکستان کیخلاف بھی مقدمہ گھڑا جا رہا ہے۔ ایک فرد جرم تیار کی جارہی ہے۔ اس کام میں انہیں ہزاروں افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں مارنے والا کلبھوشن یادیو ’’کاروباری شخصیت‘‘ اور پاکستان میں جاسوسی نیٹ ورک تشکیل دینے اور کئی پاکستانیوں کو قتل کرنیو الاریمنڈ ڈیوس ’’سفارت کار‘‘ اور ’’کنٹریکٹر‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ ان تضادات نے خطے اور دنیا کو فتنہ وفساد سے بھر دیا ہے۔ امریکہ اور بھارت کو دوسروں کی آنکھوں کے بال تو نظر آتے ہیں مگر کلبھوشن یادیو اور ریمنڈ ڈیوس نامی اپنی آنکھوں کے شہتیر دکھائی نہیں دے رہے۔

اداریہ