Daily Mashriq


ایک اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم

ایک اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم

وفاقی کابینہ کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی باضابطہ منظوری دینے کے بعد اس کا نفاذ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا مقصد محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ بے نامی جائیدادوں کو قانون کے دائرے میں لیکر آنا ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے میڈیا کے نمائندوں کو اس ایمنسٹی سکیم کے خدوخال بتاتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے علاوہ جو عوامی عہدہ رکھتے ہیں کے استثنیٰ کیساتھ کوئی بھی پاکستانی 30 جون تک اس سکیم میں حصہ لے سکتا ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں لائی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا حالانکہ موجودہ حکمرانوں نے اس سکیم میں اتنی خامیاں نکالی تھیں کہ اسے ڈاکوؤں کو چھوٹ دینے کی سکیم تک قرار دیا گیا تھا۔ اس تناظر میں اب ان کی مجوزہ سکیم کو تمام خامیوں سے اس طرح سے پاک ہونا چاہئے تھا کہ اسے مثالی گردانا جاسکتا۔ ایسی سکیموں کی کامیابی کا دار ومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ اس سکیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں شروع کی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت 98ارب روپے اکٹھے کئے گئے تھے۔ جن میں36 ارب روپے بیرون ملک جائیدادوں کی مد میں جبکہ61 ارب روپے پاکستان میں موجود بے نامی جائیدادوں کی مد میں اکٹھے کئے گئے تھے۔ اس موقع پر اگر سابق چیف جسٹس اس سکیم کا جائزہ لینے کا بیان جاری نہ کرتے تو ممکن ہے اس کے نتائج مزید بہتر ہوتے۔ موجودہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم، پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں لائی جانے والی ایمنسٹی سکیم سے اس لحاظ سے جامع ہے کہ اس سکیم میں کالادھن سفید کرنے والوں کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا گیا تھا جبکہ موجودہ سکیم میں یہ لازمی ہوگا کہ وہ ٹیکس گوشوارے بھی جمع کروائیں تاکہ اس کے بعد ان سے باقاعدگی کیساتھ ٹیکس وصولی یقینی بن جائے۔ گزشتہ سکیم میں ایسے افراد سے، جنہوں نے اپنی دولت ڈیکلیئر کی مگر کسی ملکی بینک میں جمع نہیں کروائی، کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی جبکہ موجودہ حکومت کی سکیم میں اس شخص پر لازم ہوگا کہ اس نے جو رقم ڈیکلیئر کی ہے اس کو کسی بینک میں جمع کروائے اور اس پر ٹیکس بھی دے۔ یہ مفید شرط ضرور ہے تاہم دوسری جانب اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنے کا بھی امکان اپنی جگہ موجود ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں صرف اس صورت میں کامیاب ہوتی ہیں اگر وہ معاشی بہتری، ٹیکنالوجی میں ترقی اور کاروباری ماحول میں تبدیلی کیساتھ آئے۔ جب لوگ محسوس کریں گے کہ وہ نئی اقتصادی حالات سے باہر رہ جائیں گے تو وہ اپنے آپ کو باضابطہ بنانے میں جلدی کریں گے۔ حکومت معاشی معاملات درست کرنے اور بہتری لانے کے جو وعدے کر رہی ہے لوگ اس پر اسی وقت ہی اعتماد کرنے لگیں گے جب وہ اسے کارآمد اور مفید خیال کرنے لگیں گے۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت اس وقت تک مستحکم نہیں ہوسکتی جب تک اسے مقامی بنیادیں نہ فراہم کی جائیں، بیرونی امداد یا قرضوں پر کسی ملک کا معاشی استحکام محال ہے۔ ہماری غلطی یا المیہ یہ رہا کہ ہم نے مذکورہ حقیقت سے چشم پوشی کی اور غیرملکی امداد وقرضہ جات پر انحصار کئے رکھا جس کی وجہ سے ہماری معاشی صورتحال اس نہج پر آکر کھڑی ہے کہ اسے چلانے کیلئے باربار قرضے لئے جارہے ہیں اور آئی ایم ایف کی کڑی سے کڑی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ پاکستان کے وہ شہری جن کی آمدنی قابل ٹیکس ہے وہ ٹیکس کی ادائیگی قومی فریضہ سمجھ کر ایمانداری سے کریں۔ یہ ٹیکس یا محصولات ہی ہیں جن سے مملکت کیلئے کچھ حاصل ہوسکتا ہے اسی لئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے اور لوگوں کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ باوقار طریقے سے ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں۔ ٹیکس کی ادائیگی ایک رضاکارانہ کام ہے حالانکہ یہ ایک قانونی ذمہ داری ہے ٹیکس ادا نہ کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ اسے کسی کی بھی خامی یا کوتاہی کہہ لیں یہ بات شرمناک ہے کہ 20کروڑ آبادی والے ملک میں صرف 12لاکھ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں، 5لاکھ افراد کوئی ٹیکس نہیں دیتے، صرف سات لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں جن میں 90فیصد تعداد تنخواہ دار طبقے کی ہے جن کا ٹیکس سورس پرکاٹ لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ انکم ٹیکس سب لوگ ادا نہیں کرتے چنانچہ بالواسطہ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں جو غیرمنصفانہ نظام ہے، جوں جوں انکم ٹیکس سے ریوینو میں اضافہ ہوگا بالواسطہ ٹیکس ختم کر دیئے جائیں گے۔ اگر ٹیکس نظام درست ہوتا ہے تو عوام کی ان ٹیکسوں کی بھرمار سے گلوخلاصی کی قوی امید ہے۔ بحیثیت پاکستانی یہ ہر ایک کا فرض ہے کہ نیک نیتی سے ٹیکس ادا کرے تاکہ لوگوں کو ضروری سہولتیں حاصل ہوں اور ملک کی ترقی اور سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔ مزید برآں جن ٹیکس نادہندگان اور دیگر افراد کو ریلیف دیا جارہا ہے انہیں چاہئے کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھائیں ورنہ بعد میں ٹیکس بھی وصول کیا جائے گا اور سزا بھی ملے گی۔

متعلقہ خبریں