Daily Mashriq

کے ٹی ایچ کا افسوسناک واقعہ

کے ٹی ایچ کا افسوسناک واقعہ

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کو اگر بدترین واقعہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس واقعے کے ہر فریق کا اپنا مؤقف ہے، بعض دستیاب ویڈیو شواہد سے ایک فریق کی پیش دستی ظاہر ہوتی ہے بہرحال اس امر سے قطع نظر کہ کس فریق نے پہل کی اور کس فریق نے تجاوز کیا یہ ایک ایسے دو فریقوں کے درمیان تصادم ہے جس میں دونوں فریق اپنی اپنی جگہ کمزور نہیں۔ جہاں اس قسم کی صورتحال ہوتی ہے وہاں عوام ہی کے دو پاٹوں کے درمیان آجاتے ہیں۔ وزیرصحت، محکمۂ صحت اور ڈاکٹروں کے درمیان مختلف امور پر پہلے ہی سے کشیدگی عروج پر تھی، خاص طور پر تبادلوں کے معاملے پر زمین گرم تھی۔ حکومتی مؤقف کے عوامی مفاد کا تقاضا ہونے کے باوجود ڈاکٹر برادری کی جانب سے اس پر سخت مزاحمت ہوئی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں سینئر ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی جملہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان کشیدگی کی فضا یہ سارے وہ عوامل تھے جس پر صوبہ بھر کے ڈاکٹر احتجاج اور ہڑتال کی فضا پیدا کر چکے تھے۔ کے ٹی ایچ کا واقعہ جلتی پر تیل کا سبب بن گیا ہے جس کے بعد صوبہ بھر میں پہلے سے علاج معالجہ کی مد میں مشکلات کا شکار عوام کا مزید مشکلات کا شکار بننے کا خطرہ ہے۔ فریقین کا مؤقف دیکھ کر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ یہ معاملہ جلد سلجھ سکتا ہے۔ صوبے میں علاج معالجہ سے متعلق پوری برادری احتجاج میں شامل نہ بھی ہو تو علاج وتشخیص کی بنیادی اکائی ڈاکٹروں کے احتجاج اور ہڑتال سے صوبے میں مشکل صورتحال پیدا ہونا فطری امر ہوگا جسے حل کرنا بالآخر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس جھگڑے کا ایک اور افسوسناک پہلو رمضان المبارک کا عدم احترام اور صوبے کی روایات کی پامالی بھی ہے۔ قانونی طور پر بھی فریقین نے ایک دوسرے کیخلاف مقدمات کا اندراج کیا ہے۔ ہمارے تئیں اس مسئلے کا حل نہ تو قانونی اور نہ ہی انتظامی اور سرکاری اختیار کے استعمال سے ممکن ہے اس مسئلے کا واحد حل افہام وتفہیم اور درگزر ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو حکومت کے سربراہ کے طور پر اس ضمن میں پہل کرنی چاہئے اور معاملے کو مزید بگڑنے سے پہلے حل کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔

بندوق بردار سفید ریش ارکان پارلیمنٹ محافظین

حکومت کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کی سیکورٹی واپس لینے کے بعد ارکان پارلیمنٹ کا اپنے قائد کی سیکورٹی کے فرائض سنبھالنا کوئی معیوب بات نہیں لیکن باریش اور باوقار علماء اور سیاسی شخصیات کے ہاتھوں میں کلاشنکوف آنا اس معاشرے اور خاص طور پر نوجوانوں کیلئے نیک شگون نہیں۔ مولانا فضل الرحمن اپنے سیکورٹی کے انتظامات خود بخوبی کرسکتے ہیں ان کے جاں نثاروں کی بھی کمی نہیں، ارکان پارلیمنٹ کا اپنے قائد کیساتھ بندوقوں سمیت تصویر کشی حکومت کیلئے کسی اچھے تاثرات کا باعث نہیں۔ ہر شہری کے جان ومال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایک اہم دینی وسیاسی رہنما کی حفاظت یقینی بنانا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ مولانا فضل الرحمن پر قبل ازیں حملے ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیکورٹی کا مناسب انتظام کیا گیا تھا جسے واپس لیکر حکومت نے خود اپنے لئے جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیا ہے، ایسے میں اگر خدانخواستہ کوئی واقع ہو جائے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہی ٹھہرے گی۔ حکومت اگر ملک میں ہر اہم شخصیت سے سیکورٹی واپس لیتی تو وہ الگ بات تھی، یہاں سیکورٹی واپس لینے کے عوامل انتظامی سے زیادہ سیاسی ہیں جو مناسب نہیں۔ بہتر ہوگا کہ حکومت مولانا فضل الرحمن کی سیکورٹی کا معقول بندوبست کرے اور عوام کے نمائندوں کو کلاشنکوف اٹھانے اور حکومتی اقدام کے ردعمل کا موقع دینے کی بجائے اپنی ذمہ داری نبھائے۔

صوبے کی تاریخ کا سنہرا دن

خیبر پختونخوا کے اپنے وسائل سے پیدا ہونے والی71میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کا معاہدہ صوبے کو سالانہ 2ارب سے زائد آمدن کی توقع خوش آئند بھی ہے اور یہ صوبائی حکومت کی کامیابی کیساتھ ساتھ ان طنزیہ جملوں کا جواب بھی ہے جو مخالفین کستے آئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط ایک اہم سنگ میل ہے جس کے بعد صوبائی حکومت اپنے وسائل سے صوبے کے آبی وسائل کو مزید بہتر طور پر بروئے کار لاکر بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ اور خودکفالت کی منزل حاصل کر سکے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے میں چھوٹے چھوٹے پن بجلی کے جن منصوبوں پر کام جاری ہے ان پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور بجلی کی پیداوار سے ملنے والے دو ارب روپے کی آمدن کو بجلی کے مزید منصوبوں کی تیاری کیلئے وقف کیا جائے۔ مزید دو سو میگاواٹ بجلی کی آمدن چند سالوں تک اسی شعبے کی ترقی پر خرچ کی جائے تو چند سالوں بعد صوبے کو خطیر آمدنی ملنی شروع ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں