Daily Mashriq


لویا جرگہ 2019

لویا جرگہ 2019

لویا جرگہ افغان پختون ثقافت کا ایک قدیم حصہ ہے۔ یہ وہاں کے معاشرے میں موجود جمہوری اقدار وروایات کی نمائندہ آواز رہی ہے۔ پشتو میں لویا کے معنی ’’بڑا‘‘ کے ہوتے ہیں۔ اس جرگے میں افغانستان بھر سے عمائدین کو مدعو کیا جاتا ہے جن میں قبائلی سردار، علماء، اساتذہ اور اپنے اپنے علاقوں کے بااثر افراد شرکت کرتے ہیں۔

لویا جرگہ کا انعقاد ایسے وقت میں کیا جاتا ہے جب افغانستان کو کسی قسم کے قومی مسئلے یا ملکی سطح پر کسی غور طلب صورتحال کا سامنا ہو۔ مثال کے طور پر یہ جرگہ اچانک موت کی صورت میں ریاست کے نئے سربراہ کے چناؤ، جنگ وامن سے متعلق حالات ومسائل پر گفتگو، نئے آئین کی منظوری اور اپنانے یا اس طرح کے دیگر علاقائی مسائل سے متعلق کوئی لائحہ عمل تشکیل دینے کیلئے مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ خالصتاً ایک پختون اجتماع ہوتا ہے اور افغانستان میں بسنے والی دیگر قومیتیں اس میں بطور مبصر شریک ہوتی ہیں۔ اس جرگے میں شرکاء کی کوئی خاص تعداد متعین نہیں ہے اور نہ ہی اس کے جاری رہنے کا دورانیہ طے ہوتا ہے۔ یہ جرگہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک توجہ طلب موضوعات پر سب کھل کر اپنی رائے نہ دے دیں اور اس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ یا لائحہ عمل نہ اخذ کر لیا جائے۔ اس جرگے کے فیصلے پر کسی بھی طرح اثرانداز ہونا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جرگے کے فیصلے کو پختونوں میں ایک خاص اہمیت ووقعت حاصل ہے۔

تاریخی اعداد وشمار کے مطابق1707 سے اب تک بیس کے قریب بڑے لویا جرگے بلائے جا چکے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جرگہ میرویس خان ہوتک نے بلایا تھا جس میں اس نے سفوید حکمران کو تخت سے اتارنے کے بعد پختون قوم کا سربراہ اور بادشاہ بننے کیلئے پختونوں کی حمایت حاصل کی تھی۔ احمد شاہ ابدالی بھی اکتوبر1747 میں اسی جرگے کی حمایت کے بعد پختون قوم کا نیا بادشاہ قرار پایا تھا۔ 1928میں بادشاہ امان اللہ کا بھی اپنے اقدامات کی حمایت لینے کیلئے بلایا جانے والا جرگہ تاریخی نوعیت کا حامل ہے اور قیام پاکستان کے بعد 1949میں ہونے والے جرگے میں ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو اب تک افغانستان کا سرکاری مؤقف کی صورت میں قائم ہے۔

ان بیس کے قریب ہونے والے لویا جرگوں میں سے تقریباً آٹھ جرگے سال2001 سے 2019 تک کے مختصر دورانیے میں بلائے گئے جس کی بڑی وجہ پختونوں کا طالبان کی حمایت اور مخالفت میں تقسیم ہونے کی وجہ سے افغانستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے شش وپنج کا شکار رہنا تھا۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اتنے تواتر سے اس جرگے کے انعقاد نے بلاشہ اس کی تاریخی اہمیت کو متاثر کیا ہے۔پاکستانی پختونوں میں لویا جرگے کی کوئی باقاعدہ روایت نہیں ہے البتہ یہاں باچا خان کی سربراہی میں 21جون1947 کو ایک لویا جرگے کا انعقاد کیا گیا تھا جس کا مقصد آزادی سے متعلق پاکستانی پختونوں کے جذبات کو آواز فراہم کرنا تھا۔ اس جرگے نے انگریز حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پختون علاقوں کو ملا کر ایک الگ آزاد ملک بنا دیا جائے البتہ انگریز حکومت نے یہ مطالبہ رد کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں باچا خان کے ہمنواؤں نے اس وقت کے شمال مغربی سرحدی علاقوں کی پاکستان میں شمولیت سے متعلق ہونے والے استصواب رائے کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

اب افغانستان میں جاری رہنے والی سترہ سالوں پر محیط جنگ میں شدید جانی اور مالی نقصان اُٹھانے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ اپنے ملکی مفادات کو سب سے پہلی ترجیح دینے کی پالیسی کے تحت عمل میں آیا ہے۔ وہ اب بلاشبہ ایسی جنگ میں خود کو جھونکے رہنے نہیں دے سکتے جس میں جیت ناممکن نظر آرہی ہے گوکہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے البتہ امریکہ اس فیصلے کیلئے فضا ہموار کرنے اور عالمی سطح پر سبکی سے بچنے کیلئے اقدامات کرنے میں جتا ہوا ہے۔

امریکہ اور افغان طالبان میں براہ راست مذاکرت کا سلسلہ2015 میں قطر میں شروع ہوا، البتہ اس سلسلے میں اب تک جاری تاخیر کی ایک بڑی وجہ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کی منتخب حکومت کو بطور شریک قبول نہ کرنے کا ہٹ دھرم رویہ ہے۔ افغان حکومت بہرحال اس تنازعے کا تیسرا اور اہم شریک ہے اور اسے شامل کئے بغیر افغان مصالحتی عمل کا کامیاب ہونا ناممکن ہے۔

اس تمام صورتحال میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کیلئے خاموش رہنا ناممکن تھا۔ انہوں نے طالبان مذاکرات، امریکی انخلاء اور آئندہ صدارتی انتخابات سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے 3200عمائدین پر مشتمل لویا جرگہ مدعو کیا جس میں ایک تہائی تعداد خواتین کی تھی۔ افغان صدر موجودہ صورتحال میں اپنی آواز توانا انداز میں اُٹھانے کیلئے یہی کر سکتے تھے۔ البتہ اگر امریکہ اپنے مذاکرات میں کامیاب ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے یا طالبان کے اس جرگے کو درخور اعتنا نہ سمجھنے کی صورت میں اس کی اہمیت خاک میں مل سکتی ہے۔ اس مسئلے کو لیکر اگر افغان قوم میں پائے جانے والے اختلافات برقرا رہے تو ایسے جرگے چنداں کارگر ثابت نہ ہو پائیں گے۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں