Daily Mashriq

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

ماضی میں جھانکنا کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے بلکہ اکثر مجبوری بن جاتی ہے‘ اب ہم شاعر کے بقول اپنے ماضی کی یادوں کو عذاب کہہ کر ذہن کے پردے سے کھرچنے کی خواہش تو نہیں کرسکتے البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا اور اس شعر کو بھی پہلے مصرعہ تک ہی محدود رکھتے ہیں کہ دوسرا مصرعہ اور یاد ماضی کے عذاب ہونے کا تعلق بھارتی سورماؤں سے ہی ہوسکتا ہے جو کچھ عرصے بعد دونوں محولہ اشعار کے دوسرے مصرعوں کو بھی حرزجاں بنا کر زندہ رہنے پر مجبور ہوں گے۔ البتہ ہم تو ماضی میں جھانکنے کو آج کی ایک تازہ خبر کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں یعنی جس طرح پاک فوج کی بہترین حکمت عملی نے بھارتی سورماؤں کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے ہیں اور انہوں نے پاک فوج سے آرٹلری فائر بند کرنے کی درخواست کی ہے جو حالیہ کشیدگی کے باعث جسے بھارت ہی نے ابتداء کرکے بڑھاوا دیا تھا اور پھر پاک فوج کے جوابی اقدامات سے بھارتیوں کو شدید نقصان برداشت کرتے ہوئے نہ صرف اپنے 34جوانوں سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ اپنی تمام گن پوزیشنیں بھی تبدیل کرنا پڑی تھیں اور پاکستان کے ہاتھوں دو بھارتی جہاز بھی گرانے کا صدمہ برداشت کرنا پڑا جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی بھارت کے ان نقصانات کا ذکر کیا تھا، بات لمبی ہوگئی ہے بہرحال بات ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے کی ہو رہی تھی یعنی یہ جو بالآخر بھارت نے پاکستان سے آرٹلری فائر بند کرنے کی درخواست کی ہے تو اس صورتحال نے ہمیں اپنے لڑکپن میں پہنچا دیا ہے یعنی ساٹھ کی دہائی کے اواخر کا ذکر ہے اس وقت ہر سال پشاور کے قیوم سٹیڈیم میں جشن خیبر منعقد کیا جاتا تھا جو ابتداء میں ایک ماہ کیلئے ہوتا تھا مگر عوام کے اصرار پر مدت میں اضافہ بھی کر دیا جاتا۔ اس صنعتی نمائش میں اولمپیا سرکس کے نام سے ایک منڈلی بھی شامل ہوتی تھی جس میں عوام گھوڑوں‘ ہاتھیوں اور شیروں کے کرتب کیساتھ ساتھ دو سفید فام خواتین کے جمناسٹک مظاہرے بھی شوق سے دیکھنے جوق درجوق جاتے تھے‘ جوانوں کو تو رکھئے ایک طرف بڑی عمر کے افراد بھی اس مشہور لطیفے کی مانند جس میں ایک دادا اسی قسم کی سرکس میں جانے سے انکار کرتا ہے مگر پوتے کے یاد دلانے پر کہ سرکس میں ایک لڑکی سفید رنگ کے گھوڑے پر مخصوص لباس میں کرتب دکھاتی ہے دادا یہ کہہ کر تیار ہو جاتا ہے کہ اس نے آج تک سفید رنگ کا گھوڑا نہیں دیکھا۔ بالکل اسی طرح اولمپیا سرکس میں سفید چمڑی والی خواتین کے جمنازیم سے لطف اندوز ہونے بڑی تعداد میں بار بار جانے پر مجبور ہوتے تھے۔ خیر جانے دیجئے‘ ہمارا مقصود سفید گھوڑے یا جمنازیم والے مظاہروں سے لطف اندوز ہونے والوں پر تبصرہ کرنا نہیں بلکہ محولہ سرکس کے دو کرداروں کے مابین لڑائی کا تذکرہ کرنا ہے۔ یہ دونوں سرکس کے رنگ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑ پڑتے ہیں اور پھر پستہ قد مسخرہ‘ لمبے تڑنگے شخص کو مقابلے کا چیلنج دیتا ہے‘ طویل القامت چیلنج دینے والے کو دیکھ کر ہنستا ہے کہ یہ مجھے چیلنج دے رہا ہے، اسے تو میں ایک ہی پٹخنی دے کر چاروں خانے چت کردوں گا‘ مگر پستہ قد یہ شرط عائد کرتا ہے کہ جب وہ کہے گا لڑائی شروع تو تب لڑائی شروع اور جب وہ کہے گا لڑائی بند تو پھر لڑائی روک دی جائے گی۔ شرط مان لی جاتی ہے، اب دونوں رنگ (میدان) میں آمنے سامنے آجاتے ہیں‘ پستہ قد لمبے شخص کے گرد گھومتے ہوئے اس کی پشت پر آجاتا ہے اور لڑائی شروع کہہ کر پشت سے حملہ آور ہو جاتا ہے اور زبردست لات رسید کرکے دور بھاگ جاتا ہے مگر لمبا اس کو پکڑنے کیلئے لپکتا ہے تو یہ لڑائی بند‘ لڑائی بند کے نعرے لگاتے ہوئے خود کو بچا لیتا ہے‘ یوں لڑائی شروع اور لڑائی بند کے دوران لمبے والے کی خوب درگت بنتی ہے‘ تاہم یہ تو سرکس کا ایک مزاحیہ حصہ ہوتا تھا جس کا مقصد تماشبینوں کو ہنسنے پر آمادہ کرنا ہوتا تھا مگر بھارتی سورماؤں نے پاک بھارت افواج کے مابین کنٹرول لائن پر ہونے والی جھڑپوں کو بھی شاید اولمپیا سرکس والا کھیل سمجھ رکھا تھا کہ وہ جب چاہیں کنٹرول لائن پر نہتے پُرامن شہریوں کیخلاف فائر کھول کر ان کی زندگی اجیرن کر دیں‘ بھارتی افواج نے شاید یہ سمجھ رکھا تھا کہ ان کا مکا پشتو ضرب المثل کے مطابق کابلی مکا ہے مگر اس کے کمانڈروں نے اپنے مکے کو کابلی سمجھتے ہوئے اس ضرب المثل کے دوسرے حصے کو بھلا دیا تھا کہ تمہارا مکا اگر کابلی ہے تو میرا بھی قندھاری ہے اور پلوامہ واقعے کے بعد اسی کی آڑ میں اس نے جو حماقتیں کیں اور جس کا اعتراف گزشتہ روز ہی ایک ٹویٹ کے ذریعے بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے یہ کہہ کر کیا کہ اس نے موسم کی خرابی کی وجہ سے یہ سوچ کر کہ بھارتی طیارے پاکستانی ریڈار پر نظر نہیں آئیں گے‘ تذبذب کے بعد ایئرسٹرائیک کی اجازت دیدی تھی اس کا پاکستانی افواج سے مسکت جواب ملنے کے بعد بالآخر بھارتی کمانڈروں کو لڑائی بند‘ لڑائی بند کی صدائیں بلند کرنے میں زیادہ سوچنا نہیں پڑا اور اب وہ پاکستانی کمانڈروں سے التجا کر رہے ہیں کہ خدا کیلئے آرٹلری فائر بند کی جائے کیونکہ پاکستانی افواج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں بھارت کو اپنے دو طیاروں سے ہاتھ دھونے کے علاوہ اپنے 34جوانوں کی زندگی بھی گنوانی پڑی ہے ۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں