Daily Mashriq


پشاور کی تعمیرنو میں اپنا حصہ ڈالئے

پشاور کی تعمیرنو میں اپنا حصہ ڈالئے

صبح سویرے دفتر جانے اور شام کو گھر واپس لوٹنے میں ہر پشاوری کی طرح مجھے بھی ٹریفک کی آفت کو جھیلنا پڑتا ہے بلکہ دن بھر جو حالات ہوتے ہیں پشاور کے ہر ایک شہری کو اس کا سامنا ہے۔ بی آر ٹی جسے عرف عام میں میٹرو کہا جاتا ہے یقینا پشاور کے شہریوں بلکہ باہر سے آنے والے سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں کیلئے بہت ہی مفید منصوبہ ہے، صاف ستھرا اور آرام دہ سفر کو لوگ سالوں تک یاد رکھیں گے، اور تو اور ٹریفک کے حالات بہت بہتر ہو جائیں گے کیونکہ پشاور کے اکلوتے راستے پر درجنوں بسیں اور اس سے کئی گنا ٹیکسیاں سارے راستے پر قابض رہتی ہیں، بی آرٹی منصوبہ کے بعد ان بسوں اور ٹیکسیوں سے یکسر جان چھوٹ جائے گی، ٹریفک ایسے رواں ہوگی کہ ہر کوئی تعریف کرتے نہیں تھکے گا، اب تو ہر کوئی پہلے ٹریفک پولیس اور پھر حکومت کو کوستے ہوئے اپنا سفر تمام کر لیتا لیکن یقین جانئے میرے سمیت کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ اس ٹریفک کے بے ہنگم ہونے میں میرا کتنا ہاتھ ہے اور اگر نہیں ہے تو کیا اس ٹریفک کے سدھارنے میں میرا کچھ کردار ہے بھی یا صرف کوستے رہنا اور حکومت کو برا بھلا کہنے تک ہی محدود رہوں گا۔ چلئے کوئی اور نہیں تو یہ پہل بھی میں ہی کر دیتا ہوں اور بحیثیتِ ایک قلم کار‘ بحیثیت ایک باشعور شہری کے اپنا کردار خود ہی متعین کر دیتا ہوں۔ آج کی یہ تحریر کوئی سیاست بازی نہیں کسی کی تعریف یا تنقید کیلئے نہیں بلکہ آپ سب سے التماس کیلئے ہے کہ آپ بھی اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمیں دامے درمے سخنے اس میں حصہ لینا ہوگا۔ ہم چاہے طالب علم ہوں، اُستاد ہوں، ٹرانسپورٹر، اپنی گاڑی چلا رہے ہوں یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہے ہوں ہم اگر روڈ پر نکلیں تو پھر ٹریفک پولیس کیساتھ بھرپور تعاون کریں گے تاکہ ہمارے پھولوں کے شہر کی ٹریفک بھی خوبصورت ہو جائے۔

پشاور صوبائی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے صوبہ بھر کی ٹریفک کا یہاں آنا ایک فطری سی بات ہے۔ یہ صرف پشاور کیساتھ ہی نہیں پاکستان کے دیگر شہروں کا بھی یہی حال ہے۔ ماضی قریب میں راولپنڈی میں وفاقی دارالحکومت کی وجہ سے ٹریفک کا وہ رش تھا کہ لوگوں نے گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا تھا لیکن حکومت نے وہ منصوبے بنائے کہ اب وہاں رش کا وہ عالم نہیں کہ عوام تنگ آجائیں۔ اسی طرح لاہور میں بھی میگا پروجیکٹس نے کچھ عرصہ شہریوں کو تنگ کئے رکھا تاہم اب جو سکون اور ٹریفک کی روانی لاہور میں ہے اس سے صوبہ بھر کے عوام کی خوشی دیدنی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب لاہور میں میٹرو کیلئے کام شروع کیا گیا کئی ماہ تک لوگ تکلیف میں رہے، حکومت کو برا بھلا کہتے رہے، مسافر تو مسافر لاہور کے تاجر بھی جھولی بھر بھر کے بددعائیں دیتے رہے، یہی حال راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کا تھا۔ مری روڈ کے تاجر تو میٹرو بننے کا سارا عرصہ تقریباً بیروزگار ہی رہے نہ گاہکوں کا رش اور نہ ہی سامان لانے لے جانے کیلئے راستے۔ دھول مٹی نے الگ جینا دوبھر کر رکھا تھا لیکن آج آپ لاہور‘ ملتان اور راولپنڈی کے عوام اور تاجروں سے پوچھیں تو وہ سعوبتیں بھول بھال کر نئے شہر کی رونقوں سے تجارت کے مزے لے رہے ہیں‘ یہیں پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر میٹرو کے بعد سرسبز وشاداب حصہ کا بھی بندوبست کیا گیا ہے اور اب ان گرین بلٹ میں پھولوں کی بہار ہے، دھول کی بجائے پھولوں کی مہک ہر آنے والے اور وہاں کے رہنے والوں کو محسور کر رہی ہے۔ پشاور بھی دیگر دارالحکومتوں کی طرح ہے کیونکہ یہاں بھی ٹریفک کے حالات راولپنڈی اور لاہور سے کچھ مختلف نہیں۔ ملحقہ علاقوں اور نزدیکی اضلاع سے لوگ روزگار اور سرکاری دفتری کاموں کے سلسلہ میں اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تمام گاڑیاں ایک ساتھ آنے سے بڑی سڑکوں پر ٹریفک اتنی بڑھ جاتی ہے کہ جیسے ساری ٹریفک چیونٹی کی چال سے چل رہی ہو۔ یوں منٹوں میں طے ہونے والا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اور یہ ہیوی ٹریفک سڑک پر موجود رہنے سے جہاں سڑکوں کی تباہی وقت سے پہلے ہو جاتی ہے وہیں پر کاروبار زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے۔ پشاور کے باسی کڑھتے، ایک دوسرے کو برے بھلے الفاظ سے نوازتے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ماضی کی صوبائی حکومتوں نے اپنے بس کے مطابق اور ٹریفک کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے اس کے حل کیلئے شہر کی سڑکوں کو کشادہ کرنے اور بڑے بڑے چوکوں میں پل بنائے ہیں اس پر بھی اکتفا نہیں اور اب بی آرٹی پر زوروں سے کام جاری ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ اس سے شہر بھر میں دھول ہی دھول ہے اور پھولوں کے شہر کو دھول مٹی کا شہر بنا دیا ہے یا پھر کچھ من چلے اسے پشاور کے کھنڈرات سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن یہ دھول بہت جلد جھڑ جائے گی اور پھر جو مطلع نکلے گا سب کیلئے خوشی اور شادمانی لیکر آئے گا۔

تاہم ہر طبقۂ فکر کے لوگوں کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ دامے درمے سخنے ہر کسی نے اس مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے، کوئی سڑک پر ان کیساتھ تعاون کرے گا اورکوئی میری طرح قلم کے ذریعے دوسروں کو اس طرف راغب کرے گا۔ ہمیں آج ٹریفک کو ترتیب میں رکھ کر، صبر وتحمل اور تعاون کرنا ہے اور بی آر ٹی کے بننے سے ہونے والے تلخ حالات کو بھی برداشت کرنا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کچھ تو پشاور میں ٹریفک بڑھ گئی ہے اور کچھ بی آرٹی کی وجہ سے بھی ٹریفک پر بوجھ بڑھا ہے لیکن ہم سب نے یہ صعوبتیں برداشت کرنی ہے اور یقین رکھنا ہے کہ آج نہیں تو کل یہ شہر امن کا گہوارا ہوگا، پھر سے یہ شہر سرسبز اور پھولوں سے بھر جائے گا اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی۔

متعلقہ خبریں