Daily Mashriq

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے اشارے

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے اشارے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو ہدف بنانے کی کوشش کی تو اس کو ’’بھاری خمیازہ‘‘ بھگتنا پڑے گا۔ امریکی صدر کے اس سخت بیان سے قبل خلیج کے پانیوں میں ایک واقعہ پیش آیا جس میںخلیج عمان میں آبنائے ہرمز میں چار تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں دو تیل بردار جہاز سعودی عرب کے تھے اور ایک، ایک یو اے ای اور ناروے کا تھا، ان ممالک کی جانب سے اس حملے کا الزام ایران پر لگایا جا رہا ہے تاہم ایران نے تخریب کاری کے اس واقعے سے مکمل لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی دھمکیوںکے ردِعمل میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر اپنا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا ابراہام لنکن مشرقِ وسطیٰ میں لنگر انداز کردیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا نے بی52لڑاکا طیارے بھی خطے میں بھیجے ہیں اور انہیں ایران کیخلاف کسی مسلح محاذ آرائی کی صورت میں تباہ کن بمباری کیلئے ا ستعمال کیا جاسکتا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ ایران کو امریکا کئی بار خبردار کر چکا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو تباہ کن ہوگی۔ امریکا یہ بات تو دہراتا رہتا ہے کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا تاہم عملی طور پر وہ ایران کو جنگ کی طرف ہی دھکیل رہا ہے۔ امریکا کی اقتصادی پابندیوں نے ایرانی نظام کو تھکا ڈالا ہے۔ یہ پابندیاں ممکن ہے ایک گولی چلائے بغیر ہی ایرانی نظام کا دھڑن تختہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ویسے ایران بھی امریکا سے جنگ نہیں چاہتا اسے پتہ ہے کہ جنگ چھڑی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ایران ناکہ بندی ختم کرانے کیلئے طاقت کے استعمال کی دھمکی کا کھیل کھیل رہا ہے۔ ہو سکتا ہے محدود پیمانے پر طاقت استعمال کرنے کی جسارت بھی کر بیٹھے مثلاً خلیجی ملک یا سعودی عرب وغیرہ کے تیل مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ ایران کے حکمراں یہ سوچ رہے ہیں کہ جس طرح حزب اللہ اسرائیل کیساتھ کمپنی کی مشہوری کیلئے محدود جھڑپ کر لیتی ہے ویسے ہی وہ بھی ایسا کر کے امریکا کیساتھ سمجھوتے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اس قسم کی سوچ پرخطر ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے یہ ایران کو جنگ کے دھانے پر لے جا کر کھڑا کر دے اور اس کا یہ کھیل مکمل جنگ بھڑکانے کا باعث بن جائے کیونکہ جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو وہ محدود نہیں رہتی اور نہ ہی آج کے دور میں جنگ کو محدود رکھا جا سکتا ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ کا امکان ہے، اس سوچ کو تقویت اس بات سے پہنچ رہی ہے کہ امریکا کے متعدد جنگی جہاز خلیج اور آس پاس کے سمندر میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، اس قسم کا اقدام جنگ کی تیاری کیلئے ہی کیا جاتا ہے، اعلیٰ حکام کا اشارہ ملتے ہی کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ امریکا کی جانب سے ایران کیلئے انتہائی سنجیدہ پیغام ہے۔

ایرانی نظام کو وہی نقصان ہو سکتا ہے جو دو جنگوں میں صدام حسین کو ہوا تھا۔ تباہی اور پھر مکمل بربادی، ایران کو وہی چوٹ لگ سکتی ہے جو طالبان کو لگی۔ ایک سوال بار بار کیا جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ اگر امریکا اتنی زیادہ تباہ کن عسکری طاقت کا مالک ہے تو اس نے اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کو دسیوں بار ایران کی جانب سے نشانہ بنائے جانے پر ایران کیخلاف کیوں استعمال نہیں کیا؟ یہ سوال ایک تو حیرت واستعجاب کے شکار افراد دہرا رہے ہیں اور دوسری جانب سازش کے نظرئیے کا پرچار کرنے والے بھی یہی کام کر رہے ہیں۔ وہ لوگ بھی یہی باتیں کر رہے ہیں جو امریکی نظام اور ایرانی نظام کے درمیان خفیہ تعلق کی موجودگی کی بابت شکوک وشبہات کھڑے کر رہے ہیں۔ اس سوال کے ضمن میں حقیقت یہ ہے کہ ایران نے خطے میں یا اس کے باہر اب تک جو کچھ کیا وہ امریکہ پر براہ راست حملے کے زمرے میں نہیں آتا۔ دوسری جانب امریکا بھی ایران اور اس کے مفادات کیخلاف خفیہ عسکری آپریشن کرتا رہا ہے۔ یہ کام سی آئی اے اور امریکی اتحادیوں کے ذریعے انجام دیا گیا۔ ایران کو اذیت ناک اقتصادی بائیکاٹ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی میں ایران کیخلاف جوابی آپریشن نہ کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ امریکا کو یہ امید رہی کہ ایران اپنی سیاست تبدیل کر لے اور اس کا اتحادی بن جائے اور اس طرح ایران امریکہ کے بڑے حریفوں روس اور چین کی گود میں گرنے سے بچ جائے۔ ممکن ہے روس یا چین ایران کو حکمران نظام برقرار رکھنے کیلئے تحفظ فراہم کردے۔ یہ کام شطرنج کی بساط پر کھیلے جانے والے کھیل کا حصہ ہو سکتا ہے۔ بشارالاسد کے نظام حکومت کے حوالے سے روس مداخلت کر کے یہ نظیر قائم کر چکا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے جا رہا تھا تو روس نے سہارا دے کر اسے بچا لیا۔ روس اب یہی کھیل وینزویلا میں میڈورو نظام کیساتھ کر رہا ہے۔ ایران کا نظام مختلف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر امریکہ ایران کشیدگی بڑھتی ہے اور نوبت جنگ تک آجاتی ہے تو اس کے خطے کے دیگر ممالک پر کیا اثرات پڑیں گے؟ اس بارے ہماری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ امریکہ ایران کشیدگی کی صورت میں خطے کے دیگر ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا اورکشیدگی کی بات دوممالک تک محدود نہیں رہے گی، ایران امریکہ کو جواب دینے کے بجائے اسرائیل پر حملہ کر دے گا اور اس کے اثرات عرب ممالک تک جائیں گے۔ یوں امریکی مفادات سے شروع ہونے والی جنگ کا اصل ہدف اور لقمہ مسلم ممالک بنیں گے، اُمت مسلمہ کے سرکردہ ممالک کو اس بارے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے بروقت اوربھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں