Daily Mashriq


خطرات کا مقابلہ بند مٹھی بن کر ہی ممکن ہے

خطرات کا مقابلہ بند مٹھی بن کر ہی ممکن ہے

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے عروج کے لیے بطور قوم متحد اور ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ منگلا کور کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی اور اس مقصد کے لیے قوم اور ریاستی اداروں کو ملک کے بہترین مفاد کے لیے مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ دریں اثناء چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے خبردارکیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے خلاف ہر سطح پر سازشیں جاری ہیں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را نے اسے نقصان پہنچانے کے لیے 50 کروڑ ڈالرز کے فنڈز مختص کردیئے ہیں۔اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف روایتی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے، جو کسی بھی وقت بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت آگ سے کھیل رہا ہے اور بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔سیمینار سے خطاب میں جنرل زبیر محمود نے کہا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں اور افغانستان میں مستقل عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ بھارت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، قوم پرست بلوچ گروپ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مدد کرکے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کہ غیرریاستی عناصر کے ذریعے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا ہے، اس وقت جنوبی ایشیا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس میں بھارت کا کولڈ اسٹارٹ اور پرو ایکٹو ڈاکٹرائن، بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم شامل ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے دہشتگردی کی متعدد کارروائیاں کی جاچکی ہیں، جبکہ اس سلسلے میں 3 مارچ 2016 کو بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو پاکستانی حدود سے گرفتار کیا گیا تھا۔پاک فوج کے سربراہ اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے دو الگ الگ تقریبات میں ملتی جلتی بلکہ ایک ہی بات کہی ہے ۔ ان بیانات کو فوجی قیادت کی معمول کی گفتگو پر محمول اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ ان دنوں بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں میں تیزی آچکی ہے جبکہ امریکہ اور بھارت مل کر پاکستان میں کارروائیوں کی دھمکی دے چکے ہیں۔ یوں تو امریکی اور بھارتی دھمکیاں بھی معمول کی بات ہے لیکن دونوں ممالک کا مل کر پاکستان میں کارروائی کا عندیہ خاصا سنجیدہ معاملہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی پاکستان میں دہشت گردی اور تخریبی واقعات میں ان کا ملوث ہونا اور اس کی شبانہ روز منصوبہ بندی کوئی راز کی بات ہے لیکن چوری چھپے اور عدم اعتراف کی کارروائیوں اور اعلانیہ دھمکی میں بہر حال بڑا فرق ہے۔ بھارت اور امریکہ سی پیک منصوبے پر کام شروع کرنے کے بعد سے سیخ پا بھی ہیں اور ان کی سازشوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سازشوں کے مقابلے کا کارگر نسخہ قائد اعظم محمد علی جناح نے بہت پہلے یہ بتا دیا تھا جس کا آرمی چیف نے حوالا دیا ہے۔ بابائے قوم کا ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم اور ریاستی اداروں کو ملک کے بہترین مفاد کے لئے مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئر مین کے بیان کے بعد اس امر کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ اغیار کس طرح سے پاکستان کو گھیرنے کے درپے ہیں۔ ویسے بھی یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ پاکستان حالیہ برسوں میں جس قسم کے حالات سے گزرا ہے سطحی طور پر دیکھا جائے تو اس کی وجہ ہمارے ہی چند گمراہ ہم وطنوں کی کارستانیاں تھیں۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں بلکہ اس کے پس پردہ طاقتور ہاتھ کار فرما تھے جن کا مقصد خدانخواستہ پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانا تھا۔ ایک دہائی قبل ہی خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جاری حالات کے باعث ملکی سا لمیت کو خطرات واضح تھے جس پر ہماری قوم‘ فوج‘ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی قربانیوں ‘ جانی و مالی نقصانات اور بڑی جدوجہد کے بعد قابو پالیا تھا اسے خوش قسمتی قرار دیا جائے یا بدقسمتی گردانا جائے کہ ہماری قوم فوری خطرات کے وقت تو مکا بن جاتی ہے مگر جیسے ہی حالات میں بہتری دیکھتی ہے بند مٹھی نہ صرف تیزی سے کھل جاتی ہے اور بکھر جاتی ہے جس کا فائدہ موقع کی تاک میں رہنے والا مکار دشمن اٹھاتا ہے نتیجتاً ملک میں انتشار عدم اعتماد اور عدم استحکام کی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں ۔ اگر ہماری قوم معمول کے حالات میں تضادات سے اجتناب کرکے بند مٹھی کی طرح رہنے لگے تو اغیار ہمیں چوکنا اور متحد دیکھ کر کبھی ریشہ دوانیوں کی سوچ ہی نہ سکے۔ قوم کے اتحاد و اتفاق کا درس دینے والوں کی کمی نہیں ہمارے غمخواران قوم تکلفاً ایسا کرتے ضرور ہیں لیکن عملاً نہ تو اجتماعی اور نہ ہی انفرادی اتحاد و اتفاق کی سعی کرتے ہیں۔ اغیار اور طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم کو بند مٹھی اور ملکی اداروں کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں عدم مداخلت اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنا ہوگا تاکہ دشمن ہمیں یکجا دیکھ کر نگاہ غلط ڈالنے کی جرأت تک نہ کرسکے۔

متعلقہ خبریں