Daily Mashriq


علمائے کرام اپنے مقام و مرتبہ کا خود بھی خیال رکھیں

علمائے کرام اپنے مقام و مرتبہ کا خود بھی خیال رکھیں

ماڈل گرل قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم مفتی عبدالقوی کی ضمانت پر رہائی کے وقت سرخ گلابوں کے ہاروں سے ڈھکی تصویر میں وکٹری کا نشان بنانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ ہمیں اس امر کا تو علم نہیں کہ قندیل بلوچ کے قتل میں وہ ملوث ہیں یا بے گناہ اس کا فیصلہ عدالت میں ہوگا۔ ہمارے تئیں ایک ممتاز عالم دین اور مفتی کا اس قسم کے واقعے میں ملوث ہونا ایک بڑا سانحہ اور علمائے کرام کے لئے خجالت کا باعث امر ہونا چاہئے اور اس پر ندامت سے سر جھکانے کی بجائے وکٹری کا نشان بنانا اس امر پر دال ہے کہ مفتی صاحب کو اس پر کوئی ملال نہیں کہ وہ ایک ایسے الزام کے تحت گرفتار ہوئے جو سنگین اور علماء کے شان کے بالکل ہی خلاف ہے۔ کسی عالم دین کے لئے رہائی پر وکٹری کا نشان بنانا اس وقت ہی روا ہوگا جب وہ کلمہ حق کہنے کی پاداش میں پابند سلاسل ہونے کے بعد رہا کئے گئے ہوں۔ مفتی عبدالقوی کی ذات اور ان کے افعال سے ہمیں کوئی سروکار نہیں انسان خطا کا پتلا واقع ہوا ہے مگر ان کے دینی مقام و مرتبہ کے باعث اس بات پر افسوس کا ہی اظہار کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس طرح کے الزام میں ملوث ہوئے اور کافی دن پولیس کی حراست میں گزارنے اور تفتیش کے بعد رہائی پر تفاخر اور کامیابی کا نشان بنانے میں حرج نہ سمجھا۔ علمائے کرام انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ معاشرتی انحطاط کے باوجود بھی علمائے کرام اور دینی شخصیات کی عزت و مقام زیادہ متاثر نہیں ہوا لیکن اگر علمائے کرام میں ایسے لوگ پائے جانے لگیں جن پر بدعنوانی اور سنگین نوعیت کے الزامات لگنے لگیں تو اس سے معاشرے میں علمائے دین کی عزت و وقعت میں کمی فطری امر ہوگا۔ علمائے کرام مشائخ عظام اور دین سے نسبت رکھنے والوں سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ دین کے نمائندے سمجھے جانے کے باعث احتیاط سے کام لیں اور کسی ایسے واقع میں ملوث نہ ہوں کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے کے مصداق اہل علم اور دینی طبقے پر انگشت نمائی کے کسی موقع کا باعث بنیں۔

ذرا نم ہو تویہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاورکے انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو بائیو سائنسز (آئی آئی بی) کے طلبہ کو امریکی شہر بوسٹن میں ہونے والے سالانہ انٹرنیشل جینیٹیکلی انجنیئرڈ مشینز (آئی جی ای ایم) کے فیسٹیول میں چاندی کا تمغہ دیاجانا ہمارے نوجوانوں کی تحقیق و قابلیت کا اعتراف اور ہم سب کے لئے قابل فخر امر ہے۔ایوارڈ جیتنے والی ٹیم میں شامل طلبہ کا تعلق اسلام آباد، لاہور، پشاور، ملتان، خیبر ایجنسی، صوابی، اٹک، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ سے ہے۔ آئی جی ای ایم کے سالانہ فیسٹیول میں دنیا بھر کے نوجوان طلبہ شامل ہوتے ہیں، جنہیں ان کی تخلیقات پر ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔پاکستانی ٹیم اس عالمی میلے میں دوسری بار شامل ہوئی، اور رواں برس اس میں شامل ہونے والی پشاور کی آئی جی ای ایم کی ٹیم کو چاندی کا تمغہ دیا گیا۔پاکستانی طلبہ کی اس ٹیم نے ایک ایسی مصنوعی مچھلی تیار کی ہے، جو کسی بھی آلودہ پانی کی نشاندہی کرتی ہے، اسے رپورٹر مچھلی کا نام دیا گیا ہے۔اس مچھلی کو خصوصی طور پر ماہی گیروں کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے، رپورٹر مچھلی دریا میں جانے کے بعد اس وقت اپنا رنگ تبدیل کردیتی ہے، جب وہ پانی میں آلودگی پاتی ہے۔پاکستانی طلبہ کی ٹیم نے ایک ایسا ڈیجیٹل سینسر بھی تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ماہی گیروں کو کسی بھی دریا میں موجود پانی میں آرسینک یا دوسری آلودگی کی موجودگی کا پیغام بھیجا جاتا ہے۔پاکستانی طلبہ کی ٹیم کو ان کی تخلیقات پر بیسٹ بائیو سیفٹی ایوارڈ 2017 دیا گیا۔پاکستان کے بڑے شہروں کے علاوہ خیبر پختونخوا کے چھوٹے شہروں اور خاص طور پر قبائلی علاقے سے نوجوانوں کی انعام حاصل کرنے والی ٹیم کا حصہ ہونے پر یہی کہنا درست ہوگا کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ ان نوجوانوں کی ان کے تعلیمی ادارے اور صوبائی و مرکزی حکومت کی جانب سے بھرپور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں ان کو مناسب سہولیات اور وسائل مہیا کئے جائیں تو وہ تحقیق کے میدان میں مزید کارہائے نمایاں انجام دے سکتے ہیں۔مناسب ہوگا کہ ان طالب علموں کو صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں بھی ایوارڈ سے نواز کر حوصلہ افزائی کا حق ادا کریں ۔

متعلقہ خبریں