اب سر پیٹنے کا فائدہ؟

اب سر پیٹنے کا فائدہ؟

وقت آپ کو اصلاح کا ایک موقع دیتا ہے لیکن اکثر لوگ اس موقع کو ضائع کر دیتے ہیں۔ وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں قدرت بار بار اصلاح کے مواقع عنایت کرتی ہے اور بدقسمت وہ ہوتے ہیں جو بار بار مواقع ملنے کے باوجود اصلاح سے محروم رہتے ہیں۔ہماری سیاسی تاریخ غلطیوں سے عبارت ہے ، تین مارشل لاؤں کے بعد بھی اہلِ سیاست اپنی اصلاح نہیں کر سکے۔ 2006ء میں میثاق جمہوریت کے عنوان کے تحت اصلاح احوال کی ایک سنجیدہ کوشش ہوئی مگر اس میثاق کی بعض شقوں کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا اور جن شقوں پر عمل درآمد ہوا وہ اس بھونڈے انداز میں ہوا کہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ ’’مذاق جمہوریت‘‘ بن گیا۔ الیکشن کمیشن ‘ احتساب بیورو کے چیئرمین کی تقرری اور نگران حکومتوں کا قیام سمیت اکثر اقدامات جمہوریت کی قدر و منزلت میں اضافے کا باعث بننے کی بجائے اس کی بدنامی کا باعث بنے۔ بایں ہمہ دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین ملی بھگت کا تاثر دن بدن بڑھتا گیا ہے۔ جب نیب کو میثاقِ جمہوریت میں ختم کرنے کی بات ہوئی تھی اس کو پیپلز پارٹی نے پانچ سال قائم رکھا اور مسلم لیگ ن نے بھی اس کو ختم کرا کے آزاد احتساب کمیشن بنانے کی کوشش نہ کی تاآنکہ نیب شریف فیملی کے اپنے گلے کی ہڈی بن گئی۔ آج نیب کوختم کیا جائے تو یہ سمجھا جائے گا کہ اپنے خلاف قائم ریفرنسز کی وجہ سے نیب کی جگہ کوئی دوسرا احتساب ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ میں ان کالموں میں لکھتا آیا ہوں کہ نیب کا اسٹرکچر چونکہ حاکم وقت کو سُوٹ کرتا ہے لہٰذا اس کو ختم کرنے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے سنجیدگی نہ دکھائی۔ سچ تو یہ ہے کہ آزاد اور خود مختار کمیشن کسی کو سُوٹ نہیں کرتا۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ایک اچھا احتساب کمیشن بنانے کی سعی ضرور کی ہے مگر ڈی جی احتساب کمیشن کے استعفیٰ کے بعد یہاں بھی احتساب کے عمل پر سوالات اُٹھے۔ بہرحال عمران خان نے خیبر پختونخوا میں نیک نیتی کے ساتھ ایک ایسا احتساب ایکٹ متعارف کرایا ہے جس کی وجہ سے احتساب کے عمل پر حکومت اثرانداز ہونے کی طاقت نہیں رکھتی جب کہ باقی تین صوبوں اور مرکز میں ’’نیب‘‘ سے ہی گزارا کرنے کی کوشش ہوتی آئی ہے۔ باقی رہے وہ اقدامات جو میثاقِ جمہوریت کے تناظر میں اُٹھائے گئے ہیں وہ بھی کسی فراڈ سے کم نہیں ہیں۔ آنکھوں میں دھول جھونکنے سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میں یہاں ان اقدامات کی تفصیل میں جانے کی بجائے ان شقوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن پر عمل کیا جاتا تو پاکستان کی سیاست میں خوشگوار تبدیلی لائی جا سکتی تھی مگر یہ نہ ہو سکا اور اب یہ عالم ہے کہ تو نہیں تیرا غم تیری جستجو بھی نہیں… کے مصداق وقت ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔میثاقِ جمہوریت کے تحت جس اہم بات پر اتفاق ہوا تھا وہ ’’ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن‘‘ کا قیام تھا۔ جنوبی افریقہ کی طرز پر بنائے جانے والے اس کمیشن کا قیام عمل میں آ جاتا تو آج ماضی دفن ہو چکا ہوتا اور گڑھے مردے نہ اُکھاڑے جاتے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے مگر اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرنے سے گریز کیا۔ جنوبی افریقہ میں اس ایکسر سائز کے نتیجے میں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیا گیا اور معافی مانگی گئی۔ نیلسن منڈیلا چاہتے تو ماضی کریدتے اور انتقام کے جذبے سے سرشار ہو کر نسل پرستوں کے لیے یوم حساب برپا کرتے مگر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ عظیم لیڈر تھے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ لیڈر بھیڑ چال نہیں چلتا بلکہ ایک وقت آتا ہے جب لیڈر کو آگے نکل کر ایک مختلف سمت جانا پڑتا ہے۔ 

"There are times when a leader must come out of the flock, moving in a new direction, confident that he is leading his people in a right way."۔یہ ہوتے ہیں لیڈر ‘ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے نصیب میں لیڈروں کے کوٹے پر بونے سیاستدان آئے ہیں۔ جو سب سے زیادہ سیاسی نو سرباز ہے اُسے اتنا کامیاب سیاستدان قرار دیا جاتا ہے۔ عوام کی رہنمائی کے دعویدار عوام کی آنکھوں میں بس دھول جھونکنے کا فن جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔ کسی سیاستدان کی کارگزاری دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ وہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر کچھ کر رہا ہے۔ ہر کسی کی ذات فیصل آباد کا گھنٹہ گھر بنی ہوئی ہے ‘ جو کام بھی کیا جاتا ہے وہ اس سوچ کے تحت ہوتا ہے کہ اس سے صاحب سیاست کو کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ نوٹ اور ووٹ کے لالچ کے علاوہ بھی بڑی دنیا ہے مگر اُس کائنات کو دیکھنے سے محروم آنکھوں والے ہمارے ’’صاحب بصیرت‘‘ (Visionary)رہنما بنے بیٹھے ہیں۔ اقبالؒ یاد آتے ہیں۔
برتراز اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
مشرف کی رخصتی کے بعد پاکستان میں ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بن جاتا تو ماضی کا بہت سا گند سمیٹا جا چکا ہوتا۔ سب اپنی غلطیوںکا اعتراف کرتے ‘ قوم کو سچ بتاتے کہ ماضی میں انہوں نے کیا غلط کام کیے ‘ ان کی تلافی کے لیے اب وہ کیا کر سکتے ہیں اور آئندہ کے لیے قوم سے معافی مانگ کر اصلاح کے لیے عہد کیے جاتے۔ یہ سب کرنے کی لیکن جرأت کون کرتا۔ آصف علی زرداری جنہیں قوم نے صدر مملکت بنا کر سر کا تاج بنایا لیکن وہ پھر بھی سوئس بنکوں میں پڑے اپنے 6ملین ڈالرز کے اسیر رہے یا پھر میاں نواز شریف جو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے باوجود اپنے اور اپنے بیٹوں کے اثاثے وطن میں واپس لانے سے گریزاں رہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر نواز شریف حدیبیہ پیپر ملز کیس کے تناظر میں منی لانڈرنگ کا اعتراف کرتے اور آئندہ اس غلطی کی توبہ کرتے اور اصلاح کے لیے قدم اُٹھاتے تو پانامہ لیکس کے انکشافات کیا پاکستان میں قیامت اُٹھانے کا سبب بنتے اور کیا اس بنیاد پر اپوزیشن شور مچاتی اور عدالتی نظام حرکت میںآتا؟ یہ سب ہوا اس لیے کہ جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔

اداریہ