ایک تباہ کن زلزلے کی چاپ ٓ

ایک تباہ کن زلزلے کی چاپ ٓ

ایران اور عراق کی سرحد پر 7.3 کے زلزلے میں تباہی کا تناسب ہماری نسبت کم رہا ۔اس زلزلے میں اب تک چار سو سے زیادہ افراد جاں بحق اور سات ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔زلزلے کا مرکز تئیس کلومیٹر زمین کے اندر تھا اوراس سے اکتیس کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا۔2003میں ایران کے شہر بام میں خوفناک زلزلے میں 26000افراد ہلاک ہوئے تھے ۔یوں لگتا ہے کہ ایران نے بام کی تباہی سے خاصا سبق سیکھا ہے اور تعمیرات کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ حفاظتی اقدامات اپنائے ہیں ۔حالیہ زلزلے میں متاثر ہونے والے شہر کی میڈیا میں آنے والی تصویروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شہر میں بہت سی بلند وبالا عمارتیں اور ٹاور بھی تھے ۔یہ ایک گنجان آباد شہر بھی معلوم ہوتا ہے ۔اس کے باوجودجانی نقصان کا تناسب ماضی کی نسبت کم رہا۔جاپان تو ہمہ وقت ہی زلزلے کے جھٹکوں کے باعث جھولتا رہتا ہے مگر اپنے طرز تعمیر کو اس تلخ حقیقت کے تابع کرکے وہ نقصان سے بچ گئے ہیں۔ہمارے ہاں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کو بھی بارہ برس گزر گئے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہم نے اس زلزلے کی تباہی سے کوئی سبق سیکھا ہے ؟۔چند دن قبل ملک کے حساس ادارے آئی ایس آئی نے وفاقی حکومت کو مطلع کیا تھا کہ بحرہند میں ایک خوفناک زلزلے کا خدشہ ہے جس سے خطے کے کئی ممالک بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔اس اطلاع کا نوٹس لے کر وفاقی حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو ریلیف اور ریسکیو کی تیاریوں کا حکم دیا تھا ۔اس سلسلے میں آفات سے نمٹنے کے لئے قائم ادارے ایرا نے ایک خط کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں اور تنظیموں کو متوقع زلزلے کی تباہ کاریو ں کے مقابلے کی تیاری کے اقدامات کرنے کو کہا تھا۔میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلقہ تمام اداروں کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے کا کہہ دیا گیا ہے ۔ایرا نے بھی خط میں تمام اداروں کو باخبر اور متحرک رہنے کو کہا ہے۔ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے تین رکنی ٹیم بھی تشکیل دی ہے ۔گوکہ اس طرح کی رپورٹس کی کوئی سائنسی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی مگر ان رپورٹس کو کلی طور پر مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ گوکہ امریکہ میں مقیم پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے ایک ٹویٹ میں اس اطلاع کا مذاق یوں اُڑایا تھا کہ اب آئی ایس آئی نے محکمہ موسمیات کا کام بھی سنبھال لیا ہے مگر عمومی طور پر یہی سمجھا جا رہا تھا کہ حساس ادارے نے اگر اس طرح کا کوئی خدشہ ظاہر کیا ہے تو اس کی کوئی ٹھوس بنیاد ہو سکتی ہے ۔عین ممکن ہے کہ کسی عالمی میٹرولوجیکل سینٹرکی کوئی رپورٹ اس اطلاع کی بنیاد ہو ۔ اس بات کا امکان ہے کہ کسی دوسرے ملک سے معلومات کے تبادلے میں یہ خبر ملی ہو۔آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کی پیش گوئی بھی امریکن جیالوجیکل سروے نامی ادارے نے کم وبیش تین سال قبل کی تھی اور اس رپورٹ پر مبنی خبر پاکستان کے اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی۔ لیکن اس رپورٹ کو سنجیدہ نہیں لیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ذہنی اور عملی طور پر نمٹنے کے لئے ہمارے پاس کوئی تیار ی نہیں تھی اور اس غفلت نے پچھتر ہزار انسانوں کو نگل لیا تھا اور ہنستے بستے شہر ویران ہو کر رہ گئے تھے ۔اس قیامت خیز زلزلے کا پہلا سبق آفات سے مقابلے کی قبل از وقت تیاری تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کو بارہ سال گزرنے کے باوجود ہم نے اپنے لچھن اور طور طریقے بدلنے کی کوشش نہیں کی ۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے ادارے توقائم ہوئے مگر مستقبل کے چیلنجز کے مقابلے کی تیاری عملی طور پرکہیں نظر نہیں آئی ۔زلزلے کا دوسرا سبق اپنی تعمیرات کو محفوظ سے محفوظ تر بنانا تھا لیکن ہم نے اس سمت میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کی بلکہ پہلے سے زیادہ لاپرواہی کا مظاہرہ شروع کر دیا گیا ۔کھلے مقامات کی پہلے ہی ہمارے ہاں کمی تھی مگر زلزلے کے بعد کھلے مقامات کی اہمیت سمجھنے اوراس ضرورت کا احساس کرنے کی بجائے ان مقامات پر غیر منظم اور بے ہنگم تعمیرات کی گئیں ۔کراچی تو چائنہ کٹنگ کے لئے مشہورتھا ہی مگر اب ملک کے دوسرے شہروں میں بھی پبلک پارکوں اور کھلے مقامات پر قبضوں کی روایت عام ہو چکی ہے ۔راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹائون میں چنار پارک پر قبضے کے خلاف اکثر مقامی افراد سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تعمیرات کے ذمہ دار اداروں نے رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بلڈنگ کوڈ کو پس پشت ڈال کر تعمیرات کے لئے این او سی جاری کرنے کی روایت اپنا لی اور اس طرح ملک بھر کے گنجان آباد علاقے اور بازار مزید بے ترتیب اور خطرناک ہو گئے ۔حالانکہ یہ خطہ اب بھی کئی فالٹ لائنز کے اوپر ہے اور فالٹ لائن کا مطلب یہ ہے لاکھوں انسان بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔آفات کو روکا تو نہیں جا سکتا مگر اپنے طور طریقے ،طر ز زندگی ،تعمیرات کا انداز بدل کر نقصان کو کم از کم سطح پر رکھا جا سکتا ہے ۔یہ کام صرف حکومتی ادارے ہی نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لئے سوسائٹی کا تعاون بھی از حد ناگزیر ہوتا ہے۔اگر سوسائٹی پہلے ہی کسی ایسے حادثے کی زخم خوردہ ہو تو اس کی ذمہ داری دوچند ہوتی ہے ۔ملک کے تمام حکومتی اداروں کو نہ صرف اس خطرے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے بلکہ عوام کو بھی حفاظتی تدابیر میں شریک کرنا چاہئے تاکہ خدانخواستہ زلزلے کا کوئی اور جھٹکا ہمارے لئے 8اکتوبر کی طرح تباہی کا استعارہ اور علامت نہ بن سکے۔

اداریہ