صحافتی درسگاہ۔۔۔۔ سیدی حبیب ا لرحمن

صحافتی درسگاہ۔۔۔۔ سیدی حبیب ا لرحمن

برادر بزرگ جناب حافظ سید حبیب الرحمن بھی دنیائے سرائے سے رخصت ہوئے۔ اپنی ذات میں انجمن تھے اور صحافتی درسگاہ بھی۔ مرنجان مرنج اور ایک ماہر عملیت پسند صحافی جن پر خیبر پختونخوا کی صحافت ہمیشہ نازاں رہے گی۔ سال 1991ء میں جب مجھ سے طالب علم نے مشرق میں استاد مکرم سید عالی رضوی کی نگرانی اور شفقت بھرے سائے میں اداریہ نویسی شروع کی تو ابتدائی چند دنوں میں ان سے غائبانہ تعارف ہوگیا۔ مشرق اس وقت این پی ٹی کے زیر اہتمام ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں سے شائع ہوتا تھا۔ حبیب الرحمن صاحب اس وقت مشرق پشاور کے چیف نیوز ایڈیٹر تھے۔ اخبار کا اداریہ لاہور سے لکھا جاتاتھا وہ تقریباً روزانہ عالی صاحب سے بات کرتے اور اپنے صوبے کے کسی اہم مسئلہ پر شذرہ لکھنے کا کہہ کر مسئلہ کے پس منظرسے آگاہ کرتے۔ یہ شذرہ کبھی استاد مکرم تحریر فرماتے اور کبھی مجھے حکم ہوتا کہ حبیب صاحب سے بات کرلوں۔ ٹیلی فون پر ان کی شفقت بھری آواز دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی۔ 1995ء میں مشرق کی نجکاری کے بعد سید محترم جناب سید تاج میرشا ہ صاحب نے مشرق پشاور کے انتظامات سنبھالے تو یہ حبیب الرحمن صاحب ہی تھے جنہوں نے آغا جی سے استاد مکرم اور میرے لئے درخواست کی کہ ان دونوں کو مشرق پشاور کے عملے میں شامل کرلیں۔ عالی صاحب ایڈیٹر کے طور پر منسلک ہوئے اور ہم بھی ان کے ساتھ مشرق پشاور کے اداراتی عملے کا حصہ بن گئے۔ حبیب الرحمن صاحب اور سردار فنا( سردار صاحب مشرق پشاور کے سرکولیشن منیجر تھے) سے این پی ٹی کے زمانے میں بھی چند ملاقاتیں رہیں۔ مشرق کے عہد نو میں یہ ملاقاتیں بڑھیں۔ عالی صاحب اور میں باری باری پندرہ دن کے لئے لاہور سے پشاور ہر ماہ آیا کرتے تھے پھر مجھے مستقلاً پشاور منتقل کردیاگیا۔ پنجاب کے اس وقت کے ابتر حالات سے آغا جی اور حبیب الرحمن صاحب پریشان تھے۔ ایک دن دونوں بزرگوں نے لاہور پہنچ کر ہمیں پشاور کے لئے کوچ کرنے کا حکم دیا یوں ہم پشاور پہنچ گئے۔

طویل تمہید کے لئے معذرت۔ قیام پشاور کے دنوں میں حبیب الرحمن صاحب سے ملاقاتیں اور قربتیں بڑھیں۔ یہیں یہ راز کھلا کہ وہ حافظ قرآن بھی ہیں۔ وہی نہیں بلکہ ان کے دیگر برادران بھی حافظ قرآن ہیں۔ ان کے والد گرامی اپنے وقت کے معروف عالم دین تھے۔ ایک بھائی شرعی عدالت کے جج بھی رہے۔ حبیب الرحمن صاحب اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے جب انبالہ سے راولپنڈی آئے تو ان کی عمر سات برس تھی۔ دوران تعلیم ہی وہ راولپنڈی کے متعدد اخبارات سے جز وقتی طور پر منسلک ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے عملی صحافت میں کل وقتی صحافی کے طور پر قدم رکھا۔ یہ فیصلہ ان کے والد کی مرضی سے متصادم تھا مگر پھر انہوں نے صاحبزادے کو من پسند شعبے میں صلاحیتوں کے اظہار کی اجازت دے دی۔ حبیب الرحمن صاحب کے والد راولپنڈی میں ایک بڑے دینی مدرسہ کے پرنسپل تھے۔ حبیب صاحب کے بقول ان کی خواہش تھی کہ میں ان کے ساتھ مدرسہ کے امور سنھالنے میں مدد دوں۔ وسیع المطالعہ حبیب صاحب طبعاً لکھنے پڑھنے کی دنیا کے آدمی تھے مختصر عرصہ میں راولپنڈی کے ایک مقامی اخبار کے ایڈیٹر بن گئے۔ 1965ء کے اوائل میں روز نامہ انجام پشاور سے شروع ہوا تو وہ اس کے ادارتی عملے میں شامل ہو کر راولپنڈی سے پشاور منتقل ہوگئے۔ یوں1965ء سے 2017ء تک کے 52سال انہوں نے پشاور میں بسر کئے۔ اردو‘ پشتو‘ ہندکو اور پنجابی روانی سے بولنے والے حبیب الرحمن وضع دار شخصیت تھے۔ 1971ء میں جب این پی ٹی کے فیصلے کے تحت مشرق پشاور کا آغاز ہوا تو وہ دوستوں کے مشورے پر مشرق سے منسلک ہوگئے۔ اخباری دنیا میں انہوں نے اپنے لئے نیوز کا شعبہ منتخب کیا بلا شبہ وہ با کمال نیوز ایڈیٹر تھے۔ نیوز ایڈیٹر ہوتے ہوئے بھی وہ اخبار کے دیگر شعبوں خصوصاً ادارتی پالیسی اور میگز ین سیکشن کے مزاج کو سمجھتے تھے۔ مشرق میں ہی وہ نیوز ایڈیٹر سے چیف نیو ز ایڈیٹر بنے۔ مشرق کے عہد نو کے مرحلہ میں انہوں نے آغا جی سید تاج میر شاہ مرحوم کی مشاورت سے اسے ایک جدید اخبار بنانے کے لئے دن رات محنت کی۔ مشرق کے علاوہ وہ پشاور کے دو دوسرے اخبارات میدان اور آج کے ساتھ بھی منسلک ہوئے اپنے سانحہ ارتحال کے وقت بھی آج سے منسلک تھے۔ دوستوں کے دوست سیکھنے کا جذبہ رکھنے والے نوجوان صحافیوں کے لئے درسگاہ کا درجہ رکھنے والے حبیب الرحمن صاحب محفل دوستاں کے پرجوش ساتھی ہواکرتے تھے۔ زندگی کے مختلف ادوار کی اونچ نیچ اور امتحانات سے گزرتے انہوں نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ لاریب وہ انسانی اقدار پر یقین رکھنے والے نجیب انسان تھے۔ ان کے صاحبزادے طب کے شعبہ سے اور صاحبزادی عدلیہ سے وابستہ ہیں سوموار کو جب ایک دوست نے ان کے سانحہ ارتحال کی خبر دی ، تو پچھلی اڑھائی دہائیوں پر پھیلے تعلق خاطر کی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ بہت محبت کرنے والے دوست تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور خاندان کے ساتھ ان کے دوستوں اور شاگردوں کے وسیع حلقہ کو صبر جمیل عطاء کرے ۔ ان کی وفات سے خیبر پختونخوا کے صحافتی دور کا ایک ایسا باب بند ہوگیا جو نصف صدی کے حالات وواقعات کا امین تھا ۔ برادرم ارشاد اور عزیز احمد چترالی سے انہیں خصوصی لگائو تھا ۔ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ اس دنیا سرائے میں ہمیشہ کس کو رہنا ہے ۔

اداریہ