Daily Mashriq


کاغذ کے پھول سرپہ سجا کر چلی حیات

کاغذ کے پھول سرپہ سجا کر چلی حیات

سموگ کا زیادہ تر زور تو پنجاب اور کچھ نہ کچھ سندھ کے بعض علاقوں تک محدود تھا تاہم گزشتہ تین چار روز سے صبح کے وقت پشاور تک دھند کی چادر تنی ہوئی دیکھی جا سکتی تھی ، اتوار کے روزسے موسمیات والے پاکستان میں بارشوں کے سلسلے کی پیشگوئی کے ساتھ عوام کو اطلاعات فراہم کر رہے تھے کہ بارشوں سے سموگ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا ، اور پھر پیر کے روز بالآخر ہوائوں کے اس سلسلے نے پاکستان کارخ کرتے ہوئے پنجاب کے کئی شہروں میں بارش برسانے میں مدد کر ہی لی ، جس کے اثرات رات تک پشاور بھی یوں پہنچے کہ ہوا میں خنکی کا اثر بڑھنے لگا ، پھر منگل کی صبح سورج نے بظاہر تو دھند میں پناہ لے لی تھی جبکہ خنکی کے اثرات بھی محسوس کئے جانے لگے ۔ اور پھر سہ پہر کو پشاور میں بھی پہلے تو ہلکی بوند اباندی شروع ہوئی جبکہ شام ہوتے ہوتے بادلوں نے مہربان ہو کر تیز بارش کا روپ دھا ر لیا اور آہستہ آہستہ وقفے وقفے سے موسلادھا ر بارش نے شہر اور مضافات میں جل تھل مچادی۔ یوں وہ جو گزشتہ چند روز سے نزلہ ، زکام وغیرہ کی شکایات جنم لینے لگی تھیں ان کا ازالہ اب یقینا ہو جائے گا اور سچ تو یہی ہے کہ جب انسانوں کی مشکلات حد سے بڑھ جاتی ہیں تو یہ رب کائنات ہی ہے جو اپنے بندوں کی فریاد سنتا ہے اور اپنی رحمت کے سائے پھیلا کر ان کی مشکلات ختم کر دیتا ہے ۔ کیونکہ جب فریاد عرش سے ٹکراتی ہے تو وہاں بھی سر گوشیاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میں خوش ہوتا ہوں تو وقت پر بارشیں برساتا ہوں اور جب اپنے بندوں کی نافرمانی سے ناراض ہوتا ہوں تو بے وقت بارشوں سے اپنی ناراضی کا اظہار کرتا ہوں ، اب ہمیں اپنا جائزہ لیکر دیکھنا چاہیئے کہ ہم بہ حیثیت قوم کہا ں کھڑے ہیں ، کیا ہم نے اپنی حرکتوں سے اللہ جل شانہ کی نافرمانی تو نہیں کی ، گزشتہ کئی سال سے ہمارے ہاں بارشوں کا سلسلہ ہمارے مجموعی کردار کی آسانی سے نشاندہی کر سکتا ہے ۔ اس حوالے سے ایک اور بات پر بھی ہمیں غور کرنا پڑے گا اور تھوڑی دیر کیلئے اپنے قومی کردار کاجائزہ لیکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ وہ قوموں پر ویسے ہی حکمران مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اس قوم کا کردار ہوتا ہے ، یوں ہمیں سوچنا چاہیئے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان پر کس قسم کے حکمران مسلط کئے جاتے رہے ہیں ! تو آج ہم قوموں کی صفوں میں جس مقام پر ہیں اور ہمیں جس قسم کے مسائل کا سامنا ہے ، ہم ترقی کے بجائے روز بہ روز ناکامیوں سے جس طرح دوچار ہوتے جارہے ہیں ، اور نوبت بہ ایں جار سید کہ اب ہماری سلامتی کے حوالے سے سوال اٹھ رہے ہیں ، کہیں اس میں کود ہمارے اپنے قومی کردار کو تو دخل نہیں ؟ برسر زمین حقائق سے کوئی کتنی بھی آنکھیں موند لے مگر کانوں میں پڑتی آواز وں سے جان کیسے چھڑائی جا سکتی ہے جو اس بات کا احساس دلا رہی ہیں کہ موجودہ سیاسی تناظر میں بہ مشکل ہی گنتی کے چند سیاسی رہنماء ہوں گے جو حقیقتاً ملک و قوم کا درد دل میں رکھتے ہیں ۔ وگرنہ اکثریت ایسے افراد کی ہے جو صرف اور صرف ذاتی مفادات کو مد نظر اور مطمح نظر رکھتے ہوئے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں ۔ کرپشن اور لوٹ مار سے ملکی معیشت کو برباد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی ۔ آج جب ہم اعلیٰ عدالتوں میں فیصلہ شدہ یا پھر زیر سماعت اہم ترین کیسوں پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ لگ بھگ چالیس پینتالیس سال سے ملکی خزانے کو دو نوں ہاتھوں اور نہایت بے دردی سے لوٹا گیا۔ دعوے تو یہاں تک سامنے آئے ہیں کہ غیر ملکی کرنسی لانچوں کے ذریعے پہلے خلیجی ممالک اور پھر وہاں سے مغربی ممالک کے بنکوں وغیرہ میں منتقل کی جاتی رہی ہے اور ملک کو قرضوں کے ذریعے چلانے کی پالیسیاں اختیار کر کے اس قدر مقروض کردیا گیا کہ ماہرین اقتصادیات و معاشیات نے صورتحال کی سنگینی کے الارم بجا نے شروع کر دیئے ، ان کے مطابق اقتصادی اعشاریئے اس قدر خطرناک موڑ پر پہنچ رہے ہیں کہ غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے قرضوں کی قسط کی ادائیگی میں شدید دشواریاں پیش آنے کے خدشات ہیں ، اور ایک بار پھر ہمیں عالمی مالیاتی اداروں کے آگے جھولی پھیلاکر مزید قرضے حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا جو ظاہر ہے (خدا نہ کرے ) قومی حمیت پر سمجھوتوں سے مشروط ہو سکتے ہیں کیونکہ کسی بھکاری کو خیرات کے چند سکے جھولی میں ڈالتے ہوئے بعض اوقات غیرت وحمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ، صورتحال کی سنگینی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر ہم اب بھی ہوش میں نہ آئے اور آئندہ آنے والے انتخابات میں حب وطن سے سر شار جماعتوں اور امید واروں کو آگے نہ لائے تو پھر اس ملک کا خداہی حافظ ہے ، بد قسمتی مگر ہماری یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت اس وصف سے خالی ہے جس کے متقاضی اس ملک کے معروضی حالات ہیں ، اپنے ارد گرد نظر دوڑایئے تو آنے والے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی حاصل کرنے کیلئے مختلف سیاسی جماعتیں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہی ہیں جنہوں نے ماضی میں بھی ذاتی مفادات کی سیاست کو وتیرہ بنائے رکھا ۔ اگر ہم نے ان مفاد پرستوں سے چھٹکارہ حاصل نہیں کیا تو ہمارا حشر بھی یہی ہوگا کہ 

کاغذ کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات

نکلی برون ، شہر تو بارش نے آلیا

متعلقہ خبریں