فضائی آلودگی کا عفریت

فضائی آلودگی کا عفریت

دسمبر 1952ء میں لندن میں شدید سردی،سردی سے بچائو کے لئے کوئلے کے بے تحاشہ استعمال اوربارشوں اور ہوائوں کی کمی کی وجہ سے آلودگی کے ایک گہرے بادل نے فضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جسے سموگ کا نام دیا گیا تھا۔ اس وقت سموگ میں پائے جانے والی آلودگی کی بڑی وجہ کوئلے کا جلنا تھا کہ گھروں کو گرم رکھنے اور فیکٹریوںکو چلانے کے لئے جلایا جاتا تھا۔پانچ دن کے بعد جب سموگ ختم ہوئی تواس کی وجہ سے لندن میں مرنے والوں کی تعداد سرکاری ذرائع کے مطابق 4,000بتائی گئی تھی لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اس وقت لند ن میں مرنے والوں کی اصل تعداد 12,000 تھی۔ ان اموات کی بڑی وجہ سانس کی بیماریاںتھیں جس سے بچے اور بوڑھے سب سے زیادہ متاثرہوئے تھے۔ ماحول میں پائی جانے والی آلودگی اور سموگ کی وجہ سے حدِ نظر بھی انتہائی کم ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کی ایک نوجوان اسسٹنٹ بس حادثے میں ہلاک ہوگئی تھی۔اس صورتحال کے بعد ونسٹن چرچل نے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اپنی مشہور تقریر کی تھی جس کے بعد ’سٹی آف لندن ایکٹ 1954ء ‘ اور ’ کلین ایئر ایکٹ 1956ئ‘ جیسے قوانین بنائے گئے تھے۔ لاہور اور اس کے قریبی شہر بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں اور سموگ اس وقت پورے ملک میں اپنے پنجے گاڑھتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں خصوصاً اور پورے ملک میں عموماً حادثوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ہسپتالوں میںسینے اور آنکھ کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا رش لگا ہوا ہے۔ ہم سب کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ انسانوں کا پیدا کردہ عذاب ہے۔ اس وقت لاہور کا شمار ایشیاء کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں کیا جارہا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بناء پر ہمیں ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اوراس کے حل کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے لگائے جانے والے حالیہ اندازوں کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال 5.5 ملین سے لے کر 7 ملین افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ فضائی آلودگی سے ہلاک ہونے والے افراد کی یہ تعداد پوری دنیا میں ملیریا اور ایڈز سے ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ فضائی آلودگی سے دل کی بیماریاں، سٹروک، پھیپھڑوں کا کینسر، برونکائٹس، دمہ اور الرجی جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ پوری دنیا میں ہرسال مرنے والے افراد میں سے 7 فیصد فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ پورے دنیا میں مرنے والے تقریباً 7 ملین افراد میں سے1.4 ملین کا تعلق چین سے ہے جس کے بعد بھارت کا نمبرہے جہاں فضائی آلودگی سے مرنے والوں کی تعداد 645,000 سالانہ ہے۔ اس کی وجہ چین اور بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتیں اور ان ممالک کا کوئلے پر انحصار ہے۔اس فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جہاں ہر سال فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 111,000ہے اور کراچی دنیا کا پانچواں بڑا آلودہ شہر ہے۔ پاکستان کے بارے میں شائع ہونے والی ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 80,000 لوگ ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں، 8,000 افراد پھیپھڑوں کے ورم کا شکار ہوتے ہیں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 50لاکھ بچے سانس کی نالی کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔پاکستان کا فرسودہ نظامِ صحت فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی ان بیماریوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ہر سال فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے اخراجات تقریباً 500 ملین ڈالر ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے شہروں کی آبادی میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ماحولیاتی آلودگی اور خصوصاً فضائی آلودگی کاسبب بن رہا ہے۔لاہور شہر کی فضاء مٹی دھول اور کاربن کے ذرات سے اٹی پڑی ہے اور لاہور میں پیدا ہونے والی حالیہ سموگ بین الاقوامی پیمانے سے بھی بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے لاہور شہر کو رہنے کے قابل شہروں میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔اگر یہ صورتحال دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں پیدا ہوتی تو وہاں پر ایمرجنسی نافذ کرکے اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے قانون سازی کی جاتی اور ان قوانین کے عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جاتا۔ اس وقت پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلقہ اداروں کی خاموشی سے مستقبل میں اس مسئلے کی سنگینی میںاضافے کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے سب سے اہم یہ بات سمجھنی ہے کہ اگر ایک دفعہ فضاء میںکوئی خطرناک چیز شامل ہوجائے تو اس کو ختم کرنا یا ری۔سائیکل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔اگرچہ ہمارے ملک میں بھی فضائی اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے قوانین موجود ہیں لیکن ان قوانین پر عمل درآمد کروانے کی حکومتی خواہش دور دور تک نظر نہیں آرہی۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سموگ پر قابو پانے کے لئے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ خوش آئند ضرور ہے لیکن صوبائی ماحولیاتی ادارے کی جانب سے سموگ پر قابو پانے کے لئے اقدامات کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ جہاں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں وہیں پبلک ہیلتھ سسٹم میں بہتری لانا بھی وقت کی اشد ضرورت ہے۔

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ