مشرقیات

مشرقیات

ابو یعقوب اقطع بصری کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حرم شریف میں دس دن تک بھوکا رہا۔ مسلسل بھوکا رہنے کی وجہ سے لاغر ہوگیا۔ خیال آیا کہ مجھے باہر نکلنا چاہئے۔ چنانچہ یہ سوچ کر آبادی سے نکلا کہ شاید کوئی ایسی چیز مل جائے جس سے یہ کمزوری دور ہوسکے۔ میں نے ویرانے میں ایک شلجم پڑا ہوا دیکھا۔ اسے اٹھا لیا لیکن دل میں عجیب سی وحشت ہوئی اور ایسا لگا کہ کوئی کہہ رہا ہو تو دس دن سے بھوکا رہا اور اب اس بھوک کو سڑے ہوئے شلجم سے مٹانا چاہتا ہے؟ میں نے وہ شلجم وہیں پھینک دیا اور حرم شریف میں آکر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بعد ایک عجمی شخص نظر آیا جس کے ہاتھوں میں خوان پوش تھا۔ وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہا یہ آپ کے لئے ہے۔ میں نے پوچھا:آپ نے میری تخصیص کیوں کی؟ اس نے کہا ہم دس روز سے سمندر میں سفر کر رہے تھے‘ ہماری کشتی طوفان کی زد میں آگئی۔ میں نے رب تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر بسلامت ساحل پر پہنچ گیا تو یہ چیزیں حرم شریف کے مجاورین میں سے اس شخص کی نذر کروں گا جو مجھے سب سے پہلے نظر آئے گا اور آپ ہی پر سب سے پہلے نظر پڑی۔ جو خوان اس نے مجھے دیا اس میں مصری حلوہ‘ چھلے ہوئے بادام اور برفی کے ٹکڑے تھے۔ اس سے تھوڑا تھوڑا میں نے لیا اور اس سے کہا کہ میں نے تمہارا صدقہ قبول کرلیا ہے‘ لے جائو۔ بقیہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردو۔ اس کے جانے کے بعد میں نے دل میں سوچا کہ تیرا رزق تو دس منزل کی دوری سے تیرے پاس آرہا تھا اور تو اسے ویرانے میں تلاش کر رہا تھا؟ (ریاض الجنتہ)
حضرت لقمان علیہ السلام کسی سردار کے یہاں ملازم تھے۔ آپؑ کے اعلیٰ اخلاق و کردار کی وجہ سے آپ کا سردار آپ سے محبت کرنے لگا۔ وہ اس وقت تک نہ کھاتا جب تک پہلے حضرت لقمان نہ کھا لیتے۔ ایک دن سردار کے پاس خربوزہ آیا۔ سردار نے حضرت لقمانؑ کو بلوا کر خود کاٹ کاٹ کر انہیں قاشیں دینے لگا اور بڑی محبت بھری ادا کے ساتھ حضرت کو کھاتا دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔ حضرت لقمانؑ بھی مسکرا کر اس کی محبت کا جواب دے رہے تھے۔ ایک قاش باقی رہ گئی تو سردار نے کہا: اجازت ہو یہ میں کھالوں؟ آپؑ نے اجازت دے دی۔ اس نے وہ قاش منہ میں رکھی‘ وہ اتنی کڑوی تھی کہ سردار کے منہ میں چھالے پڑ گئے اور وہ نازک طبع بے ہوش ہوگیا۔ جب افاقہ ہوا تو عرض کی: اے میرے محبوب! آپ نے اس کی کڑواہٹ کس طرح برداشت کی؟حضرت نے فرمایا:میرے آقا! آپ کے ہاتھ سے ہزاروں نعمتیں کھائی ہیں جن کے شکر سے میری کمر جھک گئی ہے اسی ہاتھ سے آج اگر کڑوی چیز مل رہی ہے تو میں منہ کیوں پھیر دوں؟
اسی طرح ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ لاکھوں نعمتیں ہمیں روز مل رہی ہیں۔ اگر ذرا تکلیف آجائے ہم فوراً نا شکرے بن جاتے ہیں۔ رب تعالیٰ کے انعامات کو بھول جاتے ہیں۔ حق تعالیٰ حکیم بھی ہے حاکم بھی اور حکیم مرض کے موافق ہی دوا دیتا ہے۔دونوں حالتوں میں فائدہ مریض ہی کا ہوتا ہے۔

اداریہ