Daily Mashriq

بی آر ٹی‘ مدت تکمیل میں توسیع

بی آر ٹی‘ مدت تکمیل میں توسیع

قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے پشاور بس ریپڈ منصوبے کی لاگت 66ارب 43کروڑ 7لاکھ روپے کی منظوری دیتے ہوئے اس کی مدت تکمیل جون 2019ء تک بڑھا دی ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کی صدارت میں گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں دیگر منصوبوں سکی کناری‘ کوہالہ اور محل ہائیڈرو پاور سے بجلی کے حصول کی بھی منظوری دے دی ہے جبکہ اجلاس میں سندھ سولرانرجی پراجیکٹ کا جائزہ لیتے ہوئے 12ارب 84کروڑ 81لاکھ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے منصوبے کی منظوری بھی دی گئی جبکہ 4ارب 5کروڑ کی لاگت سے درگئی ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کی بحالی کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی آر ٹی منصوبہ پشاور صوبے میں اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ ہے جس سے پشاور کی ترقی ممکن ہوسکے گی۔ یہ منصوبہ پشاور کی تمام ٹریفک مسائل کا واحد حل اور خوبصورتی کا ہمہ گیر ماسٹر پلان ثابت ہوگا۔ جہاں تک وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بی آر ٹی کے حوالے سے ظاہر کردہ خیالات کا تعلق ہے ان سے اصولی طور پر تو عدم اتفاق کا کوئی جواز ڈھونڈے سے بھی نہیں مل سکتا کیونکہ جب بھی کسی علاقے کی ترقی اور خوبصورتی کیلئے کوئی منصوبہ پیش کیا جاتا ہے اس کا مقصد نیک ہی ہوتا ہے اور پشاور صوبے کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہونے کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت کا بھی حامل ہے جبکہ اس کی تاریخی اہمیت بھی اپنی جگہ موجود ہے اور اس حوالے سے ہم تاریخ کے اوراق کھنگال کر وقت ضائع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ حقائق خود بولتے ہیں تاہم اس شہر کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ آج تک اس شہر کو وزیراعلیٰ کا منصب کبھی نہیں ملا جبکہ دیگر اضلاع سے منتخب ہونے والے وزراء اعلیٰ نے کبھی اس شہر کو اس کے شایان شان توجہ دینے کی بجائے ہمیشہ اپنے آبائی اضلاع کو ہی اولیت کے درجے پر رکھتے ہوئے فنڈز کا رخ انہی آبائی علاقوں کی جانب پھیرے رکھا اور پشاور مستقل محرومیوں کا شکار رہا۔ ماضی کی ان تلخ یادوں کو کریدنا بھی اس موقع پر ہمارا مقصود نہیں البتہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق اس شہر کو جب بھی کچھ منصوبے دیکر ٹرخانے کی کوشش کی گئی ان کی تعمیر کے حوالے سے بھی یہی دعوے کئے گئے کہ محولہ منصوبوں سے پشاور کے دلدر دور ہو جائیں گے اور یہاں ٹریفک کے مسائل حل ہونے کیساتھ ساتھ اس کی خوبصورتی میں اضافہ بھی ہو جائے گا لیکن جس طرح ماضی میں کئے جانے والے بلند وبانگ دعوے درست ثابت نہیں ہوسکے گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بی آر ٹی منصوبے کی مسلسل توڑ پھوڑ‘ متعدد تبدیلیوں اور اس کی مدت تکمیل میں باربار بدلاؤ کی وجہ سے وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ اب کی بار بھی یہ دعوے واقعی حقیقت کا روپ دھار سکیں گے تاہم امید پر دنیا قائم ہے اسلئے امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور بہتری کے حوالے سے مثبت گمانی ضرور قائم رکھنی چاہئے۔ اس موقع پر ارباب سکندر فلائی اوور‘ اس سے پہلے سورے پل کے قریب ملک سعد فلائی اوور جبکہ ازاں بعد مفتی محمود فلائی اوور کی ناقص منصوبہ بندیوں سے نہ تو شہر کی خوبصورتی میں کوئی اضافہ ہوا نہ ہی اس سے ٹریفک کے مسائل حل ہوئے بلکہ انتہائی معذرت کیساتھ ٹریفک پہلے سے زیادہ سنگین حالات سے دوچار ہے۔ اسلئے ہمیں اگر بی آر ٹی کے حوالے سے کچھ خدشات ہیں تو ان کی وجوہات بھی موجود ہیں۔ دوسرا یہ کہ بی آر ٹی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں جو اعتراضات اٹھا رہی ہیں وہ اس کی لاگت اور اس کا ٹھیکہ دینے کے ضمن میں لاہور منصوبے میں بلیک لسٹ قرار دی جانے والی فرم کی شمولیت کے بارے میں ہیں جن کا آج تک کوئی جواب صوبائی یا اب وفاقی حکومت نے نہیں دیا پھر اس کی مدت تکمیل میں بار بار تبدیلی نے بھی پشاور کے عوام کیلئے مصائب وآلام کے در کھول رکھے ہیں اور اب ایک بار پھر اسے 23مارچ 2019ء سے مزید تین ماہ تک توسیع دیکر عوام کو مزید پریشان کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے جہاں ٹریفک کے سنگین مسائل کو سنگین تر بنا دیا ہے وہاں مسلسل توڑ پھوڑ سے سانس کی مختلف بیماریاں بھی شہر پر حملہ آور ہیں جبکہ خود حکومتی ادارے ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے مرتب کی گئی ایک رپورٹ میں جو ان سطور کی تحریر کے ہنگام اخبارات میں شائع ہوئی ہے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ صوبے میں گزشتہ دس سال سے نزلہ‘ زکام اور کھانسی کی بیماریاں عود آئی ہیں اور یہ وہی عرصہ ہے جب پشاور میں سابقہ سے لیکر موجودہ ادوار میں مختلف منصوبے یا تو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گئے یا اب بھی جاری وساری ہیں۔ اب جبکہ ایک بار پھر بی آر ٹی منصوبے کو مزید تقریباً 8ماہ کا عرصہ دان کر دیا گیا ہے اس دوران ان بیماریوں کے تدارک اور ٹریفک کے مسائل کے علاج کی کیا صورتحال ہوگی۔ ان سوالات پر بھی ضرور غور ہونا چاہئے اور کیا یہ مدت تکمیل واقعی حتمی ہوگی یا اس میں مزید اضافے کی گنجائش بھی کچھ مزید سوالات کو جنم دے گی؟۔

متعلقہ خبریں