Daily Mashriq

بجلی قیمت میں مزید اضافہ

بجلی قیمت میں مزید اضافہ

اکیڈمک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 41پیسے اضافے کی منظوری دے کر عوام پر بجلی کا ایک اور بم گرا دیا ہے۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی اے) کی جانب سے اکتوبر میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 64پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ سی پی اے کی درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اکتوبر میں 9ارب57کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔ بجلی پیداوار پر کل لاگت 52ارب 12کروڑ روپے رہی‘ کوئلے سے 11.65 اور فرنس آئل سے 7.88 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ درخواست میں بتایا گیا کہ گیس سے 20فیصد درآمدی ایل این جی سے 23فیصد بجلی حاصل کی گئی تاہم نیپرا نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست پر 64پیسے کی بجائے بجلی 41پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے سے صارفین پر 3ارب 80کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا تاہم بجلی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک پر نہیں ہوگا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے تیل‘ گیس اور بجلی کے نرخوں میں بار بار اضافہ کرکے عوام پر مہنگائی مسلط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے حالانکہ اقتدار میں آنے سے پہلے اپنے انتخابی جلسوں اور ریلیوں‘ پریس کانفرنسوں یہاں تک کہ اسلام آباد کے دھرنوں میں اس وقت کی لیگی حکومت کو اسی حوالے سے آڑے ہاتھوں لیتی رہی ہے کہ وہ عوام پر مہنگائی مسلط کر رہی ہے۔ عوام ابتداء میں تو باوجود پریشانی کے یہ سب کچھ بہ امر مجبوری برداشت کرنے پر آمادہ ہوئے حالانکہ قوت خرید اب اس قابل نہیں رہی ہے تاہم اس دوران حکومت نے آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی کا جو ہوا کھڑا کرکے عوام کو ڈراوا دیا تھا وہ صورتحال بھی خود حکومت ہی کے دعوؤں کے طفیل سعودی عرب اور چین سے ممکنہ امداد ملنے کے باوصف تبدیل ہوچکی ہے جبکہ عالمی سطح پر پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ اسی لئے تو اپوزیشن بھی چیخ رہی ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود ہمارے ہاں تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں جبکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا جواز بھی نہیں ہے۔ اسلئے چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے کر عوام کی داد رسی فرمائیں۔

رہائشی علاقوں میں کمرشل عمارتیں

پشاور ہائی کورٹ نے حیات آباد کے رہائشی علاقوں میں کمرشل عمارتوں کی تعمیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی اے حکام کے حیات آباد ماسٹر پلان پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ جسٹس قیصر رشید نے کہا ہے کہ پی ڈی اے حکام کو حیات آباد کے رہائشی علاقوں میں بڑی بڑی کمرشل عمارتیں نظر نہیں آتیں اور اس پر انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جبکہ چھوٹے چھوٹے گھروں کو سربمہر کرکے ان پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ زرغونی مسجد کے قریب بلند وبالا کمرشل عمارتیں اور نجی تعلیمی ادارے ان کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ یہاں تک کہ قبرستان کی اراضی بھی سیاسی اور کمرشل مقاصد کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ جہاں تک رہائشی علاقوں کو کمرشل ایریاز میں تبدیل کرنے کے اقدامات کا تعلق ہے تو یہ سلسلہ صرف حیات آباد تک ہی موقوف نہیں ہے‘ حیات آباد میں تو کمرشل سرگرمیوں کیلئے خود پی ڈی اے پلان کے تحت مختلف سیکٹرز میں کمرشل ایریاز پہلے ہی سے مختص کئے گئے ہیں تاہم بڑھتی ہوئی آبادی کے طفیل اب یہ کمرشل ایریاز کم پڑتے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے شاید پرائیویٹ سطح پر کمرشل پلازوں کی تعمیر کی اجازت دے کر صورتحال کو کنٹرول سے باہر کیا گیا ہے جس کا واحد علاج یہی ہے کہ جو مارکیٹیں خود پی ڈی اے نے تعمیر کرائی ہیں ان کو توسیع دیکر وہاں پلازے قائم کرکے کمرشل سرگرمیوں کو مربوط کیا جائے البتہ اس موقع پر ہم جناب جسٹس قیصر رشید کی توجہ اندرون شہر خصوصاً گلبہار میں کھمبیوں کی طرح اُگنے والے کمرشل پلازوں کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں جو بنیادی طور پر رہائشی علاقہ ہے مگر اب پرانی رہائشی عمارتوں کو راتوں رات گرا کر متعلقہ حکام کی ملی بھگت سے تین سے پانچ منزلہ پلازوں میں ڈھالا جا رہا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں ایک بدنظمی کی صورتحال نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔ مین گلبہار روڈ کے علاوہ گل محمد خان روڈ (عشرت سینما روڈ) پر آج کل کمرشل پلازوں کا ایک جنگل اُگایا جا رہا ہے جس نے عوام کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ دن کے اوقات میں شہر بھر (بشمول گلبہار میں قائم) کے سکولوں کی بسوں‘ ویگنوں کی وجہ سے جو رش رہتی ہے اس کیساتھ ساتھ خود ساختہ شادی ہالوں کی وجہ سے دن رات ٹریفک جام معمول بن چکا ہے اس لئے محترم جسٹس سے گزارش ہے کہ وہ اس عوامی مسئلے پر بھی توجہ دیں اور اس حوالے سے متعلقہ حکام سے باز پرس کرکے عوام کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں مدد گار ہوں۔

متعلقہ خبریں