Daily Mashriq


میگا کرپشن اور اس کی روک تھام

میگا کرپشن اور اس کی روک تھام

سابق وزیراعظم نوازشریف پر کرپشن کے الزامات کے تحت قائم مقدمہ ایک عرصے سے جاری ہے‘ اس مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے جو آخری مہلت دی تھی وہ ختم ہونے والی ہے اور خبر ہے کہ اس میں مزید توسیع لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر کیخلاف ایسا ہی مقدمہ چل رہا ہے جس میں عدالت نے آئندہ سماعت کیلئے 6دسمبر کی تاریخ دی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مقدمہ کی سماعت کے دن ایف آئی اے کے حکام تاخیر سے عدالت پہنچے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ پانامہ دستاویزات کے انکشاف کو ایک عرصہ گزر چکا ہے اس حوالے سے میاں نوازشریف پر تو مقدمہ چلا لیکن پانامہ پیپرز میں تو 400 سے زائد افراد کا ذکر تھا ان کے بارے میں مقدمات چلتے نظر نہیں آرہے۔ پچھلے دنوں کہا گیا کہ ان میں سے 200 سے زیادہ افراد کیخلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں لیکن یہ کارروائی کہاں تک پہنچی اور باقی لوگوں کیخلاف کارروائی کب شروع ہوگی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ حال ہی میں ایسے نادار اور کم وسیلہ لوگوں کے بنک اکاؤنٹس کی خبریں سامنے آئیں جنہیں اپنے اکاؤنٹس کے بارے خبر نہ تھی۔ ان کے بنک اکاؤنٹس میں لاکھوں‘ کروڑوں روپے کا لین دین ہوا۔ تحقیقات آگے بڑھیں تو وزیراعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر نے بتایا کہ پاکستانیوں کے پانچ ہزار کے قریب اکاؤنٹس سے تقریباً 5ارب ڈالر سے زائد کی رقوم بیرون ملک منتقل ہوئیں۔ یہ وضاحت نہیںہوئی کہ ان میں سے کتنی رقوم غیرقانونی طور پر منتقل ہوئیں اور کتنی قانونی تقاضے پورے کر کے منتقل کی گئیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم کے کم وبیش 700ارکان کو ایف آئی اے نے نوٹسز جاری کئے ہیں جن سے ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بارے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ وفاقی وزراء بیرسٹر فروغ نسیم اور خالد مقبول صدیقی ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اور ایم کیو ایم کے کئی سابق لیڈروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں۔ زمینوں پر ناجائز قبضہ کے مقدمات بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبرکہہ رہے ہیں کہ جن پانچ ہزار کے قریب اکاؤنٹس سے پونے چھ ارب ڈالر کے قریب رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے شواہد آئے ہیں یہ تو سمندر میں تیرنے والے برفانی تودے کا محض ایک کونہ ہے۔ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں اور یہ نہیں کہا جا سکتا اس میں مزید کتنے لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو چند ماہ پہلے بین الاقوامی تنظیم برائے اقتصادی تعاون وترقی کی رکنیت حاصل ہو چکی ہے جس کے ممالک منی لانڈرنگ کی معلومات ایک دوسرے کو بتانے کے معاہدے کے پابند ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے بنک اپنے کھاتہ داروں کی معلومات فراہم نہیں کرتے اور ساری دنیا سے کالی دولت ان بنکوں میں رکھی جاتی ہے لیکن اب سوئٹزرلینڈ کے بنک منی لانڈرنگ کے حوالے سے معلومات کی شراکت کرنے کیلئے تیار ہو چکے ہیں اور یہ تاثر بھی ہے کہ بعض پاکستانی مشاہیر کے بنک اکاؤنٹس بھی سوئٹزرلینڈ میں ہیں۔ الغرض پاکستان میں ایک طرف بڑے بڑے مالیاتی سکینڈلز افشا ہو رہے ہیں دوسری طرف مالیاتی غلط کاریوں کے حوالے سے بھی خبریں آرہی ہیں۔ کئی ماہ ہوئے ہیں مالیاتی سکینڈلز تو بے نقاب ہو چکے ہیں لیکن ان کے حوالے سے مقدمات کے فیصلے نہیں ہو رہے۔ قوم کی نظریں پی ٹی آئی کی حکومت‘ تحقیقاتی اداروں اور خاص طور پر قومی احتساب بیورو (نیب) پر لگی ہوئی ہیں۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ اسے اقتدار تب ملا جب ملک مالیاتی بحران کی جکڑ بند میں تھا۔ عوام کی توقعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جنہوں نے اپنی سیاسی مہم کرپشن کے خاتمے کے وعدے پر چلائی اب جب انہیں حکومت مل گئی تو اب وہ نہ صرف کرپشن ختم کریں گے بلکہ کرپشن کے ذریعے بنائی گئی دولت بھی قومی خزانے میں لائیں گے۔ اس کی راہ مشکل اور طویل ہے۔ پہلے مرحلے میں تحقیقات کے ذریعے کرپشن کا پتہ لگانا پھر اس کا ثبوت حاصل کرنا پھر مقدمہ دائر کر کے عدالتوں سے کرپشن کیخلاف فیصلے حاصل کرنا اور اس کے بعد ان ممالک کی عدالتوں اور اداروں سے وہ رقوم حاصل کرنا جہاں کرپشن کی رقوم رکھی گئی ہیں یا اثاثے قائم کئے گئے ہیں۔ اس دوران ملک کی دگرگوں معاشی صورتحال کے باعث عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن لوگوں کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں یا جن پر مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں ان کے حامی کہہ رہے ہیں کہ دیگر ایسے لوگوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے جن کیخلاف مقدمات قائم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک صوبے میں کرپشن کیخلاف مہم تیز ہے جبکہ دوسرے میں سست۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایسے ریمارکس سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ نیب یا تو سب کو پکڑے یا سب کو چھوڑ دے۔ یہاں وزیراعظم عمران خان کی تقریروں میں ایسے اشارے ملتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں سفید کالر جرائم پر قابو پانے کیلئے تربیت یافتہ اہلکاروںکی کمی ہے‘ قابل غور ہیں۔ کیا نیب سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پانامہ پیپرز کے 400 سے زیادہ اور شہزاد اکبر کی ٹیم کے دریافت کئے ہوئے 5ہزار افراد کی تحقیقات مکمل کر سکتا ہے؟ اور ایسے شواہد فراہم کر سکتا ہے جن کی بنیاد پر وہ مقدمات جیت سکے جبکہ ابھی یہ بھی پتہ نہیں کہ اور کتنے لوگ ایسے ہی جرائم میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں چند باتیں قابل غور ہونی چاہئیں مثلاً کرپشن کی تحقیقات کے دوران ایسے واقعات کا ذکر میڈیا میں نہیں آنا چاہئے کیونکہ اس سے عوام کی کارروائی کی توقعات میں اضافہ ہوتا ہے البتہ جب عدالتوں میں ریفرنس دائر ہو جائیں تو میڈیا کا کام ہے کہ ان کی کوریج کرے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں