Daily Mashriq

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

ویرانے کو گلزار بنا دیتی ہے، سر کے دشمن کو بھی دلدار بنا دیتی ہے، محبت فاتح عالم ہے، محبت کے دم سے یہ دنیا حسیں ہے، محبت نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے، اگر رب کن فیکون کی اس سجیلی دنیا میں محبت نہ ہوتی تو خاکم بدہن بھسم ہوکر رہ جاتی یہ دنیا نفرتوں اور کدورتوں کی آگ میں۔ پیار اور محبت کے دم قدم سے آباد ہے یہ دنیائے آب گل اور اس پر بکھرے رنگ ونور کے بہشت آفریں نظارے۔

ایک محبت کافی ہے

باقی عمر اضافی ہے

بابا آدمؑ اماں حواؑ کی محبت میں شجر ممنوعہ کا پھل کھا گیا اور یوں اسے قربان کرنی پڑی وہ جنت جو ان کا ٹھکانہ تھا اور قبول کرنی پڑی یہ دنیا جو انہیں جرم محبت کی پاداش میں نصیب ہوئی۔ یہ الگ بات کہ اس دنیا میں آنے کے بعد، جانے کتنے ہابیل اور قابیل آئے جو محبتوں کی تلاش میں نفرتوں اور کدورتوں کی کھیتیاں اُگاتے رہے۔

نفرت بھی اسی سے ہے پرستش بھی اسی کی

اس دل سا کوئی ہم نے تو کافر نہیں دیکھا

کہتے ہیں نوع انسانی کی پہلی لڑائی جو ہابیل وقابیل کے درمیان شروع ہو کر بھائی کے بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے کے انجام کو پہنچی اس کا مرکزی کردار ایک لڑکی ہی تھی اور اس لڑکی پر مر مٹنے والے آپس میں یوں دست وگریبان ہوئے کہ رہتی دنیا تک نشان عبرت بن کر یاد کئے جاتے رہے۔ ہابیل وقابیل کے اس جان لیوا معرکے کے بعد کتنے ہابیلوں اور قابیلوں کے درمیان زن، زر اور زمین محبتوں کو نفرتوں میں بدلنے کا باعث بنیں۔ اقوام عالم نے آج نومبر کے مہینے کی سولہ تاریخ کا دن ایسے ہی لوگوں کے نام منسوب کر رکھا ہے جن کو وہ بزعم خود برداشت اور رواداری کا درس دینا چاہتے ہیں۔

فلسفے سارے کتابوں میں اُلجھ کر رہ گئے

درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی

جو لوگ محبتوں کو نفرتوں اور کدورتوں میں بدلنے میں دیر نہیں لگاتے، جو اپنے گھر کو محض اسلئے جلا دیتے ہیں کہ اس طرح ان کے ہمسائے کا گھر بھی جل کر راکھ ہو جائے گا، دوسروں کی راہ میں کنویں کھودنے والے خود ہی ان کنوؤں میں گرتے ہیں لیکن ان کو اس بات کا شعور نہیں ہوتا جب ہی گزرتے وقت کی زبان ایسے لوگوں کو ناعاقبت اندیش کے لفظوں سے یاد کرتی ہے۔ آج عالمی سطح پر اس دن کو منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 16نومبر1996ء کو دی تھی اور یہ دن پہلی مرتبہ 2005ء میں منایا گیا تھا لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں ماہ مقدس ربیع الاول کی قسم کھا کر عرض کرنا چاہوں گا کہ امن وسکون اور برداشت ورواداری کا درس ہمیں آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی ودیعت ہو گیا تھا۔ تعلیمات دین اسلامی میں محسن انسانیت آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ نے انسانیت کو جس دین سے وابستہ ہونے کی دعوت دی اس کا مرکزی خیال ہی برداشت اور رواداری ہے۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے، اسلامی تصوف کے مدارج طے کرنے والے بتاتے ہیں کہ کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں بن سکتا جب تک اس میں انسانیت سے پیار کرنے کا جذبہ موجزن نہ ہو۔ انسانیت سے محبت، برداشت اور رواداری کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہم سب نے محسن انسانیت کے اسوہ حسنہ سے استفادہ کرنا ہے، آپ پیکر صبر وقرار تھے، آپﷺ نے برداشت ورواداری کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ اپنی عملی زندگی میں تکلیفیں دینے والوں کو دعائیں دیتے رہے،

سلام اس پر کہ اسرار محبت جس نے سکھلائے

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

اگر ہم نے سنت نبویؐ کی پیروی کرنی ہے تو ہمیں آقائے نامدارﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگی کیلئے مشعل راہ بنانا ہوگا۔ آپ جس وقت سلامتی امن اور بھائی چارے کے دین کا پیغام لیکر طائف کے میدان میں پہنچے تو کفار نے آپ کے جسد مبارک پر اسقدر پتھر برسائے کہ آپ سر سے پاؤں تلک لہولہان ہوگئے۔ نعوذ باللہ من ذالک آپ پر کچرا پھینکا گیا۔ آپ سجدے کی حالت میں تھے کہ کفار مکہ نے آپؐ کے وجود اطہر پر اوجھڑیاں لاد دیں۔ آپﷺ دنیا والوں کیلئے سلامتی کا پیغام لیکر تشریف لائے تھے جس کیلئے آپ نے ہر ظلم اور جبر کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ اللہ کا پیغام اور نیکی کی تلقین کی راہ میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو قوت برداشت رواداری سے زیر کرتے رہے۔

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

آج 16نومبر کو عالمی یوم برداشت اور رواداری کا مقصد لوگوں کو صبر وتحمل کا درس دینا اور ان کو عدم برداشت کے منفی اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔ آج کے دن انسانی حقوق کی علم بردار تنظیمیں اس موضوع پر تقریبات منعقد کریں گی، لمبی لمبی تقریریں اور مظاہرے ہونگے لیکن کسی کو کشمیر جنت نظیر میں بھڑکتی آگ نظر نہیں آئے گی، انسانی حقوق کے دعویداروں کے کانوں تک فلسطین کے مسلمانوں کی آہ وزاری نہ پہنچ پائے گی، برداشت اور رواداری کا درس دینے والے شام، عراق اور افغانستان کی حالت زار پر دو ٹسوے تک نہ بہا سکیں گے اور ہم ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق کچھ بھی نہ کہہ کر کہتے رہ جائیں گے کہ

پلکوں کی حد کو توڑ کر دامن پہ آگرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

متعلقہ خبریں