Daily Mashriq

قانون کی حکمرانی بقا کی راہ

قانون کی حکمرانی بقا کی راہ

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی سے گریز رہا ہے ۔باقی سب خرابیوں نے اسی ایک خرابی کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔قانون کی حکمرانی سے گریز کی روش نے قانون کا احترام اور خوف پیدا نہیں ہونے دیا۔قانون کی حکمرانی معاشروں کو منظم اور منضبط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔قانون کی حکمرانی اگر قائم بھی ہوئی تو اس کی بنیادمرضی کا قانون اور پسند وناپسندپر مبنی انصاف تھا۔اسے دوسرے لفظوں میں حکمران کا قانون بھی کہا جاتا ہے ۔ہمارے ہاںہر حکمران اپنی پسندکے مطابق قانون کا استعمال کرتا رہا ہے۔قانون کا استعمال اپنی پسند وناپسند کے مطابق اپنے مخالفین کا ناطقہ بند کرنے کے لئے ہوتا رہا۔احتساب کا تعلق بھی قانون کی حکمرانی سے ہے۔حکمرانوں کے یہ رویے اور ان کے محلات میں قائم ہونے والی یہ روایات معاشرے کا عمومی چلن اور رویہ بنتا چلا گیا اور ذرا سا اختیار ومنصب رکھنے والا شخص بھی خود کو معاشرے میں قانون سے بالاتر سمجھنے لگا۔ اس طرح ایک ذہنیت وجود میں آتی اور تیزی سے فروغ پاتی چلی گئی ۔آج بھی بااثر اور باوسیلہ قیدیوں کو جیلوں میں زندگی کی ہر نعمت حاصل ہوتی ہے اور غریب اور بے وسیلہ قیدی داروغے کی ٹھوکروں اور گالیوں کی سولی پر ہمہ وقت لٹکتے رہتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے اشارے پر رکنا اور روکا جانا بھی اس ذہنیت پر گراں گزرتا ہے ۔ملک کی سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی احتساب کی زد میں آئی تو ان کا اعتراض تھا صرف ہم ہی کیوں ؟انہوں نے یہ اعتراض بہت کم مواقع پر کیا کہ ہمارا احتساب کیوں ؟وہ اکثر ہمارا ہی کیوں؟کی بات کرتے رہے ۔اس کی وجہ یہ تھی انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ احتساب کا نقارہ کسی اور کے دروازے کے آگے بھی بج سکتا ہے ماضی کی روایات کے مطابق ان کا یہ مغالطہ اپنے اندر جواز بھی رکھتا تھا ۔ اس کے بعد جب پانامہ لیکس کا پنڈورہ باکس کھلا اور پاکستان میں یہ بین الاقوامی مالیاتی سکینڈل قانونی اور ابلاغی موضوع بنا تو اس وقت سے مسلم لیگ ن کو یہ شکوہ رہا کہ پانامہ لیکس کے تمام کرداروں کو چھوڑ کر صر ف اس وقت کے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کو ہی تختۂ مشق کیوں بنایا جا رہا ہے؟۔کئی اپوزیشن جماعتیں اور آزاد ذرائع ابلاغ بھی یہ سوال جائز اُٹھا رہے تھے کہ پانامہ لیکس میں سامنے آنے والے باقی پاکستانی کرداروں تک قانون کا ہاتھ کب پہنچے گا؟۔یہ بات تو طے تھی اس فہرست میں آنے والے ناموں کی دال میں کچھ نہ کچھ کالا ہے۔اگر یہ دولت جائز اور قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی تب بھی اس کی جانچ ضروری تھی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دولت کن ذرائع سے جمع کی گئی ہے اور اسے بے نامی انداز میں ٹھکانے لگانے کی ضرورت کیا تھی۔ہمہ گیر احتساب ہوئے بغیرجاری احتساب کا عمل کئی شکوک و شبہات کی زد میں تھا۔اب حکومت نے پانامہ لیکس میں شامل 444افراد کے خلاف تحقیقات کا عمل شروع کیا ہے۔وزارت خزانہ کے حکام نے قومی اسمبلی کو بتایاہے کہ چار سو چوالیس افراد میں سے دو سو چورانوے افراد کو نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں۔ڈیڑھ سو افراد کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔بارہ افراد وفات پا چکے ہیںچار پاکستانی شہری نہیں رہے۔دس ارب نوے کروڑ کی کرپشن کے پندرہ مقدمات اہم مرحلے میں ہیںجبکہ چھ ارب بیس کروڑ کی وصولیاں کی جا چکی ہیں۔قومی اسمبلی کو بتایا کہ جلد ہی اپوزیشن کو اندازہ ہوجائے گا کہ پانامہ لیکس کے تمام کرداروں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔حکومت کی طرف سے پانامہ لیکس کے تمام کرداروں کے خلاف کارروائی محض اعلان ہی ثابت ہوتا ہے یا عملی شکل میں سامنے آتا ہے ؟اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا مگر اس اعلان پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر آیا اور قومی دولت کو عالمی تجوریوں میں چھپانے والے تمام کردار قطع نظر اس کے کہ وہ حکومت کے اپنے ہیں یا پرائے کٹہرے میں کھڑے ہوئے تو اس سے موجودہ احتسابی عمل کو ساکھ اور اعتبار ملے گا ۔عوام کو ہی نہیں بیرونی دنیاکے پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہش مندوں کو بھی یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف سنجیدہ کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ حقیقت میں ابھی تک یہ عمل شکوک وشبہات کی زد میں ہے۔اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ تاحال احتساب صرف ایک چند خاندانوں اور ان کے وابستگان تک ہوتا نظر آرہا ہے ۔ پاکستان میں احتساب اور حقیقی اور بے رحم احتساب ایک بڑے طبقے کا خواب رہا ہے ۔مدتیں گزرنے کے باوجود اس خواب کو تعبیر نہیں مل سکی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا دیانت اور انصاف پر یقین رکھنے والے کم ہوتے چلے گئے اوربدعنوانی معاشرے کا عمومی چلن اور رویہ بن کر رہ گیا۔مرضی کے احتساب اور پسند وناپسند کے رویوں نے اس اصطلاح کو ہی بے معنی اور بے وقعت بنا دیا ۔اب ملک میں احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے تواسے پسند وناپسند اور اپنے پرائیوں کے خانوں میں بانٹنے کی بجائے ہمہ گیر اورہمہ جہت ہونا چاہئے۔ اس طرح اپوزیشن کا گلہ بھی دور ہوگا اور حکمرانوں کی صفوں میں بھی کوئی بدعنوان پناہ حاصل نہیں کرپائے گا۔

متعلقہ خبریں