Daily Mashriq


مغرب اور ہم

مغرب اور ہم

مسیح کیس اس وقت مختلف پیچیدہ اور گنجلک پہلوئوں کیساتھ مغربی، سیاسی اور صحافتی حلقوں کیلئے ایک مشکل صورت اختیار کر گیاہے۔عالم اسلام کے مستند صاحبان علم کے درمیان اس موضوع پر بہت بڑا فکری اختلاف تاریخ میں چلتا آیا ہے۔ نبی کریمؐ کے زمانہ مبارک میں جہاں کعب بن اشرف اور ابورافع جیسے یہودیوں کے واقعات موجود ہیں وہاں رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی کے سخت گستاخانہ کلمات بھی ریکارڈ پر ہیں۔ سپین پر مسلمانوں کی حکومت کے دوران گستاخان ناموس رسالت کو موت کی سزائیں بھی ہوئی ہیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سزائے موت کے بجائے قید وبند اور دیگر تعزیری سزائیں دی گئیں۔ برصغیر پاک وہند میں انگریز کے دور حکومت میں جو تین چار اس قسم کے مشہور واقعات ہوئے اور علم دین غازی جیسے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا، علامہ اقبالؒ اور قائداعظم جیسے رہنماؤں کا ان کی تائید وستائش کے بارے میں بعض دانشور اور صاحبان علم یہ توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ اس زمانے میں قانون295-C موجود نہ تھا اور انگریز سے یہ توقع بھی نہ تھی کہ وہ اس قسم کی قانون سازی کرتا لیکن قیام پاکستان کے بعد بہت برسوں بعد جاکر 295-Cکی صورت میں جو قانون ناموس رسالتؐ کے حوالے سے آئین پاکستان کا حصہ بنا، اس پر لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اگرچہ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں قوانین کی کمی نہیں اس پر کماحقہ عمل درآمد کے فقدان کے سبب سیدھے سادھے معاملات معمہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانون ناموس رسالتؐ کے حوالے سے ہمارے لبرل طبقے کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ سلمان تاثیر اسی فکر کے نمائندے کے طور پر سامنے آئے تھے اور اُن کو اس اہم قانون کے حوالے سے اس قسم کی ناپسندیدہ اور عوام کے جذبات کو بھڑکانے والی بات زبان پر نہیں لانی چاہئے تھی اور دوسری طرف ہمارا وہ طبقہ جو قانونی چارہ جوئی کے بجائے قانون کو ہاتھوں میں لینا آسان بھی سمجھتے ہیں اور اس کو اپنی آن وشان بھی بالخصوص مذہبی معاملات کے حوالے سے۔ مغرب میں ہمارے مذہبی طبقات کے بارے میں عمومی تاثر یہی بنا ہے کہ یہ لوگ عقل ومنطق کے بجائے جذبات سے بہت جلد اور بہت زیادہ مغلوب ہوتے ہیں۔ مجھے اُن کی اس بات سے عدم اتفاق تھا لیکن گزشتہ کئی عشروں سے ہماری مذہبی طبقات نے بعض معاملات پر جن جذبات او ردعمل کا اظہار کیا، اس نے مغرب کی بات میں وزن پیدا کیا۔پاکستان میں ناموس رسالتؐ کے حوالے سے اس بات پر اتفاق کل ہے کہ گستاخ رسولؐ کی سزا موت ہے یہ قانون بھی ہے، شریعت بھی ہے اور مسلمان عوام کے جذبات، مطالبات اور اسلامیت کے تقاضے بھی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان جو ایک اسلامی، آزاد اور خودمختارملک ہے، یہاں پارلیمنٹ میں عوام ہی کے منتخب نمائندے تشریف فرما ہو کر ملکی معاملات کو آئین پاکستان کے مطابق چلانے کی جدوجہدکرتے ہیں لہٰذا اجتماعی اور حساس معاملات کو بھی اُن کے اور اعلیٰ عدالتوں اور انتظامیہ کے حوالے کرنا بھی آئین وقانون کا تقاضا اور مطالبہ ہے۔ ملک میں قانون کی رسائی کو ہمہ گیر بننے اور مستحکم ہونے میں وقت لگتا ہے، اگر عوام اپنی حکومتوں پر اعتماد کرنا شروع کریں تو منتخب نمائندوں پر دباؤ بڑھے گا اور وہ پارلیمان میں تو تو، میں میں کرنے کے بجائے ملک وقوم کے حساس معاملات کو حل کرنے اور نئے پیچیدہ معاملات کو سنوارنے کیلئے نئے قانون پر بھی مغز کھپائیں گے لیکن اگر ہم بالخصوص انتہا پسند اور مذہبی جذباتیت سے مغلوب عوام حساس معاملات کو سڑکوں پر لاکر اپنی مرضی کے مطابق حل کروانا چاہیں گے تو پھر ریاست کے اندر ریاست بنے گی اور ہر گروہ اپنا اپنا قانون نافذ کروانے کو اپنا صوابدیدی حق سمجھے گی۔ یوں ایک قانونی، مہذب اور جمہوری ریاست کی جگہ قانون کے نام پر لاقانونیت بلکہ جنگل کا قانون سامنے آئے گا اور پھر جنگل کا قانون تو یہی ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ جبکہ معاشروں اور ریاست کی تشکیل اور آئین کے نفاذ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست کے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے مجھے منظور ہوں گے، ہاں اختلاف کا حق ہر کسی کو حاصل ہے اور اُس کیلئے بھی قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ایک مخصوص مذہبی جماعت کے لوگوں نے ملک کے حساس ترین اداروں کے سربراہوں اور حکومت کے بارے میں اپنے شدید ترین ردعمل کا اظہار کر کے ملک وقوم کو تین چار دن تک ایسے ہیجان میں مبتلا کئے رکھا کہ اربوں کے نقصان کے علاوہ ففتھ جنریشن وار کی آڑ میں دشمنان ملک وملت کے کارندے اتنے سرگرم ہوگئے تھے کہ ملک میں لیبیا اور عراق کی طرز پر خانہ جنگی کی منصوبہ بندیاں کرنے لگے تھے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے معاملات پر ملک بھر کے علماء وشیوخ ومشائخ کے درمیان اتفاق پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں تاکہ ملت کے زعماء کے اندر انتشار نہ ہو، حکومت پاکستان کو چاہئے کہ ملک کیلئے آئین وقانون کے تحت ایک مستند وباوقار مفتی اعظم کا انتخاب کرے اور سارے مکاتب فکر کے اتفاق کیساتھ حساس مذہبی معاملات، رمضان، عیدین اور حج وغیرہ کے انتظامات کرائے۔ آسیہ مسیح کے خاوند نے بیرون ملک پناہ کیلئے شاید درخواستیں وغیرہ دی ہیں۔ ہمارے ہاں باہر جانے کیلئے تو ویسے بھی بہانے تراشے جاتے ہیں لیکن اس قسم کے واقعات سے ہمارے لوگ ناجائز فائدہ بھی اُٹھاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں