Daily Mashriq


ضمنی انتخابات سے جمہوری عمل کی تکمیل

ضمنی انتخابات سے جمہوری عمل کی تکمیل

ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کے بعض امیدواروں کے ہارنے کواگرچہ حکومتی پالیسیوں سے عوام کے نالاں ہونے سے تعبیر کیا جارہا ہے مخالفین کو ایسا کرنے کا پورا حق ہے لیکن ہمارے تئیں ڈیڑھ دوماہ میں تحریک انصاف کی جیتی ہوئی نشستوں کی ہار کو حکومتی پالیسوں سے اختلاف سے تعبیر کرنا ممکن ضرور ہے لیکن یہ واحد وجہ نہیں کہ تحریک انصاف کو بعض نشستوں پر شکست ہوئی۔ ہمارے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ اس سونامی کا تھم جانا ہے جس کی لہریں عام انتخابات میں اتنی طاقتور اور منہ زور تھیں کہ بڑے بڑے پہلوان اڑا لے گئی تھی ۔ اس عنصر کویکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے وہ وعدے پورے نہیں کئے جن کی طرف پیشرفت کی امید تھی یہی وجہ ہے کہ خود تحریک انصاف کے کارکنوں میں اب قول وفعل کے تضادکی سوچ پیدا ہوگئی ہے۔ جذباتی کارکنوں کا جوش برقرار نہ رہنا ان کی لا تعلقی یا پھر بے دلی کا سبب بننا فطری امر ٹھہرتاہے۔ علاوہ ازیں سونامی کی شدت 2018ء کے عام انتخابات سے ٹکرانے اور حصول اقتدار کے بعد اپنے ہی دعوئو ںوعدوںا ور تنقید کے الفاظ کی جکڑ میں اعلیٰ قیادت کے آنے کا تحریک انصاف کے کارکنوں کے مورال پر اثرات مرتب ہونا نا ممکن نہ تھا۔ اگر دیکھا جائے تو ضمنی انتخابات ایک لحاظ سے موروثی انتخابات کی حیثیت میں لڑے گئے۔ ہر سیاسی جماعت جس میں یقیناً تحریک انصاف سب سے نمایاں جماعت ہے اس کے رہنمائوں کے بھائیوں ،بیٹوں اورقرابت داروں کو ٹکٹ جاری کئے گئے جنہوں نے اپنے ہی گھرانوں کی خالی کردہ نشستیں جیت لیں۔ مسلم لیگ(ن) نے بھی تقریباًایسے لوگوں کو کامیاب کرانے کی سعی کی جو ان کے لئے جماعتی طور پر ناگزیرتھے یا پھر دوسرے الفاظ میں ان کی دی ہوئی قربانیوں اور وفاداریوں کا صلہ دیا گیا۔ بہرحال اس عنصر کو معیوب نہیں بلکہ قابل تحسین ہونا چاہیئے لیکن اس کے باوجود بہرحال علاقے کے عوام کو ایسے لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور ضرور کیا گیا جو عوام کیلئے ناگزیرتھے جبکہ اس ضمن میں تحریک انصاف کا فیصلہ اس لئے مبنی برانصاف نہ تھا کہ تحریک انصاف نے اپنے وعدے اور منشور کی خلاف ورزی کی اور جیتنے والوںکے اعزہ کو ٹکٹ جاری کر کے موروثی سیاست کا وتیرہ اپنایا۔ اس کی ایک وجہ ان نشستوں کا دوبارہ بہ آسانی حصول انتخابی مصلحت اور وجہ ضرور ہوگی۔ بہرحال سیاسی جماعتوں کا فیصلہ اپنااپنا اور حکمت عملی اپنی اپنی ہی رہتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکمران جماعت ہونے کے ناتے ضمنی انتخابات ہونے کے ناتے ضمنی انتخابات میں کامیابی کی شرح بڑھ جانی چاہیئے تھی مگر پارٹی قائد اور وزیراعظم کی خالی کردہ نشستوں پر اس کی ہار کسی اچھے تاثرات کا باعث نہیں فی الوقت خواجہ سعد رفیق کی کامیابی متنازعہ ہے جبکہ مردان میں اے این پی کے امید وار کو کامیابی کا پروانہ تھما کر واپس لینے کا عاجلانہ اقدام کیا گیا ہے جس سے الیکشن کمیشن کے عملے کی کارکردگی مشکوک و مبہم فیصلہ یا پھر کسی دبائو میں آنے کا شک ظاہر کرنا خلاف حقیقت امر نہ ہوگا۔ سوات میں سونامی کا تھم جانا اور نشست مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کا اچک لینا بھی وہاں کے تحرک انصاف کے مقامی نمائندوں کے فیصلے اور اقدامات پر سوالیہ نشان ہے ۔ سوات کی نشست اس لئے بھی اہم تھی کہ یہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا آبائی علاقہ اور ضلع ہے جبکہ بنوں میں ایم ایم اے کے امیدوار کی کامیابی غیر متوقع تو نہیں لیکن جس بڑے مارجن سے وہ جیتے ہیں اس نے تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی وہاں سے کامیابی کو بھی مشکوک بنادیا ہے ۔ پشاور سے بھی عام انتخابات میں پی کے 73سے پی ٹی آئی کی کامیابی متوقع تھی ہارون بلور کی شہادت اوردیگر جماعتوں کی حمایت کے بعد ثمر ہارون بلور کا پلڑا بھاری ہونافطری امر تھا۔ ایک اور نشست گورنر شاہ فرمان کی خالی کردہ ہے جس پر ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ اس نشست پر بھی موروثیت کی چھاپ لگائی گئی ہے جہاں سے شاہ فرمان کے بھائی حصہ لیں گے اگر یہ نشست پی ٹی آئی ہار جاتی ہے تو پھر اسے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف پر عوام کے اعتماد میں کمی آنا قرار نہ دینے کی کوئی وجہ نہ ہوگی لیکن بہرحال اس نشست پر کسی اپ سیٹ کاکوئی امکان نظر نہیں آتا۔تحریک انصاف کی قیادت کا ضمنی انتخابات دلچسپی سے نہ لڑنا جہاں ان کیلئے خفت کا باعث امر ہے وہاں ضمنی انتخابات کو شفاف رہنے دینے کا ان کو کریڈٹ نہ دینا درست نہ ہوگا۔ بعض تجزیہ نگاروں کی اس رائے سے بھی یکسر اختلاف ممکن نہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات میں حکمران تحریک انصاف کو توقع تھی کہ وہ اپنے حریفوں کا صفایا کرکے وفاق اور پنجاب اسمبلیوں میں اپنی عددی حیثیت کو بہتر بنالے گی اور حلیفوں کے دبائو سے آزاد ہوجائے گی ، انتخابی نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی مراجعت شروع ہوگئی ہے،ضمنی انتخابات میں موروثی سیاست نے خوب دھوم مچائی ہے۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف اور اس کے حلیفوں نے بہت نام کمایا،لوگوں کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے قیام کے پہلے دو مہینوں میں ہی عوام کو مایوس کرڈالا ہے اسکی جھلک انتخابی نتائج سے ظاہر ہورہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی آشکارہ ہو رہا ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج عام انتخابات سے مماثلت نہیں رکھتے ۔ تحریک انصاف کے لئے لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کو اپنا گڑھ قرار دیتی آئی تھی ضمنی انتخابات میں اس صوبے نے اس سے لا تعلقی جیسا رویہ اختیار کیا ہے ۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو جس انجام سے دو چار ہونا پڑا ہے اس بارے میں پارٹی کی قیادت کو ٹھنڈے دل سے غورو خوض کرنا چاہیے ۔ضمنی انتخابات میں جن دو حلقوں کو متنازعہ بنایا گیا ہے اس سے ضمنی انتخابات کے بھی متنازعہ ہونے اور منفی اثرات کا امکان ہے اس لئے اس حوالے سے احتیاط اور انصاف ہی بہتر راستہ ہوگا۔سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکست اور جیت کا تجزیہ ٹھنڈے دل سے کریں اور ایسی صورتحال سے گریز کریں جن سے تضادات جنم لیں جس سے عوامی مسائل ومشکلات کی متقاضی توجہ بٹ جائے ۔

متعلقہ خبریں