Daily Mashriq


معاشی دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات

معاشی دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات

وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے دیگر ناموں کیخلاف کارروائی کی جائے گی، برطانیہ سے کرپشن کے مقدمات کھلوانے کا معاہدہ ہوچکا ہے اور مقدمات کھلوانے کے لئے برطانیہ سے جلد رجوع کیا جائے گا۔پانامہ پیپرز میں سامنے آنے والے ناموں کے خلاف کارروائی اس لئے بھی ضروری ہے کہ اولاً اس میں سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر نام موجود ہیں دوم یہ کہ یہ سیاسی بنیادوں پر یا پھر پاکستانی حکام کی تیار کردہ فہرست نہیں جس میں نام شامل کرنے یا نہ کرنے پر اعتراض کی گنجائش موجود ہو۔ اس وقت احتساب کا عمل چنیدہ افراد کے خلاف ہونے کے تاثر میں وزن اور گنجائش موجود ہے۔ حکومت جتنا جلد ہو سکے پانامہ دستاویزات میں موجود ناموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرکے بلا امتیاز احتساب کے عمل کا یقین دلائے۔ موجودہ حکومت نے دنیا کے ممالک سے کرپشن اور بدعنوانی سے حاصل کردہ دولت و جائیداد کے استفسار اور ملزموں کی حوالگی اکائونٹس ڈیٹا کی ممکنہ فراہمی جیسے جو اقدامات کئے ہیں اس سے موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں پر بازی لے گئی ہے۔ اقدامات کی حد تک کی مساعی قابل اطمینان امر ضرور ہیں تاہم اصل مرحلہ ان پر عملدرآمد بلا امتیاز عمل درآمد اور اپنے پرائے کی تمیز کئے بغیر قابل احتساب عناصر کے خلاف کارروائی ہے۔ اس ملک میں بد عنوانی کا راستہ اس وقت ہی روکا جاسکتا ہے جب بدعنوانی کے راستے بند کئے جائیں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ حکومت کے پاس ایسے راستے موجود ہیںجن کے ذریعے ان کے خلاف اندرون و بیرون ملک کارروائی کی جاسکے۔ گزشتہ حکومت نے ملک سے باہر غیر قانونی پیسہ رکھنے والوں کو بلیک منی وائٹ کرنے کا جو موقع دیا تھا اس کے اچھے نتائج سامنے آئے تھے مگر چونکہ اس وقت سخت قسم کے قوانین اور بیرونی ممالک سے معاہدے نہیں ہوئے تھے اس لئے ڈھیٹ قسم کے لوگوں پر اثر نہیں پڑا۔ اس طرح کے افراد کو اگر ایک مختصر مدت کے لئے موقع دے کر رضا کارانہ طور پر معاملات طے کرکے پیسہ ظاہر کرنے اور واپس لانے کا ایک اور موقع دیا جائے تو گھیرا تنگ ہونے کا یقین ہونے پر رضا کارانہ سرمایہ کی واپسی کی سہولت کے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ایسا کرنا فوری رقم کے حصول اور حکومت کے لئے بھی قانونی پیچیدگیوں اور طوالت سے بچنا ممکن ہوگا۔اس دوران قانون سازی کی تکمیل پر توجہ دی جائے جس کے بعد بے رحمانہ کارروائی کی جائے۔

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

خیبرپختونخوا بھرکے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی طرف سے نجی سیکٹرکے تحفظ کیلئے میدان میں نکلنے کااعلان اسی لئے مضحکہ خیز ہے کہ بجائے اس کے کہ والدین نجی سکولوں میں ہونے والے استحصال کے خلاف سڑکوں پر نکلیں سکول مالکان دبائو کاحربہ استعمال کر رہے ہیں جسے حکومت کو خاطر میں نہیں لانا چاہئے۔سکول مالکان کے ایک اندازے کے مطابق کم و بیش18ہزارنجی تعلیمی ادارے90 لاکھ بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔نجی سکولوں میں اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کا زیر تعلیم ہونا حکومت اور اس نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ایسا کرنے پر عوام اس لئے مجبور ہیں کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔ حکومت اگر متبادل انتظام کرنے میں کامیاب ہو جائے اور عوام سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن ہوں تو نجی تعلیمی اداروں کے پاس من مانی کا جواز ہی باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت متعلقہ اتھارٹی کی کارروائی ایسی نہیں جس سے نجی سکول مالکان کو مشکلات کا سامنا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نجی سکول مالکان یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ نجی سکولوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو مزید فعال بنانے اور قوانین کی پابندی کرانے میں کسی دبائو میں نہیں آنا چاہئے اور ایسے اقدامات کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے جن سے والدین اور طلبہ کو ریلیف ملے۔

متعلقہ خبریں