Daily Mashriq


جمہوریت اور بس جمہوریت

جمہوریت اور بس جمہوریت

جمہوریت کے سوا ملک میں کوئی نظام چل سکتا ہے نہ اس کی گنجائش ہے۔ جمہوریت ہی بنیادی حقوق کی ضامن ہے۔ ہر شخص پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اب پاکستان میں دستور کے خلاف کوئی اقدام اور نظام قابل قبول نہیں۔ معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار محترمہ عاصمہ جہانگیر مرحومہ کی آئینی و انسانی خدمات کے حوالے سے لاہور میں منعقدہ دو روزہ عالمی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے اس ملک کے 22کروڑ لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔ پرامن جمہوری جدوجہد سے معرض وجود میں آنے والے ملک کے بانیان بھی ایک سوشل ڈیموکریٹ اور انسان دوست ریاست کے قیام کے خواہش مند رہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ پچھلے ستر اکہتر برسوں کے دوران عوامی جمہوریت کا عرصہ مختصر اور جرنیلوں کی حکمرانی اور سمجھوتوں سے حکومتیں لینے والوں کا زمانہ اقتدار طویل ہے۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق کی پاسداری‘ قانون کی حاکمیت‘ سماجی رواداری‘ تعصبات کے خاتمے اور دیگر مسائل کے حل کے لئے نصف صدی سے زیادہ پر عزم جدوجہد کی وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔

عاصمہ جہانگیر فائونڈیشن کی عالمی کانفرنس میں حکومتی و غیر حکومتی رہنمائوں‘ عالمی ماہرین قانون پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممتاز صحافیوں اور دانشوروں کے ساتھ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے ممتاز ججز کی شرکت سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ مرحومہ عاصمہ جہانگیر پر عزم جدوجہد کی علامت ہیں۔ صنفی امتیازات اور دیگر تعصبات کے خاتمے کے لئے ان کی پیروی کرکے ایک مثالی معاشرے اور نظام کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں ہر مرد و زن کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے جب یہ کہا کہ ’’ملک میں اب صرف جمہوریت‘ جمہوریت اور بس جمہوریت ہی ہوگی۔‘‘ تو کانفرنس ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ صد شکر ہے کہ دستور کی بالادستی اور بلا امتیاز انصاف کی فراہمی کے لئے جدوجہد کرنے والی آئرن لیڈی عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں دستور کی بالادستی‘ جمہوریت‘ شخصی آزادیوں اور مساوات کو ہی ملک کا روشن مستقبل قرار دیاگیا۔ پاکستان کے عوام ماضی میں ہوئے تجربات اور غیرجمہوری اقدامات کے نتائج کو بھگتتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہیں۔ جمہوریت اور مساوات سے انحراف نے ہی سقوط مشرقی پاکستان کے المیے کو جنم دیا۔ افسوس کہ بالا دست طبقات اور طالع آزما جرنیلوں نے سقوط مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کرنے کی بجائے بعد ازاں بھی تین بار د ستورکی حکمرانی پر شب خون مارا۔ ایک بار جنرل ضیاء اور دو بار جنرل پرویز مشرف کی صورت میں۔ اس پر ستم یہ ہے کہ جمہوریت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کی وفاداری جن دروازوں سے مشروط ہے ان دروازوں کی بدولت یہ تاثر ابھرتا ہے کہ خود ریاست کے بعض ادارے جمہوریت اور سیاستدانوں کو بدنام کروانے کی مہم چلاتے ہیں۔ اس منفی پروپیگنڈے کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ماضی میں عدلیہ نے دستور اور جمہوریت پر حملہ کرنے والوں کو نظریہ ضرورت کی چھتری فراہم کی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ 2007ء کی عدلیہ بحالی تحریک میں عوام اور وکلاء کی قربانیاں آزاد و خود مختار عدلیہ کی تھیں لیکن جب یہ عدلیہ بحال ہوئی تواس کے سربراہ نے جمہوریت کو ہی نشانے پر رکھ لیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ملک میں اب نئے ڈھب سے حکمرانی کے اصول وضع کئے جا رہے ہیں۔لاہور میں عاصمہ جہانگیر فائونڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے جن خیالات کااظہار کیا وہ خوش آئند ہیں۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ جمہوریت ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے البتہ عوام الناس کو بھی سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے طبقاتی بالا دستی سے عبارت نظام کے محافظوں کو جمہوریت پسند سمجھنے سے گریز کرنا ہوگا۔بہر طور ماضی کے معاملات کی بحث اٹھانے سے مناسب یہ ہے کہ آگے کی طرف بڑھا جائے۔ ماضی سے صرف رہنمائی کی جائے اور نا پسندیدہ عملوں سے سبق سیکھا جائے۔ ایک کثیر القومی ملک کی فیڈریشن کی ضرورتیں یک قومی ریاست سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔ فیڈریشن کی اکائیوں اور قومیتوں میں اعتماد سازی کے لئے پارلیمان اور عدلیہ کے کردار سے کسی کو انکار نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان ‘ عدلیہ اور دیگر ادارے قاعدے اور قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اپنے کردار کو ادا کریں۔ پارلیمان جمہوریت اور عوام د وستی کو پروان چڑھائے خود احتسابی کو فروغ دے اور عدلیہ دستور کے محافظ کی حیثیت سے اس پر نگاہ رکھے کہ شہری حقوق پامال ہوں نا کوئی شخص یا ادارہ دستور سے کھلواڑ کرنے پائے۔ امر واقع یہ ہے کہ پارلیمان‘ عدلیہ اور عوام جمہوریت اور دستور کے تحفظ کے لئے یکجان ہوں تو ماضی کی طرح آنے والے دنوں میں طالع آزمائوں کو موقع نہیں مل سکے گا۔ اس موقع پر ہم جناب چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں یہ عرض کرنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں کہ وہ عدلیہ میں نچلی سطح پر تطہیر کے عمل کو شروع کریں۔ مقدمات کے کم سے کم وقت میں فیصلوں کو یقینی بنوائیں۔ بار اور بنچ میں مزید ہم آہنگی کے لئے موثر اقدامات کے ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنوائیں کہ وکلاء حضرات قانون کی بالا دستی اور سائلین کو انصاف دلوانے کے لئے کردار ادا کریں نا کہ کسی پریشر گروپ کی طرح گروہی بالا دستی کے لئے طاقت کا مظاہرہ۔ ہمیں یقین ہے کہ طبقاتی نظام سے ہی عوامی جمہوریت اور مساوات پر مبنی نظام کے لئے راستہ نکل سکتا ہے اس لئے تمام فریقوں کو چاہئے کہ آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل اور استحصال سے پاک نظام فراہم کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار موثر انداز میں سر انجام دیں۔

متعلقہ خبریں