Daily Mashriq

کہ آتی ہے اردوزباں آتے آتے

کہ آتی ہے اردوزباں آتے آتے

یاران تیز گام نے محمل کو جالیا

ہم محونالہ جرس کارواں رہے

سی پیک کا جب سے رونق میلہ لگا ہے،قوم کے بچے بچیاں چینی زبان سیکھنے کے شوق میں ہلکان ہیں اس حوالے سے سب سے پہلے خودحکومتی سطح پر نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو چینی زبان کی تربیت کیلئے چین بھیجنے کا اہتمام کرتے ہوئے اشتہارات بھی چھپوائے گئے تھے اوراس میں جس طرح حسب عادت ڈنڈی مارتے ہوئے بڑے صوبے کو ترجیح دی گئی تھی اس پر تب بھی راقم نے کالم تحریر کر کے دوسرے صوبوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی پر تنقید کی تھی ، تاہم اس وقت میرا موضوع چینی زبان نہیں بلکہ انگریزی زبان کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی ہے، جس میں اب تک تو صرف سلور سکرین سے آئوٹ ہونے والی اداکارہ میرا کا ہی راج تھا جوا پنی غلط انگریزی سے خود کو فلموں میں ان نہ کراسکی تھی لیکن شوبز خبروں میں ان ضرور رہی جس کا اسے بہر طور یہ کریڈٹ تو ضرور جاتا ہے کہ جس طرح انگریزوں نے لگ بھگ ایک صدی تک بر صغیر پر حکمرانی کے دوران ہندوستان کی مختلف زبانوں کا استحصال کیا اس کا بدلہ اداکارہ میرا مسلسل غلط انگریزی بول کر لے رہی ہے ، اور اب اس غلط انگریزی بولنے والے کلب میں ایک اور اداکار ہ نے بھی شمولیت کرتے ہوئے اپنی زبان دانی کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیئے ہیں ، یعنی لاہور کے سٹیج سے وابستہ اداکارہ پائل نے بھی غلط انگریزی بول کر الحمرا ہال نمبر ایک میں ڈرامے کے شو کے دوران ہال میں بیٹھے ہوئے تماشائیوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کردیا ہے ، خبر نگار نے یہ بھی لکھا ہے کہ اداکارہ پائل کی غلط انگریزی سے تماشائی تو محظوظ ہوئے لیکن اداکارہ کو شرمندگی کا سامنا کر نا پڑا۔ اس صورتحال نے کم از کم یہ تو واضح کردیا کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں میں کوئی شرم کوئی حیا نہ بھی ہو ، اداکارائوں میں تو موجود ہے ، یہ الگ بات ہے کہ اداکارہ میرا اس حوالے سے بھی سیاسی رہنمائوں کی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ایک دن وہ بھی سیاست میں قدم رکھ دیںاور مسرت شاہین کی طرح اپنی سیاسی جماعت بنا کر انتخابات کا حصہ بن جائیں ۔ زبان کا مسئلہ آج کا نہیں بہت پرانا ہے ۔ ہر شخص کو اپنی زبان سے پیار بھی ہوتا ہے اور اس پر فخر بھی کرتا ہے ، جیسا کہ داغ دہلوی نے کہا تھا

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

البتہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو دوسری زبانیں تو ایک طرف خوف اپنی زبان کے ساتھ بھی کھلواڑ کر کے مزاح پیدا کرتے ہیںاور بعض اوقات دوسروں کیلئے تفریح کا سامان بھی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے وثوق کے ساتھ تو یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا یعنی بہر طور یہ ایک تحقیق طلب مسئلہ ہے کہ اس صورتحال کی ابتدا کب ، کیسے اورکہاں ہوئی لیکن ادب و شعر کا جائزہ لیا جائے تو اس کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں جا کر پیوست دکھائی دیتے ہیں ۔جہاں تک مجھے یاد ہے کہ کالج کے دور میں ہمارے انگریزی کے کورس میں ایک ڈرامہ The Rivalsکے نام سے شامل تھا،جسے Sheridanنامی ڈرامہ نگار لکھا تھا ، اس میں ایک مزاحیہ کردار مسز میلاپر اپ کا تھا۔اس خاتون کی خاصیت یہ تھی کہ وہ ایک ہی طرح کے دو الفاظ میں سے اصل کی جگہ دوسرا لفظ بول کر قہقہوں کی برسات کر دیتی تھی، یہ ڈرامہ ایک طویل عرصے تک انگلینڈ میںسٹیج کیا جاتا رہا، اور لوگ صرف مسز میلا پر اپ کی زبان سننے کیلئے جوق درجوق آیا کرتے ، اس ڈرامے نے انگریزی زبان وادب میں میلا پر اپ ازم Melapropismکی ترکیب کا اضافہ کیا اور آج بھی ذومعنی گفتگو کرنے والے کرداروں کو اسی ترکیب کے تحت یاد کیا جاتا ہے ، جبکہ مسز میلا پر اپ کے کردار سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں جیدی کا کردار بھی تخلیق کیا گیا تھا جس کی دوتین سیریز پی ٹی وی پر چلائی گئی تھیں۔ یہ کردار اس کے خالق اطہرشاہ خان لکھتے تھے اور خود پرفارم بھی کرتے تھے ۔اطہرشاہ خان کا اپنا اصلی نام تو گم ہو کر رہ گیا تھااور جیدی ہی ان کی پہچان بن گیاتھا۔ انہوں نے ریڈیو پر بھی ایک پروگرام میں عرصے تک اسی کردار کے تحت بچوں کیلئے مزاحیہ پروگرام پیش کیا ۔ اس قسم کے پروگرام کی جھلک ایک اور ٹی وی پروگرام بلبلے میں مومو کے کردار میں نظرتو آتی ہے لیکن وہ مسز میلا پر اپ کی مانند ایک ہی سائونڈ کے الفاظ نہیں بولتی بلکہ قدرے بھلکڑ ہونے کے ناتے وہ لوگوں کے نام یا پھر دیگر الفاظ بھول جاتی ہے اور جب مقابل کردار کے منہ سے وہ الفاظ یا ملے جلے الفاظ نکلتے ہیں تو پھر ڈائیلاگ کو آگے بڑھاکے مزاح پیدا کرتی ہے ۔ بھارت کے ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں بھی لا تعداد کریکٹر اسی بنیاد پر تخلیق کئے جا چکے ہیں، تاہم مسز میلا پر اپ کا کردار ایسا نہیں ہے کہ اس نے کسی دوسری زبان کی ریڑھ ماری ہو،وہ تو اپنی ہی زبان کے ہم شکل ،ہم وزن اورہم قافیہ الفاظ سے مزاح پیدا کرتی ہے جبکہ میرا اور اب پائل نے بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انگریزوں سے بر صغیر پر ناجائز قبضے اور ہندوستانیوں کو غلام بنانے کا بدلہ لینے کیلئے ان کی زبان انگریزی کو تختہ مشق بنانا شروع کر دیا ہے ۔

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردوزباں آتے آتے

متعلقہ خبریں