Daily Mashriq


انسداد خسرہ مہم

انسداد خسرہ مہم

چھالے نکل آئے ہیں پپو کے بدن اور اس کے منہ اندر۔ کچھ کھا پی نہیں سکتا۔بخار ہوجاتا ہے اسے، کھانستا اورچھینکنا ہے اور بلک بلک کر روتا رہتا ہے۔ تو کیا تم اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے؟ ہم نے بھولے باچھا سے پوچھا جس کے جواب میں وہ ٹھنڈی آہ بھر کر کہنے لگا۔ کوئی لے جانے ہی نہیں دیتا۔ یہ کیا کہہ رہے ہو۔ پپو تمہارے جگر کا ٹوٹا ہے ۔ کوئی کون ہوتا ہے جو اسے بیماری کی حالت میں ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے لے کر جانے سے روکے۔ بھولے باچھا کی زبانی پپو کی بیماری اور اس کو ڈاکٹر کے ہاں لے جانے سے روکنے کی کہانی سن کر میں آپے سے باہر ہوکر ایک ہی سانس میں اسے بہت کچھ کہہ گیا جس کے جواب میں وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سے انداز میں مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگا کہ پپو کو خسرہ ہوگیا ہے۔ یہ ایسی بیماری ہے جو ہر بچے کو ہوجاتی ہے۔ یہ بیماری بچے کے اندر ہوتی ہے اور موقع پاتے ہی نکل آتی ہے۔ خسرہ بیماری نہیں اندر کا زہر جس کے نکلنے پر سب سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہتے ہیں چلو اچھا ہوا نکل گئی یہ مصیبت بچے کے اندر سے۔ مجھے اس کی یہ بات سن کر یوں لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو

دکھا کر زہر کی شیشی کہا رنجور سے اس نے

عجب کیا تمہاری بیماری کی یہ حکیمی دوا نکلے

کس نے بتایا یہ سب تجھ کو۔ میں نے بھولے باچھا کے رنجور منہ سے یہ ساری باتیں سن کر اس سے پوچھا۔ جس کے جواب میں وہ ’’دائی اماں نے بتایا ہے یہ سب کچھ‘‘ کہہ کر اپنے آپ پر قابو نہ پاسکا

ایسا آساں نہیں لہو رونا

دل میں طاقت جگر میں حال کہا ں

’’بڑی تکلیف میں ہے پپو‘‘ اتنا کہہ کر شروع ہوگیا بھولا باچھا ٹسوے بہانے۔ اس سے پہلے کہ میں دائی اماں کے خلاف اول فول بکتا، میں نے بھولے باچھا کی جانب دیکھ کر اس سے کہا ، ارے پاگل یہ ایک خطرناک تعدی بیماری ہے ، ایک بچے سے دوسرے بچے کو لگ جاتی ہے ، کیا تونے پپو کو خسرے سے بچاؤ کا ٹیکہ لگوایا تھا۔ جس کے جواب میں اس نے نفی میں سر ہلادیا۔’’ خود کردہ را علاج نیست۔ اب بھگتو اپنے کئے کی سزا‘‘۔ میں غضب ناک ہوکر بولا اور پھر فوراً اپنے غصے پر قابو پاکر اسے کہنے لگا جلدی کرو پپو کو ابھی اور اسی وقت لے جاکر ڈاکٹر کو بتاؤاور اس کی ہدایت کے مطابق اسکو خسرے کا ٹیکہ لگاؤ۔ شاید میں بھولے باچھا کو یہ سب کچھ نہ کہہ سکتا اور اس کی طرح میں بھی بھولا بن کر دائی اماں کی باتوں یا اس کے مفروضوں کو حرف آخر سمجھ لیتا اگر مجھے جمعرات 11 اکتوبر کو پشاور شہر کے ایک فلک بوس ہوٹل کے آٹھویں آسمان پر محکمہ صحت کے ڈائریکٹر کی پریس بریفنگ میںشرکت کا موقع نہ ملا ہوتا۔اسے میری نا اہلی کہہ لیجئے کہ میں تادم تحریر ہیلتھ ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم کے دیگر ساتھیوں کے اسمائے گرامی تک سے آگاہ نہ ہوسکا ، اگر کچھ جان سکا تو صرف اتنا کہ محکمہ صحت خیبر پختون خوا کے زیر اہتمام 15اکتوبر سے 27اکتوبر تک جاری رہنے والی انسداد خسرہ مہم کا اجراء ہو گیا ہے ۔پریس بریفنگ میں ڈائریکٹر ہیلتھ اور ان کے ذہین و فطین ساتھیوں بین الاقوامی تنظیم یونیسکو کی ایک بکھرے بالوں والی کم گو خاتون عہدیدار بھی موجود تھیں۔ ان سب نے باری باری پریس بریفنگ کا مقصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ خسرہ کوئی معمولی بیماری نہیں۔ یہ بیماری 9 ماہ سے 25 ماہ تک کی عمر تک کے بچوں کواس کے جراثیم پھیلنے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ اگر بچوں کو لاحق ہونے والی بیماری خسرہ کے علاج میں غفلت برتی جائے تو

جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیر

کبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہے

کے مصداق مریض بچہ نمونیا میں مبتلا ہوکر لقمہ اجل بھی بن سکتا ہے۔ اس موضوع پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا گیا کہ اس وقت خسرہ کی بیماری میں مبتلاء ہونے والے ہر 22 بچوں میں سے ایک بچے کی موت ریکارڈ ہوئی ہے اور اگر اس بیماری سے غفلت برتی جائے تو اس شرح میں خطرناک حد تک اضافہ بھی ہوسکتاہے۔ پریس بریفنگ میں موجود معالجین و ماہرین نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر نومولود یا شیر خوار بچوں کو بروقت خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگا دئیے جائیں تو ہم اس کے مضر اور جان لیوا اثرات سے اپنے پھول اور کلیوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔کیا خوب کہا ہے امیر مینائی نے

باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی

بھیجنی ہیں ایک کم سن کے لئے

پریس بریفنگ کے دوران احباب کو بتایا گیا کہ پولیوکے قطرے پلوانے کے لئے رضا کار اور عملہ گھر گھر پہنچتا ہے ، لیکن خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کے لئے بچوں کو مقامی صحت مرکز یا گاؤں کے حجروں میں لانا پڑے گا، ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ کی جانب سے منعقدہ اس پریس بریفنگ میں ورقی اور برقی ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے چیدہ چیدہ کالم نگار اور لکھاری خواتین و حضرات موجود تھے۔ جن کے اسمائے گرامی گنوانا خدشہ طوالت کے سبب چنداں ضروری محسوس نہیں ہوتا وہ نہایت شارٹ نوٹس پر ایک ایس ایم ایس کے ذریعے اس اہم موضوع سے جانکاری حاصل کرنے کے لئے جمع ہوئے۔ اور انہوں نے خسرہ سے بچاؤکی ویکسین کے ٹیکے لگانے کی مہم کو کامیاب کرنے میں ذرائع ابلاغ کے تعاون کی ضرورت پر زور دیااور ہمیں یوں لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں

رفاقتوں کا توازن اگر بگڑ جائے

خموشیوں کے تعاون سے گھر چلا لینا

متعلقہ خبریں