Daily Mashriq

کیا آئی ایم ایف ہی آخری آپشن ہے؟

کیا آئی ایم ایف ہی آخری آپشن ہے؟

لگتا ہے حکومت میں آنے کے بعد پی ٹی آئی قیادت اتنی بہادری کا مظاہرہ نہیں کرپائی جتنی بہادری اس نے اپوزیشن میں دکھائی تھی۔ اس وقت ملک میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور عمران خان وزیر اعظم ہیں، مگر نئے پاکستان میں معیشت کے حوالے سے عوام میں جو مایوسی پائی جاتی ہے وہ آج سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ عوام خوف میں مبتلا ہیں کہ معیشت کا حال کیا ہوگا؟لہٰذا حکومت نے اس پریشانی کو کسی حد تک کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بھاری شرائط پر قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ نئے پاکستان کی دعویدار حکومت کے پاس آئی ایم ایف میں جائے بغیر معاشی مشکل سے نکلنے کا کوئی حل موجود ہے یا نہیں؟ آئی ایم ایف سے قرض لینے کا معاملہ عالمی سیاست اور سفارت کاری کے علاوہ مقامی سیاست کا بھی ہے۔ آئی ایم ایف پر امریکا اور مغربی ملکوں کی اجارہ داری ہے۔ یہ قرض لینے والے ملکوں سے نہ صرف مقامی معیشت کو کنٹرول کیا جاتا ہے بلکہ ان ملکوں کی خارجہ پالیسی پر بھی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ترکی نے معیشت میں حالیہ گراوٹ کے باوجود آئی ایم ایف سے قرض لینے سے انکار کردیا ہے۔ جس کے بعد سے ترکی اپنے بل بوتے پر معیشت کو چلا رہا ہے اور اس کی معیشت میں بنیادی طور پر استحکام آرہا ہے۔ ترکی سمیت دنیا کے 11 ملک ایسے ہیں جنہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ کے تمام قرض واپس کردیے ہیں۔عالمی مالیاتی اداروں کو ادائیگیاں کرنے والوں کے علاوہ انکار کرنے والے ملک بھی موجود ہیں۔ اس میں ارجنٹینا کی مثال سب سے اہم ہے جو7مرتبہ بیرونی قرضوں اور9مرتبہ مقامی قرضوں کی ادائیگی سے انکار کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ یونان، صومالیہ، سوڈان اور زمبابوے نے بھی آئی ایم ایف کے قرض کی اقساط کی ادائیگی بروقت نہیں کی ہے۔اس تناظر میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے علاوہ کیا مواقع موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کی تعداد60 لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا میں مقیم ہے۔ حکومت فوری طور پر زرمبادلہ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی مدد حاصل کرسکتی تھی۔ ان کے لیے ایک بانڈ کا اجرا کرسکتی تھی بلکہ کرسکتی ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کو جتنا ادا کرنا ہے اتنا ہی یا اس سے کچھ زائد منافع بانڈ پر دیا جائے۔ اس بانڈ کی خصوصیت یہ ہو کہ اجرا ڈالر، یورو یا برطانوی پا ئونڈ میں کیا جائے مگر اس پر منافع اور اصل زر کی واپسی پاکستانی روپے میں ہو۔ اس طرح سمندر پار پاکستانی جو رقم اپنے گھر والوں کو ہر ماہ ارسال کرتے ہیں اس کے بجائے وہ یہ بانڈ خرید لیں اور رقم خود بہ خود ان کے اہلِ خانہ کو منتقل ہو جائے۔اس بانڈ کے اجرا میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ زرِمبادلہ ملنے کے ساتھ ساتھ ادائیگی پاکستانی روپے میں ہوگی، یعنی واپسی کے لیے پھر کوئی غیر ملکی قرض کا بوجھ نہیں ہوگا اور سب سے بڑھ کر آئی ایم ایف کی سخت معاشی، سیاسی اور سفارتی شرائط سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔پاکستان کی بیرونی تجارت پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ سال2018 میں پاکستان نے 22ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات برآمد جبکہ 55ارب 84کروڑ ڈالر کی مصنوعات درآمد کیں۔اس طرح پاکستان کا تجارتی خسارہ 33 ارب84کروڑ ڈالر ہے۔ پاکستان کو عالمی تجارت میں ہونے والا خسارہ ہی مجموعی برآمد سے11ارب ڈالر زائد ہے۔پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ18فیصد ہے مگر ملک کی بڑی آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔ سال 2018 میں پاکستان نے4ارب79کروڑ ڈالر کی زرعی اجناس کی برآمدات کیں جبکہ اسی مالی سال پاکستان نے5ارب49کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا خورد ونوش درآمد کیں۔ اس طرح پاکستان کو زرعی ملک ہونے کے باوجود اجناس کی تجارت میں70کروڑ ڈالر سے زائد کا خسارہ ہوا ہے۔اجناس کے درآمد کار اور سابق صدر کراچی ایوانِ تجارت و صنعت ہارون کہتے ہیں کہ غیر ضروری اجناس کی تجارت پر روک لگانا ہوگی۔ غذائی اجناس اور غیر ضروری اشیا کی درآمد روک کر پاکستان تقریباً10ارب ڈالر کی بچت کرسکتا ہے۔ پاکستان میں درآمدات میں انڈر اور اوور انوائسنگ معیشت کو بری طرح چاٹ رہا ہے۔ چین سے ہونے والی درآمدات میں4ارب ڈالر کی چوری ہوتی ہے۔ جبکہ دیگر ملکوں کے ساتھ چوری5ارب ڈالر ہے۔ انڈر انوائسنگ میں درآمدی اشیا کی قیمت کم دکھائی جاتی ہے جس کی وجہ سے کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کم ہوجاتی ہے اور ہنڈی حوالے کے ذریعے رقم قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک بھجوا کر ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ اس کام میں امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے دبئی میں قائم دفاتر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت فوری طور پر انڈر انوائسنگ کو ختم کرکے سالانہ تقریباً9ارب ڈالر کی بچت کرسکتی ہے۔ان تمام فوری اقدامات کے علاوہ پاکستان ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں لین دین کو فروغ دے کر بھی ڈالر کی بچت کرسکتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت مشکل فیصلہ کرنے کا مظاہرہ کرتی تو بہتر ہوتا۔اگر حکمران جماعت مذکورہ اقدامات اٹھاتی تو اس کو آئی ایم ایف سے سیاسی، معاشی اور سفارتی شرائط ماننے کے علاوہ بھی دیگر ذرائع سے اپنے اخراجات کو پورا کرنے میں مدد مل جاتی۔

متعلقہ خبریں