Daily Mashriq

چوہدری شوگر ملز کیس: نواز شریف کا نیب تفتیش میں عدم تعاون

چوہدری شوگر ملز کیس: نواز شریف کا نیب تفتیش میں عدم تعاون

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کا ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد ایک دن میں ان سے 2 مرتبہ تفتیش کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ نیب نے مسلم لیگ (ن) کے قائد کو چوہدری شوگر ملز کیس (سی ایس ایم) میں گزشتہ جمعے کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد احتساب عدالت نے ان کا 14 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کو ٹھوکر نیاز بیگ میں نیب کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں رکھا گیا جہاں وہ تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون نہیں کررہے۔

ہر سوال کے جواب می ان کا کہنا ہوتا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کے شیئرز کی منتقلی کے سلسلے میں کوئی غیر قانونی رقوم کی متقلی نہیں کی گئی اور اس بارے میں ان کے بیٹے حسین نواز سے پوچھا جائے کیوں کہ خاندانی کاروبار وہ سنبھالتے ہیں۔

نیب کے موقف کے مطابق صوبائی وزیر خزانہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے نواز شریف کے پاس چوہدری شوگر ملز کے اکثریت شیئرز تھے۔

نیب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’نواز شریف نے چوہدری شوگر ملز اور شمیم شوگر ملز میں 1992 سے 2016 تک تقریباً 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جو ان کے معلوم ذرائع آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

اس کے علاوہ نواز شریف نے 1991 میں چوہدری شوگر ملز کے قیام کے وقت سے اپنے اہلِ خانہ کے نام پر 4 کور 30 لاکھ روپے مالیت کے 43 لاکھ 20 ہزار شیئرز حاصل کیے۔

متعلقہ خبریں