Daily Mashriq

ڈونلڈ ٹرمپ جنگ پر یقین نہیں رکھتے، وزیراعظم عمران خان

ڈونلڈ ٹرمپ جنگ پر یقین نہیں رکھتے، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگوں پر یقین نہیں رکھتے جو سب سے اچھی بات ہے۔

سرکاری خبر ایجنسی 'اے پی پی' کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے امریکی نشریاتی ادارے 'سی سی این' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا کے ساتھ ایران کے موجودہ تعلقات جوہری معاہدے سے دست برداری اور معاشی پابندیوں کے بعد کم ترین سطح پر آئے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کے دورے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان سہولت کاری کی کوشش کریں اور دورہ ایران میں حسن روحانی سے امریکی پیش کش کے بارے میں بات کی۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ابھی چونکہ چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں اس لیے زیادہ تفصیل میں نہیں جائیں گے بلکہ دیکھیں کہ یہ حالات کس طرف جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک دونوں اطراف سے کوئی جواب نہیں ملتا اس وقت تک میں زیادہ تفصیل سے بات نہیں کر سکتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات بہت زیادہ پیچیدہ ہیں تاہم دونوں ممالک کی قیادت صورت حال کو حقیقی معنوں میں سمجھ رہی ہیں۔

امریکی صدر کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ عوام اکثر ان پر تنقید کرتے ہیں تاہم میرا خیال ہے کہ ان کی جو بات مجھے پسند ہے وہ یہ ہے کہ ٹرمپ جنگوں پر یقین نہیں رکھتے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ ماہ امریکا کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی اور خطے کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

بعد ازاں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر وہ، ایران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے ثالثی کی کوششوں میں شامل ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر سعودیہ اور ایران میں جنگ ہوئی تو یہ سب کے لیے انتہائی افسوس ناک بات ہوگی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر نے کہا تھا کہ کیا وہ کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر کے ایک اور معاہدہ کرواسکتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی اس خواہش سے ایرانی صدر حسن روحانی کو آگاہ کرچکے ہیں اور ہم نے ان تک پیغام پہنچا کر اپنی طرف سے بہترین کوشش کی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران کے دورے پر گئے تھے اور اب سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں انہوں نے خطے کی صورت حال پر بات کی۔

متعلقہ خبریں