Daily Mashriq


یہی تو امتحان ہے

یہی تو امتحان ہے

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کیلئے خود کو بدلنا ہوگا اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو ترقی نہیں کر سکیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ کبھی پاکستان کو اتنے چیلنجز درپیش نہیں تھے جتنے آج ہیں، سول سرونٹس معاشی صورتحال کو بہتر جانتے ہیں، آج پاکستان کا قرضہ30 ہزار ارب روپے کا ہے اور ہم قرضوں پر ہر روز6ارب روپے سود ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کیلئے خود کو بدلنا ہوگا، سیاستدانوں، عوام اور بیوروکریسی نے خود کو بدلنا ہوگا، اگر خود کو تبدیل نہیں کریں گے تو ترقی نہیں کر سکیں گے اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں، ہم نے جو قرضے لئے ان سے ایسے منصوبے شروع کئے گئے جو نقصان میں جارہے ہیں، جس سے ملک کی معیشت کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سارا مسئلہ ہی کرپشن کا ہے، پیسہ چوری کرنے کیلئے ادارے تباہ کر دیئے گئے، ملک میں احتساب کا ہونا ضروری ہے، مغرب میں آج شفافیت ہے اور مغرب میں لوگوں کو احتساب کا خوف ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر انداز گفتگو بطور سیاستدان اور پارٹی قائد تو احسن ہے لیکن بطور وزیراعظم ناپ تول کر بولنا ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ وزیراعظم کا گزشتہ روز ملکی معیشت کے حوالے سے بیان درست اور حقیقت حال کا اظہار ہے لیکن اس سے عوام میں منفی تاثر، ناامیدی اور بددلی کا پھیل جانا فطری امر ہے۔ سربراہ حکومت کے اس قسم کے بیان کو دیوالیہ ہونے کے اعلان سے مشابہ ہونے کا تاثر لینا بالکل بھی غلط نہ ہوگا۔ اس سے ملک میں سرمایہ کاری میں کمی آنے، کاروبار مندے ہونے بلکہ سٹاک ایکسچینج گر جانے کا خدشہ ہے جو اپنی جگہ خاصے نقصان کا باعث امر ہے۔ ملکی میڈیا بھی بدقسمتی سے مثبت کی بجائے منفی معاملات کو زیادہ اجاگر کرنے کا عادی ہے۔ بریکنگ نیوز اور ریٹنگ کی سبقت کیلئے ملکی مفاد سے لیکر شخصی عزت واحترام اور انسانی اقدام کا خیال رکھنا تو درکنار مناسب الفاظ کے چناؤ کی بھی زحمت نہیں کی جاتی۔ اس قسم کی صورتحال میں جتنا ممکن ہو حکومتی شخصیات کو الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کرنی چاہئے منفی معاملات پر اظہار خیال سے گریز اگر ممکن نہ ہو تو ایسے الفاظ استعمال کئے جائیں جو براہ راست مایوسی، پریشانی اور ناامیدی پیدا کرنے کا باعث نہ ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے لگی لپٹی رکھے بغیر ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں کا بیان دے کر حقیقت حال سے قوم کو آگاہ تو ضرور کیا ہے ساتھ ہی انہوں نے اس صورتحال کے پیدا ہونے کی وجوہات کا بھی بڑی حد تک تذکرہ کیا ہے مگر چونکہ انہوںنے اس کیساتھ کوئی حل اور ٹھوس منصوبے کا ذکر نہیں کیا اسلئے اس سے دیگر مطلب اخذ کرنے کی بڑی گنجائش اور موقع موجود ہے۔ بہتر ہوگا کہ وزیراعظم کی میڈیا ٹیم اور پارٹی کے سینئر رہنما ان مصلحتوں کی طرف وزیراعظم کی توجہ دلائیں اور اگر ممکن ہو تو فی البدیہہ ماضی الضمیر بیان کرنے کی بجائے لکھی ہوئی تقریر پر اکتفا کیا جائے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وزیراعظم تقریر پڑھنے پر اکتفا کریں لیکن جو چیز رپورٹ ہو رہی ہو عوام اور میڈیا کی اس محفل تک رسائی ہو وہاں احتیاط کی جائے جبکہ اعلیٰ اجلاسوں میں کھل کر اظہار خیال اور معاملات پر بحث ضرور کی جائے اور معاملات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیکر حسب حال اقدامات کئے جائیں۔ جہاں تک ملکی معیشت کا تعلق ہے کسی بھی سیاسی حکومت کو خزانہ بھرا نہیں ملتا بلکہ ہر حکومت کو خزانہ خالی ہی ملا آیا ہے یہ اسی حکومت کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ سخت معاشی حالات میں عوام کو کس حد تک ریلیف دے پائے گی۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ اب ملک مزید قرضوں کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا اسلئے اب ایسے منصوبوں کی ضرورت نہیں جو قرضوں میں اضافے کا باعث بنیں۔ ہمارے تئیں موٹرویز، ایئر پورٹس اور اہم شاہراہوں کی تعمیر یا کسی بڑے مگر منافع بخش منصوبے ہی کیلئے اب قرضے لینے کی گنجائش ہے محولہ قسم کے اہم منصوبوں کی تقریباً تکمیل ہوچکی ہے اورنج ٹرین اور میٹرو بس منصوبوں کے نافع ہونے میں کلام نہیں لیکن ان منصوبوں کو بھاری قرضے لیکر اور سود کی رقم میں مزید اضافہ کرکے انجام دینے کی اب گنجائش باقی نہیں۔ اب ڈیم بنانے اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز بہتر بنانے جیسے منصوبوں پر توجہ کی ضرورت ہے جس پر موجودہ حکومت توجہ دے رہی ہے۔ ملکی معیشت کی صورتحال اب اس حد تک آگئی ہے کہ اب بڑے ترقیاقی منصوبوں کیلئے وسائل کی گنجائش دکھائی نہیں دیتی چند شہری علاقوں کو چھوڑ کر ملک کی ستر اسی فیصد آبادی جس حالت میں زندگی گزار رہی ہے اب ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ کی ضرورت ہے اور وسائل کا رخ اب پسماندہ علاقوں کی طرف پھیرا جائے جبکہ متمول افراد سے لیکر متوسطہ طبقے تک سے ٹیکسوں کی پوری وصولی اور ان کا صحیح استعمال ناگزیر ہے جس کے بغیر اب ملکی مشینری کا چلنا بھی خدانخواستہ دشوار دکھائی دیتا ہے۔ مشکلات اور مسائل کے پہاڑوں کا تذکرہ لاحاصل ہے حکومت کا امتحان یہ ہے کہ وہ کس طرح عوام کے مسائل کے حل کیلئے وسائل پیدا کرتی ہے اور ریلیف کے منتظر عوام کو ریلیف مل جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں