Daily Mashriq


دو عملی نہیں یک رنگی اختیار کی جائے

دو عملی نہیں یک رنگی اختیار کی جائے

وزیراعظم عمران خان ایک جانب یہ اعتراف کرتے ہیں کہ حکومت سرکاری ملازمین کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی، اس امر کا بھی وزیراعظم کو احساس ہے کہ سرکاری ملازمین کی تضحیک نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے اس ضمن میں بیوروکریسی سے تفتیش میں تضحیک کے مسئلے پر بھی بات کی ہے، اہلیت کی بنیاد پر بیوروکریسی میں ترقی کے خواہشمند ہیں اور ملک کیلئے کام کرنے والوں کیساتھ کھڑے ہونے کے بھی خواہشمند ہیں مگر دوسری جانب حکومت پنجاب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکینِ قومی اسمبلی کی جانب سے مبینہ سیاسی مداخلت کی شکایت کرنے والے 2ڈپٹی کمشنرز کو اختیارات کے سلسلے میں (چین آف کمانڈ) کی خلاف ورزی کرنے پر اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں اور پنجاب ایمپلائی ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ برائے سال2006 کے تحت ملازمت سے فارغ کئے جانے کی کارروائی کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ معروف انگریزی معاصر کے ذرائع کے مطابق تفتیش میں دونوں افسران چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی اور سرکاری معاملات سے میڈیا کو آگاہ کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں جس پر انہیں عاشورہ کے بعد ان کے عہدوں سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد اور ڈپٹی کمشنر راجن پور اللہ دتہ وڑائچ نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں حمزہ شہباز کے بہت نزدیک رہ کر کام کیا ہے اور انہیں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی مدت ختم ہونے سے کچھ عرصہ قبل ہی ڈپٹی کمشنر تعینات کیا گیا تھا۔ محولہ ڈپٹی کمشنروں سے گزشتہ حکومت سے قربت اسلئے کوئی انوکھی بات نہیں کہ سرکاری افسروں کو حکومتی عہدیداروں کا اعتماد حاصل کر کے ہی کام کرنا پڑتا ہے مگر ان کے سیاست میں ملوث ہونے یا سابقہ حکمرانوں کے مبینہ ایماء پر کوئی کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ایک کیریئر بیوروکریٹ کیلئے اس کا عہدہ ہی سب سے اہم ہوتا ہے جسے وہ اس قسم کے معاملات میں ملوث ہو کر داؤ پر نہیں لگا سکتا اگر معاملات کو اسی تناظر میں دیکھا جانے لگے تو موجودہ حکومت کو اہم عہدوں کیلئے کوئی بھی افسر دستیاب نہ ہوگا۔ یہی سرکاری افسران ہوتے ہیں جو ہر حکومتی مشینری کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے انہی افسروں کو اعلیٰ عہدوں سے نوازا ہے جو گزشتہ حکومت میں بھی اہم عہدوں پر فائز تھے یہ ایک اچھی روایت ہے۔ محولہ دو ڈپٹی کمشنروں کا وزیراعظم کے سرکاری معاملات میں ارکان اسمبلی اور سیاستدانوں کے عدم مداخلت کے بیان کی روشنی میں اقدام عین حکومتی پالیسی کی پابندی کے مترادف ہے۔ اگر انہوں نے رولز کی خلاف ورزی کی ہے تو ان سے باز پرس ضرور ہونی چاہئے لیکن اس کا انداز ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ آئندہ کوئی اور افسر اس امر کی ہمت نہ کر پائے کہ سیاسی مداخلت کی شکایت کرے۔ میڈیا پر معاملے کا آنا حکومت اگر اس قدر معیوب سمجھتی ہے تو پھر سرکاری افسران کیساتھ ساتھ وزراء بھی میڈیا سے گریز کریں اور حکومتی وسرکاری معاملات کو پوری طرح خفیہ رکھنے کا انتظام کیا جائے۔

افسوس، صد افسوس

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے روکنے پر اسسٹنٹ پروفیسر کی بزرگ ٹریفک انسپکٹر سے غنڈہ گردی کی وائرل ویڈیو دیکھنے والوں کو حوالات میں ہتھکڑی سے جنگلے کیساتھ باندھ کر کھڑا کرنے کی تصویر دیکھ کر ہی کچھ قرار آیا ہوگا۔ اس سے افسوس کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ کوئی غنڈہ اور بدمعاش قسم کے شخص کی بدمعاشی نہ تھی بلکہ اسسٹنٹ پروفیسر کے باعزت عہدے پر فائز شخص کی حرکت تھی جن کے جرم کی نوعیت قانون کی نظر میں معمولی تھی یا سنگین نیز قانون اس کو کیا سزا دیتی ہے اس کی حرکت کے مقابلے میں یہ سب بے معنی چیزیں لگتی ہیں۔ یہ جھگڑا اگر کسی تکرار کے نتیجے میںہوتا تو اسے طیش کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا تھا مگر یہاں تو گاڑی روکنے پر پاگل بھینسے کی طرح کے حرکت کا ارتکاب تھا جس کی کسی جانور سے تو توقع رکھی جا سکتی ہے اشرف المخلوقات سے نہیں کجا کہ ایک معلم ومدرس اس قسم کی حرکت کا ارتکاب کرے۔ دکھ اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک مسلمان اور پختون معاشرے میں جس میں دینی اور ثقافتی ہر دو لحاظ سے سفید ریش کا عزت واحترام مسلمہ ہے اس کی صرف اس بات پر تذلیل کہ انہوں نے قانون کی وردی پہنے قانون کے نفاذ کی کوشش کی تھی۔ اس اے پی کا کلاس میں طالب علموں سے کیا رویہ ہوگا اور کیا اس قسم کے نفسیاتی مریض کی علامت رکھنے والا متشدد شخص اس عہدے کا اہل ہے اس بارے محکمہ تعلیم کے حکام کو ضرور سوچنا چاہئے۔ ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ وہ ایسے عملے کا تقرر کریں جو صبر وبرداشت اور احترام آدمیت کے پاسدار ضرور ہوں مگر اس قسم کے لوگوں کو موقع پر ہی قانون کا مزہ چکھانے کے بھی قابل ہوں۔ حکومت، محکمہ پولیس اور معاشرے کو تشدد کا نشانہ بننے والے سفید ریش پولیس انسپکٹر سے یکجہتی کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں اعزاز دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں