Daily Mashriq


''کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو''

''کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو''

وزیراعظم عمران خان نے سینئر بیوروکریٹس سے خطاب کرتے ہوئے وہ بات کہہ دی جو انہیں عوام کو مخاطب کر کے کہنا چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت کو ورثے میں اتنا بڑا معاشی بحران نہیں ملا جتنا بڑا معاشی بحران ان کی حکومت کو ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ 6ارب روپیہ کا اضافہ قرضوں کی ادائیگیوں میں ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے بجا طور پر کہا کہ اس حقیقت کو بیوروکریٹس سے بہتر کون جان سکتا ہے جو ملک چلاتے ہیں۔ اس لیے عمران خان کو یہ بات عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے بتانی چاہیے تھی۔ یا ان بااثر افراد کو جو بیوروکریسی سے اپنے ''کام'' نکلوانے کے درپے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اصلاحات لا رہے ہیں بیوروکریسی اگر ساتھ چلے تو دو سال میں حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے جسے احتساب کے ذریعے ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے سینئر افسروں کو یقین دلایا کہ احتساب کے عمل کے دوران انہیں پورا احترام دیا جائے گا اور ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ انکوائریوں کے دوران ان کی کسی طرح توہین نہ ہو۔ اس یقین دہانی کے ذیل میںیہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ انکوائری اور احتساب ہو گا۔ وزیر اعظم نے یہ یقین دلایا کہ انہیں بیوروکریٹس کے سیاسی جھکاؤ سے کوئی غرض نہیں ۔ وہ صرف بہتر کارکردگی چاہتے ہیں۔اس سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتاہے کہ احتساب سیاسی جھکاؤ کی بنیاد پر نہیں ہو گا ہمہ گیر ہو گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ غلطیاں ہو سکتی ہیں لیکن کرپشن نہیں ہونی چاہیے۔ غلطیاں ہونے کی صورت میں وہ غلطیاں کرنے والوں کا ساتھ دیں گے کیونکہ غلطیاں وہی کر سکتے ہیں جو کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن احتساب تو سابق کارکردگی کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس کارکردگی کو غلطی سمجھا جائے گا یا کرپشن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ کیونکہ سابقہ کارکردگی ایک کلچر کا نتیجہ تھی جس میں اہل سیاست خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں خواہ سابقہ منتخب نمائندے ہوں ، خواہ صرف بااثر لوگ ہوں وہ بیوروکریٹس کو اپنے ''کام'' کرنے پر آمادہ کرنے پر قادر رہتے تھے۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ بیوروکریٹس کو سیاسی اثر و رسوخ سے تحفظ فراہم کریں گے۔ یہ بات بیوروکریٹس کو مخاطب کر کے کہی گئی ہے لیکن توقع ہے کہ منتخب اور غیر منتخب عوامی نمائندوں نے بھی سن لی ہو گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ لوگ جنہوں نے انتخابی مہموں پر (جیتنے اور ہارنے کے باوجود) کروڑوں روپیہ خرچ کیا ہے کیا وہ بھی بیوروکریٹس کو آزاد چھوڑ دیں گے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا ترک کر دیں گے۔ اگر بیوروکریٹس کو عملاً یہ اعتماد حاصل ہو جاتا ہے کہ ان کو ناپسند کرنے والے بااثر افراد ان کی جب چاہے تبدیلی نہیں کرو اسکیں گے ' ان پر انکوائریاں نہیں ڈلوا سکیں گے تو شاید بات بن جائے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دو سال کے اصلاحاتی ایجنڈے کے بعد بیوروکریٹس کی تنخواہیں اتنی ہو جائیں گی کہ انہیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس ضمن میں انہوں نے سنگا پور کی مثال دی ہے۔ لیکن سنگاپور کی معیشت کی بنیاد پاکستان کی معیشت سے مختلف ہے اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 1935ء میں کمشنر اپنی ایک ماہ کی تنخواہ سے 70تولے سونا خرید سکتا تھا ۔ لیکن شاید اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا کہ انگریز نے دو قسم کے تنخواہوں کے سکیل مقرر کیے ہوئے تھے۔ 1935ء میں شاید ایک بھی کمشنر دیسی نہیں تھا ۔ یورپی سکیل بہت بھاری ہوتے تھے۔ عمران خان نے اپنے والد کی تنخواہ کا بھی حوالہ دیا ہے لیکن آج بھی بیوروکریٹس کی تنخواہیں عام پاکستانیوں کی تنخواہوں کی نسبت بہت کم نہیں ہیں۔ ایک گریڈ کے خاکروب کو بھی بارہ ہزار روپے تنخواہ وقت پر ملتی ہے ' رہائش بھی ملتی ہے اور علاج معالجہ اور چھٹی بھی ملتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں اتنی تنخواہیں کون دیتا ہے۔ آج کے سینئر بیوروکریٹس کی تنخواہیں اور مراعات کم نہیںہیں اگر خواہشیں بے قابو نہ ہو جائیں جو بااثر افراد کا رہن سہن دیکھ کر امڈ پڑتی ہیں ۔ ان کی تنخواہیں اور مراعات پرآسائش زندگی گزارنے کے لیے کافی ہیں۔ اور پھر ان سینئر بیوروکریٹس کی تنخواہیں بڑھانے کی بات کرنا ایسا لگتا ہے جیسے یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ کرپشن تنخواہوں کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کرپشن پرتعیش زندگی کی خواہش کی وجہ سے ہوتی ہے اور پرتعیش اور بااثر زندگی انہیں بااثر لوگوں میں نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دو سالہ اصلاحاتی پروگرام کی وضاحت نہیں کی ہے۔ لیکن یہ جو دو سال کا وقت انہوں نے دے دیا ہے ظاہر ہے کہ یہ اصلاحاتی پروگرام کے مکمل نفاذ سے مشروط ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کوئی بڑا بھائی نہیں ہے جو انہیں سمجھا سکتا کہ چھ ماہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے نہ کرو صرف یہ کہو کہ جلد لوڈشیڈنگ سے نجات مل جائے گی۔ آج تک چھ ماہ کا وعدہ میاں شہباز شریف کا پیچھا کر رہا ہے ۔ دعا ہے اور امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ملک کی معیشت کو اپنے وژن کے مطابق مضبوط اور مستحکم کر سکیں اور ملک کو کرپشن سے پاک کر سکیں' اسی میں ہم سب کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے لیکن بیوروکریٹ ملک کے نہایت ذہین نوجوان ہوتے ہیں اور اس کے بعد سخت تربیت سے گزرنے اور تجربہ حاصل کرنے کے باوجود حکومت کے گھڑے کی مچھلیاں اور بیلے کی گائیں ہوتے ہیں۔ انہیں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے ان سے بہت سی توقعات بجا طور پر وابستہ کی جا سکتی ہیں، انہیں جب چاہے کہیں اور بٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشرے کو کرپٹ کرنے والا عنصر وہ ہے جو دو نمبری کے ذریعے اپنے ''کام '' نکلوانے پر آمادہ رہتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پنجابی محاورے کے مطابق کہ ''کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو '' بہت اچھا اقدام کیا ہے لیکن یہ جو بہوئیں ہوتی ہیں یہ ان کے پاس بہت سے چلتر ہوتے ہیں یہ توگھر کی مالک بننے کی آرزو میں مبتلا رہتی ہیں۔

متعلقہ خبریں