Daily Mashriq


بیداری یا شعور؟

بیداری یا شعور؟

بیداری اور شعور میں بنیادی فرق ہے' بیداری عموماً نوجوانوں میں اُبھرتی ہے' کبھی کسی مقصد کیلئے' کبھی کسی ایجنڈے کیلئے اور کبھی مذہب کیلئے لیکن مقصد پورا ہونے کیساتھ ہی بیداری ختم ہو جاتی ہے۔ ماضی میں بیداری کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں جن میں بڑی مثال مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کی دی جاسکتی ہے جب ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو بولنے کیلئے آواز دی تو پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن(PSF) اس قدر بیدار ہوگئی کہ بھٹوصاحبPSF سے خوفزدہ ہوگئے اور انہوں نے خود ہیPSF کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔ بھٹو صاحب کے بعد عمران خان نے نوجوانوں میں بیداری کو اُجاگر کیا اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی لیکن عمران خان کو پی ٹی آئی کے نوجوانوں کی جانب سے اس وقت سخت ردعمل دیکھنے کو ملا جب انہوں نے عاطف میاں کو اقتصادی امور کی ایڈوائزی دی، عمران خان کے اس فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کے اپنے نوجوانوں کی طرف سے اس قدر بھرپور آواز بلند ہوگئی کہ پی ٹی آئی کی قیادت اپنے نوجوانوں کی بیداری سے خوفزدہ ہوکر رہ گئی۔ اب شنید ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت پی ٹی آئی کے نوجوانوں کو کنٹرول کرنے کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں نوجوانوں کی جانب سے بھرپور ردعمل سے بچا سکے جبکہ شعور اس سے بالکل مختلف ہے۔ جب کسی قوم میں شعورآجاتا ہے تو وہ قوم ترقی کی بلندیوں سے ہمکنار ہوتی ہے اور کسی لیڈرکو یہ ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہ قومی شعور کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔تاریخ ِ بشریت شاہد ہے کہ سوشل سائنسز، فصاحت وبلاغت اور ادبی اسالیب کو پسِ پشت ڈال کر فکر وشعور کی بیداری کا کوئی بھی خواب کبھی بھی پورا نہیں ہو سکتا۔ ہمیں ہر لحظے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ انسان اپنے انسانی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ایک معاشرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ شعور کے اعتبار سے انسانی دنیا میں بنیادی طور پر تین طرح کے لوگ موجود ہیں۔ معاشرے کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنیوالے، ہوا کے رخ پر زندگی گزارنے والے اور معاشرے کو خراب کرنے اور بگاڑنے والے۔ معاشرے کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنیوالے یہ لوگ معاشرے میں اجتماعی شعور کو پروان چڑھانے کے حوالے سے متحرک، فعال، اجتماعی مسائل کا تجزیہ اور لوگوں کی رہنمائی کرتے ہوئے معاشرے کو ایک خاص سمت میں حرکت دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر معاشرتی تحریک کے پیچھے انہی لوگوں کا دماغ کام کر رہا ہوتا ہے اور انہیں دانشمند طبقہ کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر دانشمندوں کے مقابلے میں تین طرح کے لوگ سرگرم ہوتے ہیں۔ پڑھے لکھے مفاد پرست، نیم پڑھے لکھے اور ان پڑھ مفاد پرست۔ پڑھے لکھے مفاد پرست وہ ہوتے ہیں جو شعوری طور پر کسی معاشرے کو فاسد اور خراب کرنے کی مہم چلا کر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہ علمی طور پر ٹھوس اور فنی طور پر ماہر ہوتے ہیں۔ یہ اپنے علم وفن کی مدد سے معاشرے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ معاشرے کے کمزور پہلوؤں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے باقاعدہ نقشہ بناتے ہیں اور پھر اس نقشے کے مطابق ماحول تیار کرتے ہیں اور پھر ماحول سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی علمی وفکری بنیاد نہیں ہوتی، یہ یا تو غیرفعال ہوتے ہیں اور یا پھرسنی سنائی باتوں اور گرمام گرم خبروں پر ادھر ادھر کی ہانکتے رہتے ہیں، تجزیہ وتحلیل سے عاری ہونے کے باعث اگر یہ کچھ پڑھے لکھے بھی ہوں تو اس کے باوجود ان پڑھ جیسے ہوتے ہیں۔ جدھر کی ہوا چلے یہ بھی ادھر کا رخ کر لیتے ہیں۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو اجتماعی شعور کو پروان نہیں چڑھنے دیتے اور معاشرے کے امن وسکون کو تہ وبالا کرتے ہیں۔ اگر معاشرے میں امن وامان قائم ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلے گا کہ سوسائٹی کا پہیہ حرکت میں آئے گا۔ جس کے باعث لوگوں کو اپنے مسائل سلجھانے کیلئے غور وفکر کا موقع ملے گا، باہمی تعلقات کو فروغ ملے گا، افہام وتفہیم کے دروازے کھلیں گے۔ تعلیم عام ہوگی، ذہنوں سے زنگ اُتریں گے، یہ سب کچھ ہونے سے بعض لوگوں کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔چنانچہ مفاد پرست عناصر اپنے انفرادی یا گروہی مفادات کیلئے معاشرتی امن وسکون کو تہ وبالا کرنے کیلئے کمر کس لیتے ہیں۔ جس طرح دانشمند اجتماعی شعور کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح یہ مفاد پرست تخریبی گروہ اجتماعی شعور کو جڑوں سے اکھاڑنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری ہے کہ ارباب حل وعقد باہمی تعاون کے ذریعے ایک باشعور معاشرے کو تشکیل دیں۔ آپس کے تعلقات کو فراخدلی اور علم وہنر کیساتھ مضبوط کریں۔ معاشرے کے جس پہلو کی اصلاح کرنا چاہتے ہوں پہلے اس کا علم اور فن ضرور حاصل کریں۔ اس بات پر یقین رکھیں کہ دانشمندی علم حاصل کرنے اور علم کو ہنر میں تبدیل کر کے منظرعام پر لانے کا ہی نام ہے۔انسانی معاشرے میں سوشل سائنسز اور فکر وشعور کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایک دانشمند کو معلوم ہونا چاہئے کہ کسی پر تنقید کرنے، برا بھلا کہنے یا کسی کے عیوب ونقائص کو اچھالنے سے عوام کا شعور بلند نہیں ہوتا بلکہ شعور بلند کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق، دلکش پیرائے میں ٹھوس دلائل کیساتھ بات کی جائے۔ نئی منتخب حکومت کا اصل یہی امتحان ہے کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کرتے ہیں یا شعور؟۔

متعلقہ خبریں