Daily Mashriq


بس اتنا ہوجائے

بس اتنا ہوجائے

برٹنڈرسل نے کہا تھا کہ اگر آپ کو اپنی رائے کے برخلاف دوسری رائے ناراض کردے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لاشعوری طور پر اپنی بات کے غلط ہونے کا اندازہ ہے ۔ میں نے جب بھی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی بات پر غور کیا ہے ، اکثر اوقات یہ بات درست ثابت ہوئی ہے ۔ اور کمال بات یہ ہے کہ کئی بار غصے سے بھنبھناتے لوگوں کے رویوں کو اس پیمانے سے پرکھا ہے تو بھی دلیل کی بات سامنے عیاں ہوتی ہے ۔ پاکستان میں سیاست ایک طویل عرصے سے امراء کا کھیل تھی اور ہم اس بساط کے مہرے۔ ایک عرصے تک جھوٹی باتیں اور کھوکھلے دعوے ہمیں بہلانے کو استعمال کیے جاتے تھے اور ہم نہایت خاموشی سے سرجھکالیتے ، ہمیں اندازہ تھا کہ سب جھوٹ ہے لیکن پھر بھی کہتے تو کس کو کہتے اور کیا کہتے ۔ ہرجانب ایک سی وحشت ناچ رہی تھی ۔ ہر جانب ایک ہی جیسی پریشانی ہمارا راستہ روکے ہوئے تھی ۔ ایک طویل عرصے سے میں نے اپنے ملک کے بارے میں کوئی اچھی خبر نہیں سنی تھی۔ جب کوئی ان حکمرانوں کی بابت قدم بڑھاتاکوئی بات کرتا ، جمہوریت کو خطرہ ہونے لگتا ، گویا جمہوریت ان کے قدم سے تھی ، یہ جمہوریت کی مجسم صورت تھے ، وہ جنہیں نہ اس ملک کے قرضوں کا خیال تھا ، نہ اس ملک کے مستقبل کا جنہوں نے ملک کو سی پیک کے خواب بھی دکھائے تو اس طرح کے بجلی بنانے کے کارخانوں کو کوئلے کے کالے دھویں سے داغدار کیا اور بنا سوچے سمجھے کہ سی پیک کی سڑک پر گاڑیاں چلیں گی تو سات ہزار گلیشیئرز میں سے کتنے ناراض ہو جائیںگے اور ساڑھے تین ہزارسے کچھ زائد منجمد جھیلوں میں سے جن چند سو کی طبیعت کچھ ناساز ہونے لگی ہے وہ بہت جلد بیماری سے مرنے لگیں گے ۔ اس ملک میں قحط سالی اور سیلاب دونوں ہی نئی باتیں نہیں اور ان کے سد باب کے بارے میں بھی کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا ۔ کسی کو پرواہ ہی نہیں تھی ۔ وہ جمہوریت کی مجسم صورتیں ، جوا کثر اپنی جانب انگلی اٹھنے پر ناراض ہو جایاکرتی تھیں اور جن میں سے اکثر اب طاقت کے ایوانوں سے باہر بیٹھی ہیں ، صرف ان کے منظر عام سے ہٹ جانے سے ایک امید بندھنے لگی ہے ۔ ہم تو یوں بھی بادشاہ پرست لوگ ہیں ہمیں یہ تبدیلی دیکھنے میں بہت اچھی لگ رہی ہے ۔ جب اکثرروٹ لگنے کے باعث راستے بند ملا کرتے تھے ، اب ان راستوں پر محض چند پروٹوکول کی گاڑیاں دیکھ کر ہی دل خوش ہو جاتا ہے ۔ جب وزراء عام آدمی کی بات کرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی ذاتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں تو دل کو یک گونہ سکون محسوس ہوتاہے ۔ جب سوات سے لوٹ کر آنے والے سیاح کہتے ہیں کہ وہ پہاڑ جو درختوں سے خالی ہوگئے تھے ۔ اب ان پر بھی ہر یالی نظر آنے لگی ہے ۔ اور جب میرے جیسے عام لوگ یہ سوچ کر درخت لگاتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کے لیے آج یہ محنت ضرور کرنا ہوگی تو تب دل میں ایک یقین پیدا ہوتا ہے اور دل کے کسی کونے سے آواز آتی ہے میں بدل رہی ہوں ، لوگ بھی بدل رہے ہونگے ۔ ایک وزیراعظم جوہر وقت شلوار قمیض پہنے دکھائی دیتا ہے ۔ جس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہے ۔ ایک وزیرخارجہ جو دوست ملکوں سے بات کرتے ہوئے اردو کو ترجیح دیتا ہے اور اس میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتا ، ایک وزیرخزانہ جو مسلسل اپنے کام میں مشغول ہے ، ایک وزیر پلاننگ جس کی ترجیحات لوگ کہتے ہیں بالکل درست ہیں ۔ ایک وزیر ریلوے جو لوگوں کے کہنے کے باوجود غریب کی سواری کی منزلوں میں اضافہ کرنے سے نہیں چُوکتا ، ایک وزیر انسانی حقوق جو امریکی ایجنسی کو منہ توڑ جواب دینے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتی ، یہ لوگ دُھن کے پکے رہیں تو ناتجربہ کار سہی لیکن اس ملک کو مزید بگڑنے سے تو بچا ہی لیں گے ۔ ان کے وعدوں پر اعتبار کر کے لوگ ڈیم فنڈ میں بے شمار عطیات دے رہے ہیں ، یہ درست ہے کہ ڈیم چندے سے نہیں بنتے لیکن پاکستانی قوم کمال کی قوم ہے، یہ کیا کچھ کر سکتی ہے، اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ میں سوچتی ہوں کون جانے واقعی امید کہیں ہماری منتظر ہو۔ اگر عمران خان جیسا وزیراعظم ہم سے ہماری زندگی کے دو سالوں کی مشقت مانگتا ہے اور یہ یقین دہانی کرواتا ہے کہ پھر حالات بہتر ہونے لگیں گے تو میں یہ دو سال سر جھکا کر اس ملک کے لئے اس کے بہتر مستقبل کے لئے، بچوں کیلئے، دان دینے کو تیار ہوں۔ میں تیار ہوں کہ میں صبح سے شام تک محنت کروں تاکہ میرا ملک سنور جائے بالکل ایسے ہی جیسے اسرائیل کے قیام کے شروع کے دنوں میں یہودیوں نے کی تھی جنہوں نے کالے دلدل مٹی سے خود پاٹے۔ میں اور میری جیسی مائیں اپنے بچوں کے لئے، اس ملک کے لئے یہ دو سال تو کیا، دس سال بھی محنت کرنے کیلئے تیار ہیں، بس کہیں کوئی بہتری دکھائی دینی چاہئے۔ اور کچھ نہیں تو اس ملک کا موسم ہی بہتر دکھائی دینے لگے۔ ہم جیسے لوگ نہ پہلے جمہوریت سے مستفید ہوئے تھے نہ شاید اب پرواہ رکھتے ہیں۔ بس اتنا ہوجائے کہ میرے بچوں کو شام کو گلی میں کھیلنے میں کوئی خوف نہ ہو۔ بس ان کے لئے زندگی آسان ہو جائے۔ ان کی مسکراہٹ کی روشنی تیز تر ہو بس اتنا ہوجائے تو میں ہر قربانی کیلئے تیار ہوں۔

متعلقہ خبریں