Daily Mashriq


کوئی ایسا طریقہ، شہر ہوں خوشحال سارے

کوئی ایسا طریقہ، شہر ہوں خوشحال سارے

پہلے تو یہ پتہ کرنا پڑے گا کہ مارک ٹیلی کی روح کہیں دوبارہ تو زندہ نہیں ہوگئی، مگر اس سے بھی قبل آج کی نسل کو یہ بتانا پڑے گا کہ مارک ٹیلی کون تھا، دراصل مارک ٹیلی بی بی سی کا ایک نمائندہ تھا جو جنوبی ایشیاء کے ڈیسک کا انچارج تھا اور اب جب اس کے کرتوتوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ انگلستان کے ہمسائے یعنی رود بار انگلستان کے دوسرے سرے پر موجود فرانس کی سرحدات سے ملحق جرمنی کے گوئبلز کا شاگرد لگتا تھا، اور وہ کبھی کراچی، کبھی اسلام آباد اور کبھی نئی دہلی کے بیچ متحرک رہ کر بی بی سی کو جو رپورٹیں ارسال کرتا تھا اس میں پاکستان اور دہلی کے حالات کچھ ایسے انداز میں نمک مرچ لگا کر بیان کرتا کہ ان رپورٹوں پر ایمان لانا پڑتا۔ اس کی وجہ ان رپورٹوں کی سچائی سے زیادہ خود ہمارے ہاں ذرائع ابلاغ پر حکومت کی اجارہ داری اور پرنٹ میڈیا پر پریس ٹرسٹ جیسے ادارے کے توسط سے کنٹرول تھا، صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بی بی سی، وائس آف امریکہ، جرمنی ڈوئچے ویلے ریڈیو، ریڈیو کابل، آل انڈیا ریڈیو وغیرہ سچ جھوٹ کے آمیز سے ایسی خبریں نشر کرتے کہ حقیقت تلاش کرنا ایک مشکل امر ہوتا، پھر بھی لوگ اتنے ہوشیار ضرور تھے کہ ان بڑوں کو چھان پھٹک کے پیمانوں سے گزار کر اپنے مقصد تک پہنچ جاتے، ایسے میں دوسرے غیر ملکی نشریاتی اداروں کی نسبت بی بی سی پر زیادہ اعتماد کیا جاتا لیکن مارک ٹیلی پاک، بھارت تعلقات اور پاکستان میں ایوبی آمریت کے اندر کی خبریں کھوج کر بین السطور بہت کچھ بتا دیتا جس سے کہیں کہیں حکومتی پروپیگنڈے کی قلعی کھل جاتی مگر تب حکومتی حلقے اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکتے اور مارک ٹیلی کا رویہ بھی ایسا تھا جیسا کہ ہماری ایک غزل کا یہ شعر ہے کہ

خدا گواہ کہ مقصد نہ تھا دل آزاری

تمہارا ذکر تو بین السطور میں آیا

لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران سارا معاملہ ہی اُلٹ گیا اور ریڈیو پاکستان، بی بی سی اور آل انڈیا ریڈیو کے مابین مسابقت کی ایک دوڑ سی شروع ہوئی۔ آل انڈیا ریڈیو تو صرف جھوٹ بولتا رہا ریڈیو پاکستان کی نشریات نے ایسی دھوم مچائی اور اس دور کے نابغہ روزگار براڈکاسٹرز جن میں بطور خاص شکیل احمد، انور بہزاد، انیتا غلام علی سرفہرست تھے، وہ اپنے مخصوص لہجوں میں اردو انگریزی کے نیوز بلٹن اتنی مہارت سے پیش کرتے کہ لوگوں نے بی بی سی سننا بھی، تقریباً ترک کر دیا تھا۔ تب بی بی سی کے مارک ٹیلی کا جادو سر چڑھ کر بولنا تو درکنار اس کا تو ہر جگہ مذاق بن رہا تھا، یعنی بقول شاعر

اُلجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

تمہید طولانی ضرور ہے تاہم اصل مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کا پس منظر جاننا ضروری تھا اور وہ جو ہم نے کالم کے آغاز میں مارک ٹیلی کی روح کے دوبارہ زندہ ہونے کی بات چھیڑی ہے تو اس کا بھی ایک اپنا پس منظر ہے کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد مارک ٹیلی نے بھارت ہی میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی اور وہیں مر کھپ گیا تھا چونکہ ہند آواگون کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں یعنی مرنے کے بعد روح کا دوبارہ کسی اور شکل میں (گدھے، گھوڑے، کتے، بلی کی بھی کوئی تمیز نہیں) آجاتی ہے اور جب تک اسے شانتی یعنی سکون نہیں ملتا، یہ سات بار واپس آتی رہتی ہے، سات جنم کا فلسفہ بھی اسی سے جڑا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے مارک ٹیلی کے دوبارہ زندہ ہونے کا شوشا چھوڑا، اس کی بھی وجہ ہے اور وہی آج کے کالم کی بنیاد ہے کہ یہ جو چند روز پہلے وفاقی حکومت کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس سے چار ہیلی کاپٹرز اور درجنوں گاڑیوں کی نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا اس حوالے سے بی بی سی نے اپنی تازہ خبر میں بتایا ہے کہ چاروں ہیلی کاپٹرز ناکارہ اور ناقابل پرواز ہیں۔ گویا آج کا مارک ٹیلی یہ سمجھ رہا ہے کہ جو بھی ان ہیلی کاپٹرز کو خریدے گا بعد میں یہ کہہ کر روئے گا کہ

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت ان لگژری گاڑیوں اور ہیلی کاپٹرز کو بیچ کر ملک میں خوشحالی لانے کا بندوبست کرنا چاہتی ہے، بالکل اس شاعر کے خواب کی طرح جس نے کہا تھا

ملے ایک بار بچوں یا پرندوں کو حکومت

کوئی ایسا طریقہ شہر ہوں خوشحال سارے

اس خواہش کے پیچھے وہ حالات بلکہ تلخ حقائق ہیں جن کی وجہ سے ایک مخصوص طبقے کے علاوہ باقی سارے پاکستان کے غریبوں کے سارے خواب چھین لئے گئے ہیں اور غریبوں کے بچے حصول تعلیم کے بجائے آنکھ کھلتے ہی اپنے خاندانوں کے بڑوں کیساتھ روزی روٹی کمانے منہ اندھیرے ہی گھروں سے نکل جاتے ہیں اور اپنی محنت سے اپنے رزق کا بندوبست کرنے پر مجبور کئے جا چکے ہیں۔

مرے حصے میں کتابیں نہ کھلونے آئے

خواہش رزق نے چھینا مرا بچپن مجھ سے

سارا سارا دن خون پسینہ بہاتے ہوئے اپنے معصوم ہاتھوں سے محنت مزدوری کر کے جو روکھی سوکھی یہ لاتے ہیں اور اہل خاندان کیساتھ مل بانٹ کر کھاتے ہیں اس وقت ان کے چہروں پر ان شوخیوں کی جگہ مستقبل کے حوالے سے گمبھیر سوالات آسانی سے پڑھے جا سکتے ہیں جو اس شعر کی تفسیر بن جاتے ہیں کہ

غریبوں کی یہ بستی ہے کہاں سے شوخیاں لاؤں

یہاں بچے تو رہتے ہیں مگر بچپن نہیں رہتا

متعلقہ خبریں