Daily Mashriq


اذن عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

اذن عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

یہ ان دنوں کی بات ہے جب اپنی بٹیا شہقاز فاطمہ زندہ تھی اور وہ موقع پاتے ہی مجھے کسی موضوع پر کچھ کہتے رہنے کی فرمائش کر دیتی تھی، ان دنوں دنیائے آب وگل کے اسیروں کو ایک ایسی خبر سننے کو ملی کہ زمین والے ٹکٹکی باندھ کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ نیلے گگن کے اس پار سے آنے والی سچ مچ ایک بہت بڑی خبر تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے کرۂ ارض کے گوشے گوشے میں پھیل گئی۔ اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ کہکشاں کہکشاں تیرنے والے ستاروں میں سے ایک سیارے کا گزر ہماری زمین کے قریب سے ہونے والا ہے۔ وہ زمین کے قریب سے گزرے گا تو کشش ثقل کی وجہ سے زمین کی طرف لپکے گا اور یہاں ایک دم سے بھونچال آجائیں گے، سمندر کا پانی اچھل کر خشکی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور خاکم بدہن قیامت آجائے گی قیامت سے پہلے۔ اس خبر نے لوگوں کے دلوں میں ایک خوف دہشت اور سراسیمگی کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی اور لوگ آسمان پر چمکتے ستاروں کی طرف دیکھ کر الحفیظ والامان کا ورد کرنے لگے تھے۔ شہقاز فاطمہ نے آسمان پر جھلملاتے ستاروں کی طرف دیکھ کر راقم السطور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ''ڈیڈی یہ جو ستارہ یا سیارہ زمین پر گرنے والا ہے اگر ہم پر آن گرا تو کیا ہوگا''۔ وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا، میں نے شہقاز کی بات کا مختصر اور آسان سا جواب دیتے ہوئے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے پالتو طوطے کے لٹکتے ہوئے پنجرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ دیکھو تم نے اپنے میاں مٹھو کو اس کے پنجرے میں بند کر رکھا ہے۔ تم بتا سکتی ہو کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ اس لئے کہ کہیں یہ اُڑ نہ جائے یا کوئی بلی، کتا یا اس قبیل کا دوسرا جانور اس پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ جس طرح ہم نے مٹھو کی حفاظت کیلئے پنجرہ خرید کر اسے اس میں بند کر رکھا ہے بالکل اسی طرح اللہ میاں نے زمین والوں کی حفاظت کیلئے بھی کرۂ ارض کے گرد ہوا کا ایک ایسا غلاف بنا رکھا ہے جس میں سے گزر کر کوئی چیز بھی زمین پر پہنچتے پہنچتے جل کر بھسم ہو جاتی ہے اور اس کا وجود راکھ میں تبدیل ہوکر فضاؤں میں بکھر جاتا ہے۔ ہماری زمین پر آئے روز بے شمار شہابئے گرتے رہتے ہیں جن کے گرنے کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کیونکہ ہم جو اس زمین پر رہنے والے اللہ میاں کے مٹھو ہیں اور اس کی حمد وثناء کرتے رہتے ہیں، میں اپنی بیٹی کو یہ ساری باتیں سمجھا رہا تھا لیکن ان دنوں سطح زمین پر رہنے والوں کیلئے کرۂ ارض پر لپٹے ہوئے ہوا کے غلاف کے اوپر بنے اوزون نامی گیس کے حصار کے متعلق مجھے خاص علم نہیں تھا سو میں اس پر اپنی بے وقعت سی علمیت کا رعب ڈالنے کیلئے اس کا بھی تذکرہ کر دیتا۔ اوزون لیئر یا اوزون کی تہہ کے بارے میں ہماری علمیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب زمین والوں کے کرتوتوں کے سبب اس میں چھید یا شگاف پڑجانے کی خبر ہم تک پہنچی۔ ہمیں بتایا گیا کہ زمین پر مشینوں کی گھن گرج اور ان سے نکلنے والی گرمی کے سبب اوزون کی تہہ میں شگاف پڑ گیا ہے اور یوں سورج کی وہ تابکار شعاعیں بھی بلا روک ٹوک سطح زمین کی طرف آنے لگی ہیں جو زمین پر رہنے والوں کیلئے نہایت خطرناک ہیں۔ اس خطرے سے نپٹنے کیلئے ہم نے اوزون کی تہہ کی حفاظت کرنی ہے اور اسے مزید نقصان پہنچانے سے بچانا ہے۔ 1974میں نہ صرف اوزون کی تہہ کی حفاظت پر زور دیا گیا بلکہ دنیا والوں کو یہ بات بھی بتا دی گئی کہ اگر ہم یوں ہی اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کو فضا میں چھوڑتے رہے اور مشینوں کی گرگراہٹ سے پیدا ہونے والی گرمی پر قابو نہ پاسکے، درختوں اور جنگلات کی کٹائی کرکے پلازے اور کالونیاں تعمیر کرتے رہے تو صرف 75سال کے عرصے میں ہم اوزوں کی تہہ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ چارہ گروں کو اس مسئلہ سے نپٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت تھی، سو اس کیلئے 1994ء میں اقوام متحدہ نے ہر سال آج کے دن اوزون کی تہہ کی حفاظت کا دن منانے کی ٹھانی اور تب سے اب تک ہر سال 16ستمبر کو اوزون کی حفاظت کا دن منایا جانے لگا تاکہ لوگوں کو اس حالت زار سے آگاہ کیا جاسکے جو گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بہت بڑا خطرہ بن کر پروان چڑھ رہی ہے۔ آج کا انسان تعمیر وترقی کی بہت سی منزلیں طے کرکے اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک نہیں بہت سے خطروں کی گھنٹیاں بج بج کر اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہی ہیں، جن میں سے ایک نہایت اہم گھنٹی اوزون کی تہہ میں پڑنے والے وہ شگاف ہیں جن کی رفوگری انسان کے بس سے باہر ہے۔ شاید خالق کن فیکون اپنے دست قدرت سے مٹھو کے پنجرے کی مرمت کر دے ہم سب اس ہی آس پر جی رہے ہیں اور نہایت تیقن سے کہتے رہتے ہیں کہ

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے

دکھائی بھی نہ دے، نظر بھی جو آرہا ہے، وہی خدا ہے

لیکن ہم نے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کیلئے اس آفاقی سچ کو بھی نہیں بھولنا کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

ہم من حیث القوم بائیس کروڑ درخت روز لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس طرح کرنے سے ہم جہاں اپنے ملک کو گل گلزار بنا سکتے ہیں وہاں گلوبل ویلج کے لوگوں کیساتھ مل کر ہر ناگہانی آفت کی کلائی موڑ سکتے ہیں۔ اذن عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

متعلقہ خبریں