Daily Mashriq

امریکی ارکان کانگریس کا موقف

امریکی ارکان کانگریس کا موقف

مقبوضہ کشمیر میں جاری بد ترین کرفیو‘ پابندیوں اور کشیدگی پر امریکی ارکان کانگریس نے پاکستان اور بھارت کو خط لکھ کر مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ میں مقیم کشمیریوں کا ان کے اہل خانہ سے رابطہ بحال کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری مواصلاتی پابندیاں ختم کرے اور وادی میں صحافیوں کو جانے کی اجازت دے۔ بھارتی حکومت تمام گرفتار کشمیریوں کو رہا کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے۔ ارکان کانگریس جن میں الحان عمر‘ جیمز میک‘ ٹیڈلو شامل ہیں نے پاکستان اور بھارت کو آپس میں کشیدگی کم کرنے کا بھی کہا ہے۔ علاوہ ازیں امریکی قانون سازوں کے ایک اور گروپ نے مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ علاقے میں پابندیوں کے خاتمے‘ ذرائع مواصلات کی بحالی اور گرفتار افراد کی رہائی کے لئے بھارت پر دبائو ڈالیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تعمیری کردار ادا کریں۔ امریکی سینیٹ کے ارکان کرس وین ہولیں‘ ٹوڈینگ‘ بین کارڈین اور لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیری عوام کی مشکلات بد سے بد تر شکل اختیار کر رہی ہیں۔ خط میں امریکی صدر کو ان کی ثالثی کی پیشکش بھی یاد کرائی گئی۔ دریں اثناء امریکی اراکین کانگریس راشدہ طیب اور بریڈ شرمین نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35/A کی منسوخی کی شدید مذمت کی۔ ادھر برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے‘ کشمیر کی صورتحال سے دنیا بھر کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ دنیا بھارتی اقدامات کا نوٹس لے رہی ہے اور ان اقدامات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قرار دیتی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے باز آئے۔ امریکی کانگریس اور سینیٹ کے اراکین کے ساتھ ساتھ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن کی تشویش اس بات کی غماض ہے کہ رفتہ رفتہ دنیا کا ضمیر جاگ رہا ہے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے دیگر اداروں نے بھی بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکمرانوں کو مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنے کے مطالبات کئے ہیں۔ اسلامی امہ کی تنظیم او آئی سی نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار کو مظالم بند کرنے کا بیان جاری کیا جبکہ اب امریکی اراکین سینیٹ و کانگریس نے جو خط ارسال کیاہے جس میں پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کو ان کی ثالثی کی پیشکش کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ امید ہے کہ امریکی صدر اپنے ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین کی جانب سے توجہ دلانے پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ختم کرانے میں تعاون کریں گے۔

گدا گروں کی بھر مار

روزنامہ مشرق پشاور کے سٹی رپورٹر کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور میں کمسن بچوں و بچیوں اور خصوصاً خواتین گداگروں نے ڈیرے ڈال دئیے ہیں جس کی وجہ سے شہر بھر میں مقامی اور پنجاب سے آئے ہوئے گداگروں کی بھرمار ہے۔ جگہ جگہ پیشہ ور گدا گر بھیک مانگتے پھر رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے خریداری کے لئے آنے والے افراد اور تاجر برادری پریشانی کاشکار ہے جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے اس صورتحال پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جہاں تک پیشہ ور گدا گروں کا تعلق ہے تو یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا بلکہ موسم کی تبدیلیوں کے ساتھ صوبائی دارالحکومت پر مختلف علاقوں سے گدا گر یلغار کئے رکھتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں زیادہ تر پنجاب کے مختلف علاقوں سے ان گدا گروں کی ٹولیاں وارد ہوتی ہیں جو نہ صرف بااروں میں خریداری کے لئے آنے والی خواتین کو مختلف طریقوں سے پریشان کرکے ان سے بھیک بٹورتی رہتی ہیں بلکہ موقع پا کر یا تو ان سے زبردستی بھیک وصول کرلیتی ہیں اور تب تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں جب تک بھیک نہ مل جائے یا پھر ان کے پرس چھین کر فرار ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح مختلف چوکوں پر جہاں ٹریفک سگنل لگے ہوتے ہیں یا پھر ٹریفک اہلکار ٹریفک رواں رکھنے کے لئے باری باری کبھی ایک جانب اور کبھی دوسری طرف سے آنے والی ٹریفک روک دیتے ہیں تو کھڑی ہو جانے والی گاڑیوں پر یہ بھکاری یلغار کردیتے ہیں۔ اسی طرح سردی کے موسم میں برف سے ڈھک جانے والے بالائی علاقوں سے ایک خاص نسل کی خواتین اور بچے جگہ بہ جگہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ کسی زمانے میں ان بھکاریوں کے لئے سرکاری سطح پر دارالامان بنائے گئے تھے اور پولیس بھکاریوں کو وہاں پہنچا کر عوام کو ان کے چنگل سے بچا لیتی تھی مگر اب شاید حکومت نے بھی توبہ کرلی ہے اس لئے عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیا ہے۔ کیا انتظامیہ اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈ نہیں سکتی؟

مرغی کی اونچی اڑان

پشاور میں جہاں دیگر اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں ہو شر باء اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور عوام اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں وہاں عید قربان کے بعد اب مرغی کی قیمتوں میں بھی اچانک اضافے کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خبروں کے مطابق مرغی کی قیمت میں یک لخت 24روپے فی کلو کااضافہ کردیاگیا ہے۔ یہ اضافہ محرم کے دنوں سے نوٹ کیاجا رہا ہے جبکہ اب شادیوں کا سیزن شروع ہو جانے کی وجہ سے ریٹ میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوام کو لوٹنے کا جس کو بھی موقع ملتا ہے وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے‘ تاہم انتظامیہ کہاں سوئی ہوئی ہے اور وہ اس قسم کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں کب پوری کرے گی۔

متعلقہ خبریں