Daily Mashriq

دما دم اللہ ہو

دما دم اللہ ہو

آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں اوزون کے تحفظ کا عالمی دن منایا جارہا ہے ، ہمیں کچھ معلوم نہ ہوپاتا کہ اوزون اور اس کی تہہ کیا ہے اگر 1970ء میں سائنس دان انکشاف نہ کرتے کہ کرہ ارض کے گرد تنے ہوئے ہوئے ہوا کے غلاف کے اوپر آکسیجن کے تین جوہروں یا تین ایٹموں کے کیمیائی ملاپ سے بننے والی گیس کی ایک دبیز تہہ موجود ہے جسے اوزون گیس کی تہہ کہتے ہیں اور زمیں والوں کے کرتوتوں کے سبب اس میں شگاف پڑگئے ہیں ، جو زمین اور زمین پر رہنے والوں کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں ، اس سلسلہ میں 1987ء کے دوران عالمی برادری کے چند ملکوں نے مونٹریال میں اکٹھے ہوکر ایک معاہدے پر دستخط کئے جس میں اس تشویشناک صورت حال سے نپٹنے کے متعلق سوچا جانے لگا ، اوزون کی تہہ میں شگاف پڑنے کا مسئلہ جب اقوام متحدہ کے ایوان تک پہنچا تو 1995کے دوران ایک قرار داد منظور کی گئی جس کے تناظر میں ہر سال 16ستمبر کو اوزون کے تحفظ کا عالمی دن منایا جانے لگا۔ اوزون گیس کی تہہ زمین کی سطح سے 15 سے 55 کلو میٹر تک کے فاصلے پر موجود ہے ۔ اگر چہ اوزون گیس کو انسانوں اور جانوروں کے نظام تنفس کے لئے ہر گز مفید نہیں گردانا جاتا تاہم اس گیس کی دبیز تہہ زمین پر زندگی کے شب و روز گزارنے والوں کے لئے اس حوالے سے قدرت کا بے بہا عطیہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ہمیں سورج کی سطح پر اک تواتر سے ہونیوالے ہائیڈروجن بم کے دھماکوں سے خارج ہونے والی بالائے بنفشی شعاعوں کی تابکاری کے اثرات سے بچاتی رہتی ہے، اک چادر بن کر تنی رہتی ہے ہوا کے دوش پر اوزون گیس کی یہ تہہ۔ ایک چھلنی کا کردار ادا کر تی ہے جس کے باعث زمین پر بسنے والے جانور اور انسان مختلف اقسام کے کینسر اور جلدی امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ اوزون گیس کی اس تہہ کی وجہ سے سطح زمین کا درجہ حرارت اس قدر نہیں بڑھتا جتنا اس کی غیر موجودگی میں تباہ کن حد تک بڑھنے کے امکانات ہیں ، اگر ہم کرہ ارض کی فضا میں پھیلی ہوا کو کسی برتن میں پڑے ہوئے اس دودھ سے تشبیہ دیں جس کو گرم کرنے سے اس کی اوپری سطح پر بالائی کی تہہ جم جاتی ہے جو گردو غبار کے علاوہ مختلف النوع جراثیم کو دودھ میں شامل ہونے سے روکتی ہے تو بعینہ کرہ ارض کے چہار سو پھیلی ہوا کے اوپری حصہ پر اوزون گیس کی تہہ کی موجودگی نہ صرف سورج کی شعاعوں ، بلکہ کائنات کے دیگر ستاروں سیاروں اور اجرام فلکی سے نکلنے والی مضر شعاعوں کے تابکاری اثرات کو روک کر نہ صرف بندگان خدا کا تحفظ کرتی ہے بلکہ ہمہ وقت حمد و ثناء کرتے چرند پرند اور شجرو حجر کی زندگی کو بھی گزند پہنچانے سے روکتی ہے۔ اور یوں ہم سب صدق دل سے پکار پکار کر کہہ اٹھتے ہیں کہ

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آرہا ہے، وہی خدا ہے

کہتے ہیں کہ ہرنو مولود بچہ اس دنیا میں یہ پیغام لیکر آتا ہے کہ قدرت خداوندی نسل انسانی سے مایوس نہیں ہوئی۔ زمیں ماں میں ابھی اتنا دم ہے کہ وہ اپنے وجود پر 7 ارب 40 کروڑ سے بھی زائد بچوں کا نہ صرف بوجھ سہارے ہوئے ہے۔ بلکہ ان کے لئے خوراک پانی اور آکسیجن بھری تازہ ہوا کا بھی انتظام کر رہی ہے۔ مگر دنیا بھر کے سائنس دانوں اور انسانیت کا درد رکھنے والے دانشوروں کو یہ فکر بھی لاحق ہے کہ زمین پر زندگی گزارنے والی آبادی میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہورہا ہے اس ہی تیز رفتاری سے اوزون کی تہہ میں شگاف پڑنے کا سلسلہ جاری ہے ، اگر صرف آبادی بڑھتی رہتی تو شائد اتنے خدشات جنم نہ لیتے۔ آبادی کے بے تحاشہ اضافہ کے ساتھ زمین والے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو مشینوں کی حکومت کے دور میں محسوس و محصور سمجھنے لگے ہیں ، یہ وہی دور ہے جس کے متعلق شاعر نے کہا تھا کہ

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت

احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

ہم مشینوں کی گھن گرج میں زندگی کے کٹھن لمحات گزار رہے ہیں۔ شور کی آلودگی میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ مشینوں سے نکلنے والی حرارت ، دھول ، غبار اور کاربن ڈائی اوکسائڈ، فیکٹریوں ، کارخانوںاور چہار سو پھیلے کنکریٹ جنگل کے مکانوں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں سڑکوں پر دندناتی ٹریفک کا جم غفیر ، ہر گاڑی کے سائلنسر سے نکل کر فضاؤں کر پرا گندہ کر تا دھواں ، جن سے پیدا ہونے والی حدت اور مضر صحت گیسوں نے ہوا کے دوش پر اوپر ہی اوپر اڑکر اوزون کی تہہ میں شگاف پیدا کردئیے ہیں ، جن کے زیر اثر موسموں میں تبدیلی کے واضح اثرات اب سے ظاہر ہونے لگے ہیں ، خاکم بدہن بس ایک آدھ جھٹکے کی کسر رہ گئی ہے، دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں نے ایک دوسرے کو ڈرانے یا نیچا دکھانے ہی کی غرض سے ہی سہی درجنوں ایٹم بم بنا کر دھونس دھمکیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ، خدا نخواستہ اگر زمین والے ایٹمی جنگ چھیڑ دیں تو اوزون کی تہہ میں بننے والے شگاف پوری کی پوری اوزون کی تہہ کو لے اڑیں گے ، دنیا والے یہ سوچ کر تھر تھر کانپ رہے ہیں اور ہم جیسے اللہ والے زمین والوں کی تباہی کے اس منظر نامہ کے بارے میں سوچ سوچ کراللہ خیر اللہ خیر کا ورد کرتے ہوئے یہ آفاقی سچ دہرانے پر مجبور ہیں کہ

تو بھی فانی میں بھی فانی ، فانی سب سنسار ، دما دم اللہ ہو

باقی ذات اسی کی جو ہے سب کا پالن ہار ، دما دم اللہ ہو

متعلقہ خبریں