Daily Mashriq

’کلر روبوٹ قتل و غارت کے باعث بن سکتے ہیں‘

’کلر روبوٹ قتل و غارت کے باعث بن سکتے ہیں‘

گوگل سرچ انجن سے مستعفیٰ ہونے والی سافٹ ویئر انجینئر نے خبردار کیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے حامل جدید خود کار ہتھیار (کلر روبوٹ) کی غلطی کے نتیجے میں جنگ اور جنگی جرائم کا آغاز ہوسکتا ہے۔

کلر روبوٹ کا مقصد ہدف کا تعین اور خود حملہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ لایورہ نولان نے گزشتہ برس گوگل سے استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ انہیں امریکا کی ڈرون ٹیکنالوجی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو مزید وسعت دینے کے منصوبے پر تعینات کیا گیا تھا۔

دی گارجین مٰیں شائع رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی ڈرون میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہدف کا تعین انسان کی دسترس میں نہیں رہے گا، جس پر پابندی عائد ہونی چاہیے‘۔

مستعفیٰ ہونے والی سافٹ انجینئر نے کہا کہ ’آرٹیفیشنل انٹیلی جنس کے حامل کلر روبوٹ کو انسان کنٹرول نہیں کر سکے گا ایسی مشینوں پر پابندی ہونی چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عسکری ٹیم ڈرون کو ہزاروں میل کی مسافت سے کنٹرول کرتے ہیں لیکن کلر روبوٹ میں تباہ کی پوری صلاحیت ہوگی اور وہ کسی خاص پروگرام کے تحت ایسا نہیں کرے گا‘۔

لایورہ نولان کلرروبوٹ کے خلاف مہم کا حصہ بن چکی ہیں اور انہوں اقوام متحدہ کے سفیروں کو نیویارک اور جنیوا میں کلرروبوٹ کے بارے میں بریف بھی کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’کلر روبوٹ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر واقعات پیش آسکتے ہیں کیونکہ یہ مشین غیرمتوقعہ انداز میں اپنا کام کرے گی اور اسی وجہ سے جدید ہتھیار کو بامقصد بنانے کے لیے انسانی ہاتھ میں اس کا کنٹرول دیاجاتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کلرروبوٹ پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ ان کے بارے میں قیاس ناکافی اور خطرناک ہے‘۔

خیال رہے کہ گوگل نے لایورہ نولان کو 2017 میں پہلی مرتبہ ’پراجیکٹ ماوین‘ میں بطور سافٹ ویئر انجینئر مقرر کیا اور محض 4 برس میں ہی وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگئی تھیں۔

انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کے پراجیکٹ ماوین (ویڈیو ٹیکنالوجی کے ذریعے شناخت کے عمل کو مزید تیز) بنانے کے منصوبے پر کام کیا تھا۔

بعدازاں امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ گوگل کا معاہدہ اس وقت ختم ہوگیا جب پراجیکٹ ماوین سے وابستہ کام کرنے والے 3 ہزار احتجاجاً منصوبہ کے خلاف پٹیشن دائر کی۔

لایورہ نولان نے بھی اسی متنازع منصوبہ پر استعفیٰ دیا تھا اور پیش گوئی کی تھی کہ ریموٹ کنٹرول ڈرون کے مقابلے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مشتمل ہتھیاروں سے انسانیت کو زیادہ خطرہ ہے۔

متعلقہ خبریں